پیسوں کے ڈاکٹرز

Spread the love

تحریر: ثناءاللہ خانزادہ

آج کل آپ نے ہر شہر میں قصائی دیکھے ہونگے پاکستان کے ہر شہر میں اپ کو اگر قصائی کی ضرورت ہو تو اپ کو آسانی سے مل جائینگے بس یہ ہے کے آپ کو اگر کھبی جانا ہوا تو آپ اپنے جیبوں کا خاص خیال رکھیں وہ یہ کہ اپنے جیب اور بٹوا کو پیسوں سے بھر دے تا کہ یہ قصائی اپ کو اچھے طریقے سے ذبح کرسکے یہ کوئی عام قصائی نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ ہمارے پڑے لکھے ڈاکٹر حضرات ہیں جو کہ MBBS کر کے ڈاکٹر نہیں بلکہ قصائی بنے ہوئے ہے آپ حیران ہونگے کہ آخر میں ان پڑے لکھے ڈاکٹرز کو قصائی کیوں کہہ رہا ہوں حالانکہ یہ تو قصائی نہیں ہیں بلکہ محنت کر کے یہاں تک پہنچے ہیں وہ اس لئے کہ یہ سچ میں ڈاکٹرز نہیں ہیں
بلکہ یہ قصائی ہیں جو کہ سادہ لوح لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں یہ صرف اور صرف پیسوں کے ڈاکٹرز ہوتے ہیں ان لوگوں میں ذرا سا بھی خلوص اور ایمان داری نہیں ہیں بس یہ مریض کے مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں یہ لوگ سرکاری ہسپتالوں میں الگ روپ میں ہوتے ہیں اور پرائیوٹ اور اپنے ذاتی کلینک میں الگ روپ میں ہوتے ہیں آپ اگر انکے ذاتی کلینک یا پھر پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے جائینگے تو وہ اپ کو خوب سے پہچان جائیں گے بلکہ یہ آپ کو اپنے نام سے پکاریں گے آپ کو تھوڑی بہت حیرانگی ضرور ہوگی کہ یہ کتنے اچھے ڈاکٹر ہے میرا نام تک ان کو یاد ہے اور اپ کو بہت اچھا محسوس ہوگا کہ فلاں ڈاکٹر نے مجھے اپنے نام سے پکارا وہ مجھے جانتے ہیں بلکہ آپ اپنے دوستوں اور اپنے آس پاس پڑوس سب کو بتائیں گے کہ جب بھی آپ کو اگر ڈاکٹر کی ضرورت ہوا تو فلاں ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائے اپ یقینا اسی ڈاکٹر کا نام بتادیں گے جس نے اپ کو اسکے اپنے ذاتی کلینک یا پھر پرائیویٹ ہسپتال میں ان سے علاج کرایا ہو اور وہی ڈاکٹر جس نے اپ کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کیا ہو اس سے اگر آپ سرکاری ہسپتال میں علاج کرائیں گے تو وہ آپ کو مریض کی نظر سے نہیں بلکہ ایک گاہک کی نظر سے دیکھیں گے کہ یہ میرا پکا گاہک ہے۔
یہ حضرات اس قدر بےحس اور ظالم ہوتے ہیں کہ نہ یہ غریب کو دیکھتے ہیں اور نہ بے بس لا چار کو بس علاج کے نام سے خوب لوٹ مار کرتے ہیں میں سب ڈاکٹرز کے خلاف نہیں ہوں بلکہ اس دنیا میں اچھے ڈاکٹرز بھی ہونگے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب ڈاکٹرز ایک جیسے ہیں اچھے بھی ہونگے لیکن یہ ہے کہ اچھے اپ کو بہت کم ملینگے بس ان کی سوچ صرف پیسوں تک ہے ان میں انسانیت کی نام کی کوئی چیز بھی نہیں ہوتی یہ حضرات اپنے بچوں کو بھی یہی سکھاتے ہیں کہ بڑے ہو کر ہماری طرح ڈاکٹر کی شکل میں ایک اچھے سے قصائی بن جائیں تاکہ خوب کمائی کر سکے ہماری سوچ دل دماغ سب پیسوں پر ہیں ہم اپنے بچوں کو میڈیکل کی طرف اس لئے لے جاتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہو کر ڈاکٹر کی شکل میں ایک اچھے سے قصائی بن جائیں اور لوگوں کو لوٹ سکے ہم یہ نہیں سکھاتے کہ بیٹا بڑے ہو کر ایک ایمان دار ڈاکٹر بنے تاکہ اپ ان غریب لا چار بے بس لوگوں کی خدمت کرسکے ہماری سوچ سچ میں ظالمانہ والی سوچ ہے ہم کسی کا خیال نہیں رکھتے ہے اور نہ ہم جیسے لوگ خیال رکھ سکتے ہے ہماری سوچ سے انسانیت بالکل ختم ہوچکی ہیں اس طرح لگ رہا ہے کہ انسانیت اپنی آخری سانس لے رہی ہے وہ معاشرہ کھبی بھی ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانیت کے بارے میں نہ سوچے ہم ظلم کرتے ہیں چوری کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے ہیں کہ یہ سب عرضی طور پر ہیں ہم سے ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا کاش ہم یہ سمجھتے کہ ان سب کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ہم گناہ تو کرتے ہیں لیکن افسوس نہیں کرتے اس سے مجھے اقبال کی ایک خوبصورت سا شعر یاد آیا کہ
ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر گناہ کرتا ہے خود لعنت بھیجتا ہے شیطان پر
خدا راہ اپنے اپ کو اور اپنے بچوں کو قصائی بننے سے بچائیں اور ایک اچھے انسان کی طرح انسانیت کو بچائیں
اللہ ہمارے سوچ اور فکر کو اس طرح بنا دے کہ صرف اور صرف انسانیت کے لیے وقف ہو پیسوں کے لیے نہیں امین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!