سائنس اور مذہبی لوگ

Spread the love

تحریر : غلام مصطفٰی (جی۔ایم)


سائنس ایک منظم علم ہے اور مزید علوم حاصل کرنے کا ایک مستند طریقہ کار بھی ہے ۔سائنسدان جو بات یا عمل کہتے اور کرتے ہیں اس کے پیچھے تجربات اور ٹھوس شواہد ہوتے ہیں ۔
جو لوگ سائنس کو دجال کی شکل میں دیکھتے ہیں اور مذہب اور مذہبی خداؤں کا دشمن سمجھتے ہیں ۔
ان ناقص الاعقل سے میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ سائنس کا اچھی طرح سے مطالعہ کی جئیے ۔
تھیوریز اور قانون میں فرق سمجھئیے۔
تھیوریز میں ترمیم ممکن ہے اور سائنسی قانون ایک کائناتی اصول ہے جسے کبھی جٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔
اب اگر کوئی شخص مذہبی فرد کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ
بھائی! سائنس علم ہے ،اِس میں ہوائی باتیں نہیں ہوتی ہیں۔ سائنسی ہر قول و فعل کے پیچھے بے شمار مشاہدات اور تجربات ہوتے ہیں ۔
لیکن نہیں جناب! مذہبی فرد تو جوش میں آجاتا ہے اور بڑے فخر سے بولنے لگتا ہے
سائنس مردے کو زندہ کرے
کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی ؟
سائنس بتائے کہ موت کے بعد کیا ہوگا ؟
سائنس یہ بتائے کہ یہ پوری کائنات کیسے وجود میں آئی ہے ؟
یہ سب پوچھنے کہ بعد مذہبی فرد بڑا ٹھاٹھ ہوکر کہتا ہے کہ بیٹا سائنس وائنس کچھ نہیں ہے یہ سب دھوکا ہے۔
اِس طرح کے فرد سے میں کوشش کرتا ہوں کہ بات ہی نہ کروں۔ کیونکہ کوئی بھی صاحب علم نہ اِس طرح کی باتیں کرسکتا ہے اور نہ ہی بے بنیاد چیزوں پر اڑ سکتا ہے۔
بحرحال ان حضرات کے کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلیے میں ایک مختصر تحریر لکھ رہا ہوں۔
اگر میں کسی مذہبی فرد سے پوچھوں کہ
صاحب محترم! سب سے پہلے مجھے یہ بتائیں کہ
سائنس کس بَلا کا نام ہے جس سے آپ اتنا خوف زدہ ہیں ۔
ان میں سے 70 فیصد افراد تو اِس بات کا علم بھی نہیں رکھتے ہیں کہ سائنس کہتے کسے ہیں اور اِس کی بنیادی تعریف کیا ہے۔
دوسرا سوال میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ
صاحب محترم! آپ یہ بتائے کہ
آپ کے گھر میں بجلی ہے یا آپ کے پاس موبائل ہے
یا آپ کے پاس کپڑے ہیں یا آپ کے پاس سم ہے
یا آپ کے پاس ڈاکٹر کی دوائی ہیں یا آپ کے پاس کھینچی ہے
یا آپ کے پاس سوئی ہے یا آپ کے گھر میں آگ پر روٹی پکائی جاتی ہے
یا آپ گھر میں آگ پر سالن بنایا جاتا ہے یا آپ کے گھر میں چار پائی ہے
یا آپ کا گھر سیمنٹ سے بنایا ہوا ہے یا آپ کے گھر میں شکل دیکھنے کیلیے شیشہ ہے
یا آپ کے گھر میں کنگھی ہے یا آپ کے گھر میں پتھر سے بناہوا واش روم ہے جس پر آپ بیٹھ کر استنجا کرتے ہیں ۔
اب میں حیران ہو کہ ان صاحب محترم کو میں کیا کیا گن وأں ۔
مذکورہ سب چیزیں سائنس کے اصول وقوانین کے بنیاد پر ہی بنتے اور کام کرتے ہیں
اگر میں مذہبی فرد سے کہوں کہ ٹھیک ہے محترم سائنس کو پتہ نہیں ہے کہ مرنے کہ بعد کیا ہوتا ہے
اب آپ بتائیں کہ مرنے کہ بعد کیا ہوتا ہے
یقینًا ہر فرد اپنے مذہب کے مطابق بتانے لگے گا
ہندو اپنے مذہب کی بات بتائے گا ۔
عیسائی اپنے مذہب کے حساب سے بتائے گا۔
یعنی مختلف مذاہب اور مختلف باتیں ۔
اب میں ان تمام سے پوچھتا ہوں کہ
جناب! آپ نے تو سائنس پر تنقید کیا
اب آپ جوکچھ کہ رہے ہیں اُس کا مجھے ثبوت چاہیے
آپ مرجائیں اور مرنے کے بعد ایک وڈیو بنا کر لائیں اور مجھے دکھائیں کہ آپ نے جو کچھ بھی کہا وہ سب سچ ہے ۔
اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ بتائیں۔
کیا آپ نے اپنے بھگوان کو دیکھا یا اپنے خدا کو دیکھا ، یقینًا اُن کا جواب "”نا”” ہی ہوگا۔
اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ
محترم ! جب آپ نے اپنے بھگوان اور خدا کو نہیں دیکھا۔ تو کیسے آپ نے ان پر یقین کر بیٹھے ہیں ۔
ویسے آپ سائنس کے ہر بات پر ثبوت مانگتے ہو لیکن یہاں آپ نے بغیر دیکھے کیسے یقین کرلیا؟
چلو اِس بات کو رہنے دیں ۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ
آپ کو پتہ کیسے چلا کہ آپ کا بھگوان یا خدا ہے ۔
یقینًا اُس فرد کا جواب ہوگا کہ مجھے میرے بڑوں نے بتایا اور تاریخ میں لکھا ہے۔
اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ تاریخ کون لکھتے ہیں ۔
یقینًا اس کا جواب ہوگا کہ انسان ہی لکھتے ہیں ۔
اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ
کیا انسان جھوٹ لکھ نہیں سکتے ہیں۔
یقینًا اس کا جواب ہوگا کہ
ہاں انسان جھوٹ بھی لکھ سکتے ہیں۔
تو میں اُن محترم سے پوچھتا ہوں کہ
جب آپ کو یہ سب پتا بھی ہے تو آپ نے اپنے بھگوان اور خدا کو بغیر دیکھے یقین کیسے کرلیا؟
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ پوری کائنات آپ کے بھگوان یا خدا نے بنایا ہے ۔
تو یقیناً اس کا جواب ہوگا کہ
کیا کوئی گھر بنانے والے کے بغیر بن سکتا ہے ؟
یقیناً میرا جواب ہوگا کہ بالکل بھی ممکن نہیں ہے
تو وہ کہے گا کہ
یہ کائنات خد بخد کیسے بنی ہے اِس کا ضرور کوئی بنانے والا ہوگا اور وہ میرا بھگوان یا خدا ہے ۔
اب میں پوچھتا ہوں کہ چلو اگر آپ کہتے ہیں کہ بغیر Creator کے کوئی Creation ممکن نہیں ہے ۔
تو اب میں آپ ہی کا سوال آپ سے پوچھتا ہوں کہ
کیا Creator خد بخو بن گیا اور خد بخد بننے کے بعد اُس نے یہ کائنات بنا ڈالی؟
یقنًا اُس کے پاس اِس سوال کا کوئی مستند جواب نہیں ہوگا ۔
میں نے یہ سب اِس لیے نہیں لکھا کہ آپ سائنس کو خدا سمجھ کر ایمان لیں آئیں بلکہ آپ سائنس کو ایک علم کی نگاہ سے دیکھیں۔ ایک منظم طریقہ کار کی نگاہ سے دیکھیں۔
سائنس نہ خدائی کا دعوا کرتا ہے اور نہ خد یہ کہتا ہے کہ میری پرتش کی جائے۔
سائنس تو کائناتی اصول و قوانین کا نام ہے۔
یہ تو علم ہے اور سائنسدان جو بھی کہتے اور کرتے ہیں۔
ان سے باقاعدگی سے تجربات کے بنا پر شواہد مانگے جاتے ہیں۔
اور ان نظریات کو مختلف سائنسدان اپنے تجربہ گاہوں میں پھر سے دوہرا کر ان کی تصدیق یا ترمیم کی کرتے ہے۔
بےوجہ سائنس اور مذہب کے درمیان ایک جنگ کا سماں بنایا گیا ہے اور سائنس کو دجال کا روپ دے کر اِس کے علم کو فتنے کی طرح جھوٹ یا نیچا بتا کر علم کی شمع کو بھجایا جاتا ہے۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ سائنس کی ہر بات سو فیصد درست ہوسکتی ہے البتہ کچھ نظریات عقلی منطق کی بنیاد پیش کیے جاتے ہیں اور ان میں ہمیشہ ترمیم کی گنجائش رہتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!