تین کماش

Spread the love


تحریر:زبیر بولانی

یوں تو بلوچستان  میں اپنے اوپر تاریخ کو لکھنے پر مجبور کرنے والے کئی کماش(سفید ریش)گزرے ہیں ۔لیکن آج کی اس تحریر میں بلوچستان کے ان تین کماشوں کا ذکر ہے جنہوں نے آزادی کے چراغ کو اپنے دلوں میں  لیے ایک امید کی کرن کو اپنے  سینے پہ سجائے دشمنوں کے لیے اپنے ہتھیار اٹھائے کفن کو اپنے سر پہ سجائے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوکر اپنی دھرتی کے آغوش میں پناہ گزین ہو گئے۔یہ کہنے کو تو سردار تھے لیکن ایسے سردار جنہوں نے خود سرداری نظام کیخلاف جدوجہد کی۔
آج بھی بلوچستان کے نوجوان نواب خیر بخش مری کی نظریہ و فلاسفت، نواب اکبر خان بگٹی کی وہ گرجتی آواز و استقامت اور سردار عطاللہ کے اس نرم لہجہ میں وطن  کیلئے درد کو اپنے سینے میں لئے پھرتے ہیں۔
  ان کماشوں نے چاہے وہ جنرل ایوب کا مارشل لا ہو یا 70 کی دائی کے واقعات ہو یا بھٹو کے دور میں گورنر راج یا پھر جنرل مشرف جیسے سفاک و ظالم جرنیل ہو ہر وقت دشمن کو یہ باور کرایا کہ آپ ہمیں قید و بند کر سکتے ہیں قلی کیمپوں میں اذیتیں دے سکتے ہیں ہمیں جلاوطن کر سکتے ہیں ہمیں مار سکتے ہیں لیکن ہماری اپنی سر زمین سے محبت اور قوم کی جہد آجوئی نہیں چین سکتے۔
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ کہ ہمارے تین سردار تھے وہ نہیں رہے باقی جو 70 ہیں وہ تمہارے ہیں تمھیں مبارک۔
بلوچستان کے یہ تین کماش دوستیاں، دشمنیاں، رشتہ داریاں، یاریاں اور دلداریاں بھی وطن کےلیے کرتے تھے۔ یہ لوگ غاصب کو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے کہ ” اگر کوٸی مجھے غلام رکھنا چاہے گا تو میں اس کے منہ پر دس دفعہ تھوکونگا، میں بھاٸی بن کر ساتھ چلنے کو تیار ہوں مگر غلام بن کر ساتھ رہنے کو ھرگز تیار نہیں۔میرا جی چاہا تو میں مرنا  پسند کرونگا مگر غلام رہنا ہرگز پسند نہیں کرونگا“
ان کماشوں کی تمام تر زندگی نوجوانوں کو بیدار کرنے انھیں علم و شعور جیسی قوت پیدا کرنے اور اپنی سرزمین کے خاک سے عشق کرنے کیلئے ہر وقت ترغیب و تبلیغ میں گزری۔نیپ کے دور میں ان کماشوں نے سیاست کو ایک نیا رخ دیا جس میں ہمت غیرت دھرتی سے پیار ،خاک سے محبت ،ثقافت کی پہچان زبانوں کی مٹھاس شامل ہیں۔انھوں نے عشق کا حقیقی مقصد نوجوانوں کو سمجھایا جس کے بدولت آج ہربلوچ نوجوان چاہے وہ کسی بھی قبیلہ اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہو سب کے دل میں اپنی وطن کے اس صبح روشن کا چراغ جل رہا ہے جیسے ان تین کماشوں کی دل کی خواہش تھی۔
تاریخ میں ایسے کماش بہت کم ملیں گے جنہوں نے اگر عشق کیا تو وطن سے اگر اذیتیں سہی تو اپنے قوم کیلئے ۔آج بولان کے سرمئی پہاڑ، چلتن کی یخ بستہ ہوائیں، ہربوئی کا وہ میٹھا پانی انھیں یاد کر کے افسردہ ہیں۔
ملیں ہیں رہبر ایسےمیرے قوم کو
کہ ناز جس پہ زمانہ کررہا ہے 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!