بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا سنسرشپ اور بسا

Spread the love

تحریر:- ڈاکٹر ظفر واحد

بلوچستان جو کئی دہائیون سے معلوم اور نا معلوم کی طرف سےاور مذہبی انتہا پرستون کی جانب سے لگائی گئی آغ میں جھلستی آ رہی ہے،جہان ہم سے جینے کی آذادی چھین لی گئی وہی ہم پر ڈھائے گئے ظلم پر آواز اٹھانے پر ہماری زبانیں کاٹ دی گئی۔ہم چیختے رہے چھلاتے رہے مگر ہماری آواز بننے والی ملکی الیکٹرونک سے لیکر پرنٹ میڈیا پر نہ بلوچ پہنچ سکے نہ کہ وہ بلوچستان۔شاید وہ تو دشمن تھا،میرے خلاف محاز پر کھڑا تھا،میری آواز اُس کے خلاف تھی شاید اس لیے وہ میری آواز دباتا رہا،شاید میری آواز اُس کو کمزور کرتی تھی اس لئے بہرا بن کے لھڑا رہا،شاید وہ دشمن تھا اسی لئے دل پر نہ لی ، نہ کہ شکواہ کیا مگر جب سے بلوچ اسٹوڈنٹس ایلشن کمیٹی دو دھڑون میں تقسیم ہوئی،وہی سامراج جیسی رویہ اپنائے ہوئے کچھ بلوچ ڈیجٹل میڈیا ہائوس اپنی ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کو بلیک لسٹ کر کے میڈیا سنسرشپ کا نشانے بناتے آ رہے ہیں۔
جب بلوچ میڈیا ہائوس بلوچون کے کتب کاروان سے ڈریں،جب بلوچ میڈا ہائوس بلوچون کے اسٹڈی سرکلون سے ڈریں،جب بلوچ میڈا ہائوس اپنے ہی بلوچ طلبہ تنظیم سے ڈر کر اسے میڈا سنسرشپ کی نظر کرنی کی کوشش کریں تو اس پر میں کچھ بلوچ صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا مالکان کی غیرجانبداری پر سوال کیون نا اٹھائون؟کیا جب تک بساک کا نیا دڑھا آپکے دئے ہوئے بلوچیت کے کرائیٹیریا کو پورا نہ کریں اُس وقت تک وہ آپکی جانب سے سینسر کی جائینگی؟
آپکے بقول بی ایس او سمت باقی بلوچ طلبہ تنظیمیں بلوچ قوم دشمن ہیں کیونکہ وہ پارلمانی پارٹی سے وابستگی رکھتی ہیں،چونکہ کچھ نام نہاد ڈیجیٹل میڈیا مالکان غیر جانبدار اور کچھ طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دوست سیاسی ہونے کا دعوا کرتے ہیں تو کیا وہ اپنا کبھی ذاتی تو کبھی تنظیمی موقف دیگر سیاسی دوستون پر بزور طاقت مسلط کرینگے؟تشدد اور جانبدار میڈا کے ذریعے سنسرشپ کا راستہ آپنائنگے؟ کیا آپ کے دلیل اور منطق اتنے کمزور ہو چکے ہیں؟یا پھر آپ سیاسی حوالے سے اتنا کمزور ہو چکے ہیں دلیل اور منطق سے سیاست کر ہی نہیں سکتے؟
چلو بقول آپکے مان ہی لیتے ہیں کی بساک کا نیا دھڑا بھی بلوچ دشمن،بی ایس او سمت باقی طلبہ تنظیمیں بھی بلوچ قوم دشمن مگر کیا بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگینازیشن کراچی بھی بلوچ قوم دشمن؟یاد رہیں یہ وہی بلوچ طلبہ تنظیم ہے جسے نام نہاد بلوچ قوم دوستون کی جانب سے یرغمال بنا کر قبضے کرنے کی کوشش کی گئی اور تنظیمی کارکنان کی جانب سے انکار اور اپنی تنظیمی بقاہ کی دفع پر قوم دشمنی کا سرٹفیکٹ ہاتھ میں تما دیا گیا۔
کیا آپ اپنے ہان سوال و تنقید پر پابندی لگا کر جی حضوری کی نظام رائج کر کے کسی بھی بہتر سوچ کی تخلیق پر پابندی لگار کر بلوچ طلبہ کو سیاسی حوالے سے بانجھپن کی جانب دکھیل کر قوم دوستی کی ثبوت دے رہے ہیں؟کیا آپ میڈیا سنسرشپ کر ذریعے جانبدار ہو کربلوچ عوام کے سامنے مخصوص گروہ کا جھوٹا اور یکطرفہ بیانیہ رکھ کر بلوچ قوم دوستی کی ثبوت دے رہے ہیں؟کیا آپ بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگینازیشن کراچی جیسےمستحکم بلوچ طلبہ تنظیم پر قبضہ کر کے بلوچ قوم دوستی کی ثبوت دے رہے ہیں؟کیا آپ بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی منطق و دلیل کے سب کو غداری کا سرٹیفکٹ ہاتھ میں تما کر بلوچ دشمن قرار دیں اور آپ بغیر کسی سیاسی منطق و دلیل کے بزور طاقت قوم دوست؟ آپکو شاید سردار آخترجان مینگل کی سال 2006 کی بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے تقریر کے الفاظ یاد نہیں جس میں انہوں نے واضع الفاظ میں کہا تھا کہ "آپ ہوتے کون ہیں ہمہیں بلوچیت کی سرٹیفیکٹ دینے والے،ہم بھی بلوچ ہیں اور ہمہیں بلوچیت کی سرٹیفیکٹ آپ سے لینے کی ضرورت نہیں”۔
اور آج بلکل ویسے ہی کسی بھی بلوچ طلبہ تنظیم کو یا کسی بھی بلوچ طلبہ تنظیم کے رہنماہ یا کارکن کو کسی سے بھی بلوچیت کی سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں اور آپ جس طرح سے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہیں ڈریں اُس وقت سے جب آپکے قوم دوستی کے مہر صرف آپ ہی کے مخصوص ٹولے پر لگے ہونگے اور باقی سب آپکے جانب سے بلوچ دشمن قرار پائینگے مگر اُس وقت بلوچ قوم جاگ اُٹھے گی،اُس دن آپکے کرتوتون سے واقف بلوچ قوم آپکو مجموعی طور پر قوم دشمن قرار دیگی اور آپکی سزا و جزا کا بھی فیصلہ کرے گی۔
آخر میں سب ہی بلوچ ڈیجٹل میڈیا مالکان سے التجا کرتا ہو کہ اپنا جھکائو کسی مخصوص گروہ کی جانب رکھنے بجائے صحافتی کردار ادا کرتے ہوئے غیر جانب داری کا مظاہرہ کریں کیونکہ تاریخ سب یاد رکھتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ تاریخ جب بھی لکھی گئی وہ غیر جانبدار تھی چاہے میرے کردار پر لکھی گئی ہو یا آپ کردار پر لکھی گئی ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!