سقراط کون تھا؟

Spread the love

تحریر :غلام مصطفٰے (جی۔ایم)

اب تک ہم نے جتنا بھی فلسفہ اور فلسفہ دانوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔
وہ سب فطرتی فلسفہ( Natural philosophy) کہلاتا ہے اور ان فلسفہ دانوں کوNatural philosopher کہتے ہیں۔
اگر ہم انہیں تاریخ کے پہلے سائنسدان کہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ان سب کا توجہ فطرت اور اس میں ہونے والے مختلف مظاہروں پر تھا۔ وہ فطرت پر سوالات اٹھاتے اور فطرت میں چھپے اصول و قوانین کو تلاش کر کے ان سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کرتے تھے۔
فطرتی فلسفہ دان وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے یونانی دیوتاؤں کے قصے و کہانیوں(Greek Mythology )کو چیلنج کیا اور مذہبی باتوں اور من گھڑت قصے و کہانیوں سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے پیچھے فطرت کے قوانین ہیں اور کوئی بھی چیز بے وجہ نہیں ہو رہی ہے اور کچھ بھی دیویوں اور دیوتاؤں کی مرضی سے نہیں ہو رہا ہے بلکہ ان تمام فطرتی مظاہر اور واقعات کا ذمہ دار فطرت کے قوانین ہیں جنہیں ہمیں سمجھنا چاہئے۔
فطرتی فلسفہ دانوں کو””Pre-socratic philosopher "” بھی کہتے ہیں اور اس کی کیا وجوہات ہیں اس کا ذکر ہم آگے کریں گے۔
اب آتے ہیں فلسفے کے تاریخ کی ایسے ہستی پر جس نے خود تو ایک لفظ تک نہ لکھا لیکن تاریخ پر اپنی ایسی چھاپ چھوڑی۔ جس کے آج تک لاکھوں چاہنے والے ہیں۔
تاریخ کی اس ہستی کانام سقراط[(Socrates-(470-399] ہے۔
سقراط ایک سنگ تراش(Stone cutter) کا بیٹا تھا اور اس کی ماں ایک دائی(Midwife) تھی۔
سقراط کا تعلق یونان کے ایک شہر ایتھنز (Athens)سے تھا۔
آج ہم سقراط کے بارے میں جتنا بھی جانتے ہیں ۔وہ سب اس کے شاگردوں کی وجہ سے جانتے ہیں جن میں سرفہرست افلاطون(Plato) اور Xenophon ہیں ۔
اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی سقراط کے بارے میں اُس کے شاگردوں نے لکھا ہے آیا کہ سچ میں وہ سقراط نے ہی کہا یا اِس میں اُس کے شاگردوں کے خیالات بھی شامل ہیں۔ اس بارے میں کوئی بھی کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے۔
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ سقراط کے ساتھ کچھ اور بھی نامور شخصیتیں ہیں جنہوں نے خود تو کچھ بھی نہیں لکھا لیکن آج تک ان کے لاکھوں کروڑوں اور اربوں چاہنے والے اور ماننے والے ہیں۔
ان میں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شامل ہیں۔ جس کی وجہ سے حضور(ص) کو "امی”” کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔

سقراط کے دور میں سوفسٹ (Sophist) بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے اور سو فسٹ کا خیال تھا کہ وہ علم بیکار ہے جو انسان کو فائدہ پہنچا نہ سکے لہذا انہوں نے فلسفے کا توجہ طبعی کائنات سے ہٹا کر ایسے موضوعات کی طرف موڑ دیا جن کا تعلق فرد اور معاشرے سے تھا ۔
سوفسٹ نے طبیعات اور ریاضی کے بجائے ان علوم کو فوقیت دی جو بحث و مناظرے میں کام آتے اور شخصی رائے کو تقویت بخشتے ۔مثلاً صرف ونحو ، بلاغت، فن خطابت وغیرہ
سقراط سوفسٹ کا سخت ترین مخالف تھا جس کی وجہ سے سقراط کا توجہ طبعی کائناٹ کے بجائے انسان ، معاشرہ اور ان میں اچھائی اور برائی پر مرکوز رہا۔
اس کی ایک دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ شہر ایتھنز اس وقت یونان کے علم کا مرکز تھا جہاں پر آسمان ،زمین اور یونانی خداؤں پر سوال اٹھانا جرم تھا کیونکہ اس سے پہلے اینیکساگورس (Anaxagoras) نے آسمان و زمین اور یونانی خداؤں کے متعلق بے شمار سوالات اٹھائے تھے جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ یونانی خداؤں کی گستاخی کر رہا ہے جس کے بنا پر اٌسے سزا کے طور پر ایتھنز سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا گیا تھا۔

اس طرح سقراط نے فلسفے کا ایک نیا دور شروع کیا۔جسے "”Socratic Philosophy "” کہتے ہیں۔اِس کا ایک اور نام "”Classical Philosophy "” بھی ہے۔
اس نام کو دینے کی وجہ یہ تھی کہ یونانی دور کو چار ادوار میں تقسیم کیا گیا تھا۔
(1) Dark age
(2) Archaic period
(3) Classical period
(4) Hellenistic period

سقراط کا تعلق Classical period سے تھا اور اس دور میں یونانی فلسفہ اپنے عروج پر پہنچا تھا اس لیے اس دور کے فلسفے کو "”Classical philosophy””” بھے کہتے ہیں اور سقراط کو "”Father of Western philosophy "”بھی کہتے ہیں۔
سقراط سے پہلے فلسفہ دانوں کا توجہ صرف اور صرف فطرت پر تھا۔
اُس لیے اس دور کے فلسفے کو "”Natural philosophy”” اور فلسفہ دانوں کو Natural philosophers کہا جاتا ہے چونکہ فطرتی فلسفہ دان سقراط سے پہلے کے دور میں تھے لہذا انہیں Pre_Socratic philosopher بھی کہا جاتا ہے اور فلسفے کو Pre_Socratic philosophy کہتے ہیں۔

سقراط نے انسان اور انسانی معاشرے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ سقراط کا خیال تھا کہ یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ انسان پانی ، ہوا ، مٹی اور آگ سے بنا ہے ۔
آسمان کیا ہے ؟ زمین کیا ہے؟ سورج چاند اور ستارے کیا ہیں ؟
بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان جانے کہ وہ کتنا اچھا اور برا ہے۔ اچھائی کیا ہے؟ برائی کیا ہے؟ اچھے کام اور برے کام کیا ہیں؟
ہم جو کام کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں اور ہم جو کام نہیں کرتے ہیں کیوں نہیں کرتے ہیں؟
طاقت کیا ہے ؟ بہادری کیا ہے؟ کمزوری کیا ہے؟ سماج کیا ہے ؟ سماج کو کس طرح سے منظم ہونا چاہیے؟ انسان یا فرد کو کس چیز کے لئے جدوجہد کرنا چاہیے؟
زندگی کا مقصد کیا ہے؟
سقراط کا موضوع اخلاقیات تھا
اس لیے اسے "”Father of Ethics”” کہاجاتا ہے۔ سقراط وہ پہلا فلسفی تھا جس نے اخلاقیات ، سیاست ، معاشرہ ، ذات ، فرد اور جماعت پر بے شمار سوالات اٹھائے ۔

رومن فلاسفر سیسرو (Cicero) نے سقراط کے بارے میں کہا
Socrates’ called philosophy down from the sky and established her in the towns and introduced her into homes and forced her to investigate life , ethics , good and evil.

ترجمہ: سقراط نے فلسفے کو آسمان سے نیچے بلایا اور اسے شہروں میں قائم کیا اور اسے گھروں میں داخل کرایا اور اسے زندگی ، اخلاقیات ، اچھائی اور برائی کی تحقیقات پر مجبور کیا۔

اس جملے سے مراد یہ ہے کہ پہلے فلسفہ صرف فطرت کو سمجھنے کے لئے پڑھا جاتا تھا لیکن سقراط نے اسے آسمانوں اور فطرت سے کھینچ کر لے آیا اور لوگوں کی زندگیوں میں فلسفے کو شامل کر دیا۔

اب اگر بات کی جائے سقراط کے مکتب فکر ، نظام فکر اور طرز فکر کی تو سقراط نے اپنے بارے میں کہا

"” I can not teach anybody anything. I can only make them think””

ترجمہ : میں کسی کو کچھ بھی پڑھا نہیں سکتا ہوں ۔
میں تو لوگوں کو چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہوں۔

سقراط کی ماں کہا کرتی تھی کہ

"”His art was like the art of midwife””
ترجمہ: سقراط کا فن دائی کے فن کی طرح تھا۔

اس سے مراد یہ تھا کہ ایک دائی خود تو بچہ نہیں جنّتی بلکہ وہ بچہ جننے میں مدد کرتی ہے بالکل اسی طرح سقراط بھی اچھائی اور برائی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ اچھائی اور برائی کی پہچان کرانے میں مدد کرتا تھا۔
اس لیے سقراط نے کہا کہ

"” He who knows what good is , will do good”

ترجمہ: اگر کوئی شخص اچھائی کو جان جاتا ہے تو وہ اچھے کام کرتا ہے۔

سقراط ایتھنز کے مارکیٹوں میں جا کر لوگوں سے ملتا اور ان سے سوالات کرتا اور جواب ملنے پر مزید سوالات کرتا کیونکہ سقراط سمجھتا تھا کہ سوالات کرنا ہی وہ طریقہ کار ہیں جس کے ذریعے سے انسان اچھائی تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے سقراط کہا کرتا تھا

"”Dought is the origin of truth””
ترجمہ: سوال یا شک کرنا ہی آپ کو سچائی کی راہ پر ڈالتا ہے۔

سقراط کا خیال تھا کہ اگر ہم مسلسل ایک نقطہ نظر پر سوال پوچھنا شروع کریں اور اگر ہمیں کوئی متضاد دعوٰی اس نظریہ کے مخالف مل جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نقطہ یا نظریے میں غلطی ہیں۔
سقراط غلطیوں کو تلاش کرنے کے لئے””Dialectics "” کا استعمال کرتا تھا۔Dialectics دو لفظوں کا مرکب ہے
Di = two دو
lecticd= words الفاظ

یعنی دو نقطہ نظر کا آپس میں ٹکراؤ کرنا جس کے ذریعے سے سچائی تک پہنچا جا سکے۔یعنی اگر کوئی ایک شخص کسی چیز کے بارے میں دعوٰی کرے تو دوسرا اس دعوٰی پر سوال اٹھائے۔
Dialectics is the basis of Socratic pedagogy.

سقراط کے اس طریقہ کار کو”” Socratic Method "” یا "”Elanchos”” کہتے ہیں۔

سقراط ایتھنز کے حوالے سے کہا کرتا تھا کہ

"” Athen is a sluggish horse. I am the gadfly , trying to sting it back to life””

ترجمہ: ایتھنز ایک اونگھتے گھوڑے کی مانند ہیں۔ میں اس مکھی کا کردار ادا کر رہا ہوں جس کے نتیجے میں گھوڑا نیند سے اٹھ جاتا ہے۔

سقراط کا خیال تھا کہ ہر فلسفی کا یہ بنیادی کام سوال پوچھنا ہے اور نہ صرف دوسروں سے بلکہ خود سے پوچھنا تو سب سے اہم ہیں۔ مثلا
میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور جو کچھ میں کر رہا ہوں کیوں کر رہا ہوں؟ وغیرہ وغیرہ
اس حوالے سے سقراط نے کہا کہ

"” The unexamined life is not worth living "”

ترجمہ : انجانچا زندگی جینے کے لائق نہیں ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کے بارے میں سوال نہ پوچھے اور اپنی زندگی کا تجزیہ نہ کرے اور بے وجہ جئے جائے تو ایسی زندگی بیکار ہے۔

سقراط اپنی بارے میں کہتا تھا

"” I know only thing that I know nothing "”

ترجمہ: میں اپنے بارے میں ایک چیز جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا ہوں ۔

399 قبل از مسیح میں سقراط کو یونانی خداؤں کی گستاخی اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی ۔
وہ جلا وطن ہو جائے یا زہر کا پیالہ پی لے لیکن سقراط نے زہر کے پیالے کو انتخاب کیا اور کہا کہ جو حق پر ہوتا ہے وہ کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتا ہے۔ لہذا سقراط فلسفے کا پہلا شہید ہے۔

Socrates is the first philosophy martyrs.He was sentenced to death for his philosophical activities.

لوگ سقراط کے بارے میں کہا کرتے تھے۔

"” You can seek him in the present , you can seek him in the past , but you will never find his equal””

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!