افغانستان،شریعت کل آج اور کل

Spread the love

تحریر:سعید نور


افغانستان کی آزادی کے لیے طالبان تحریک صرف اور صرف اسلامی شریعت کے لیے تھا اور ماضی گواہ ہے کہ شریعت پر سمجھوتے کے ڈر سے وہ ایسے کسی بھی معائدے کا حصہ نہیں بنے۔
مگر حالیہ آزادی کے بعد افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد انتظامی امور کو چلانے کے لیے سٹریٹجک خاصہ دلچسپ ہے اگر یہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ہے تو ٹھیک وگرنہ شریعت والی بات ٹھیک ایسا ہی ہوگا جیسا ہاکستان کے وجود کے لیے آزادی کی تحریکوں کے نعرے اور بعد کے عمال و حالات ہیں۔
یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اچانک کسی بھی قسم کے خون خرابے کے بغیر انقلاب آنا (جو دراصل انقلاب کے لیے کیے گئے تعریف کی نفی بھی ہے) چا جانا اور ہر سطح پر تسلیم ہونا۔
مزے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک تحریک جس کی کاروائیوں کو عالمی سطح پر دہشت گردی قرار دینے والے ادارے اور اقوام بھی یک دم اس ملک کی آزادی کو نہ صرف تسلیم کررہے ہیں بلکہ تجارتی تعلقات اور معاشی ترقی کے لیے امداد کو بھی بلا کسی خوف و خطر تیار کھڑے ہیں۔
یہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا ٹویٹ ملاحظہ ہو جو کہتے ہیں کہ
"اقوام متحدہ آپ کے ساتھ ہے اور افغانستان میں امن کے حصول، مواقع پیدا کرنے اور سب کے لیے انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔”
اسی طرح چینی وزیرِخارجہ وانگ یی نےبرطانوی وزیرِخارجہ ڈومینیک راب سےٹیلیفونک گفتگو میں کہاکہ افغانستان میں صورتحال غیرمستحکم اور غیریقینی ہے۔ دنیا افغانستان کی رہنمائی و مدد کرے۔ عالمی برادری کی حمایت استحکام میں مددگار ہوگی۔‏ عالمی برادری افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کی مدد کرے”
اور ساتھ ساتھ ‏چین نے بھی نئی افغان حکومت سے دوستی و تجارتی تعلقات بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے میں دیر کی تو ہمارا مقام کم ہو جائیگا۔
یوں پاکستان چین، روس،ترکی، ایران کے انداز سے لگتا ہے کہ یہ سب افغان طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک ہیں۔
یہ تو تھے افغانستان اور طالبان کے لیے بیرونی حالات ، پیش کش و امداد اب آتے ہیں ہے افغان طالبان خارجہ پالیسی کی طرف ۔ افغان طالبان تحریک سے زرا بھی واقفیت رکھنے والے یقیناٙٙ یہ کہنگے کہ افغان طالبان کسی بھی کمیونسٹ ،سوشلسٹ یا غیراسلامی ممالک سے امداد و تعاون کی پیش کش کو ٹھوکر مارکر شکم پر پتھر باندھنے اور بھوکا مرنے کو قبول کرینگے۔ مگر جزبہ ایمانی اپنی جگہ افغان طالبان نے انہیں سوشلسٹ اور کمیونسٹ اقوام کی نہ صرف سیاسی،معاشی اور تجارتی امداد کی پیش کش خندہ پیشانی سے قبول کی بلکہ حاجزانہ پیغام میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین یہ تک کہا کہ
‏تمام ممالک کے ساتھ ’دوستانہ تعلقات‘ چاہتے ہیں اور کسی بھی ملک کے خلاف معاندانہ جذبات نہیں رکھتے۔”
اور ‏چینی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں افغانستان کی تعمیر نو کے حوالے سے چینی کردار کو خوش آمدید کہتے ہوئے
افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہاہے کہ ہم منتظر ہیں کہ چین افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں شرکت کرے۔”
اسطرح افغانستان میں طالبان کا ایک سافٹ امیج سامنے آرہا ہے جس نے کروڑوں انسانوں کو نہ صرف غیراسلامی طرزکے ممالک بلکہ ان کے تیار کردہ ہر قسم کی ایشیاء سے ورغلا کر ان سے دور رکھا اوران ممالک سے قربت اور ان کے تیارکردہ پرڈکٹس کے استعمال کرنے پر کفر تک کا فتویٰ جاری کیایہاں تک کہ افغانستان میں بنائے گئے روڈوں کو تباہ کر کے انہیں "کافر روڈ” قرار دیے جانے کے واقعات تاریخ کا حصہ اور سب سے بڑا المیہ گزشتہ چند دنوں سے افغانستان سے وائرل ہونے والی وہ ویڈیوز اور تصویریں ہیں جن میں طالبان بچوں کے الیکٹرک کھلونوں سے کھیلتے ہوئے نظر آنا، تو کئی محلوں میں بے سلیقے بیٹھے تو کئی جدید جنگی جہازوں/ہیلی کاپٹروں کو بیڑھ بکریوں جیسا سمجھ کر ان سے ویسا سلوک کرناہے۔
جس سے اس قوم کی شعور اور تہذیب یافتہ ہونے کا اندازہ ہر زی شعور لگا سکتا ہیں۔
اور ایسے حالات میں یقینا کسی بھی ملک کا اس قوم کے ساتھ ترقیاتی کاموں اور جدید ٹیکنالوجی پر معائدے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عمل خود ایک تاریخی المیہ سے کم نہیں ہوگا۔
جبکہ دوسری جانب ایسے ٹھوس نظریہ رکھنے والے اپنے جنگ جوہوں کو کیسے شریعت پر لچک رکھنے کے لیے آمادہ کرینگے اور کیسے شریعت پر سمجھوتہ کرکے آگے چلینگے جبکہ غیر اسلامی ممالک جہاں بھی معاشی و تجارتی ترقی کی غرض سے جاتے ہیں اپنا کلچر شرائط ساتھ لیکر جاتے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!