مچھ بولان میں پراسرار وباء پھوٹنے سے ایک درجن سے زائد بچے بیماری کا شکار

Spread the love

(نشست) تفصیلات کے مطابق مچھ کے علاقے جم بارڑی اوربارڑی بولان میں پراسرار وباء پھوٹنے سے ایک درجن سے زاید بچے بیماری کا شکار متاثرہ بچوں کے عمریں 2 سے 10 سال تک بتائی جاتی ہیں جن کے چہروں اور جسم کے مختلف حصوں پرسرخ دانے اور نشانات موجود ہیں علاقے میں طبی سنٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے تاحال اس پر اسرار بیماری کی وجہ معلوم نہ ہوسکی

مقامی رہنماء میر جاڑو خان رند نے پراسرار بیماری کی میڈیا کو اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وباء سے دوسرے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں علاقے میں ماہرین کا فوری ٹیم بھیجا جائے تاکہ اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے
تحصیل مچھ کے دیہی علاقے جم بارڑی اور بارڑی میں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک نامعلوم وباء پھوٹنے سے ابتک متعدد بچے متاثر ہوگئے ہیں اس وائرس کا شکار زیادہ تر بچے بچیاں ہیں اکادکا بڑے افراد بھی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں متاثرہ بچوں کی عمریں 2سال سے10 سال تک ہیں یہ وائرس ہوا کے زریعے ایک سے دوسرے بچوں میں منتقل ہورہے ہیں ماہرین کے مطابق وائرس ایک سے دوسرے میں تب منتقل ہوتے ہیں متاثرہ شخص کے چھینکنے اور کانسنے کی صورت میں ان کے منہ سے خارج ہونے والے آلودہ زرات جو ہوا میں شامل ہوکر ایک سے دوسری جگہ پھیل جاتے ہیں اور یہ قطرے زیادہ دیر تک فضا میں شامل رہتے ہیں بتایا جارہا ہے کہ بارڑی میں یہ وائرس اپنی شدت کے ساتھ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے
*بارڑی کے مقامی شخصیت میر جاڑو خان رند کے مطابق علاقے کے متعددبچے وباء میں مبتلا ہوچکے ہیں متاثرہ بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہورہے ہیں جم بارڑی کے رہائشی بسم اللہ جتوئی نے انکشاف کیا ہے کہ انکے بھانجے بھی اس وباء کا شکار ہوئے ہیں انکے بقول میرے بھانجوں کے علاوہ اس وبائی امراض میں علاقے کے دیگر بچے بھی مبتلاہیں اب تک متعدد بچے اس میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
میر جاڑو خان نے مزید بتایا کہ چوں کہ بولان وسیع رقبہ پر مشتمل اور منتشر آبادی رکھتا ہے یہاں کے لوگ غریب اورروایت پسند لوگ ہیں جب اسطرح کا کوئی وباء پھیلتا ہے والدین قریب میں طبی سنٹر اور ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ بچوں کے علاج کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں کوئی طبی سنٹر نہیں اور اکثر و بیشتر دیہی علاقوں کے لوگ ایسے وباء سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی دیہی علاقوں میں ایسے وباء سے بچنے اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کوئی شعوری آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
متاترہ بچوں کے جسم کے مختلف حصوں اور چہروں پر دانے اور نشانات نمودار ہوئے ہیں محکمہ صحت کو چاہیے کہ وہ جلد متاثرہ علاقوں میں ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم روانہ کرے اور وبا کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مزید یہ وباء دیگر علاقوں میں پھیل نہ جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!