جدید دور اور اساتذہ کرام کی قدر

Spread the love

(اپنے اساتذہ کرام کی نذر)

تحریر:سکندر غوری


آج کے وقت کا انسان بہت ترقی کر چکا ہے بلکہ مزید ترقی کر رہا ہےمگر ہر کوئی اپنا فرض اپنے رشتے بھولتا جا رہا ہے سائینسی ایجادات نے انسانی زندگی کو نہایت ہی آسان اور آرام دہ بنا دیا ہے مہینوں میں ہونے والا کام دنوں میں ، دنوں میں ہونے والا کام گھنٹوں میں اور گھنٹوں میں ہونے والا کام منٹوں میں ہونے لگا ہے مگر ہر قسم کی سہولیات ہر انسان کو میسر نہیں اور تقریباً میسر ہیں بھی یعنی زندگی جہاں آسان اور آرام دہ ہے وہاں دشوار بھی ہے۔
انسان کی کامیابیاں اور ترقی جن کی بدولت انسان عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اس کا سہرا تعلیم کے سر سجا ہے آج ہر تعلیمی ادارے میں دنیاوی،مذہبی،جدید ،سائینسی وغیرہ ہر قسم کی تعلیم دی جا رہی ہے اور ہر مضمون کے نظریات کتابی شکل میں جو ماہرین نے پیش کئے ہیں بڑھے ہی شعور و آ گاہی سے پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم میں یعنی آج کی نسل میں شعور و آ گاہی عروج پر ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ پڑھنے والوں کو ان کے علم کی بنیاد نہیں بتائی جا رہی جس کی وجہ سے پڑھانے والی کی عزت گھٹتی جا رہی ہے۔
علم نے معاشرے کو اگر ترقی دی ہے تو معاشرے کو پیچھے بھی دھکیلا ہے اپنی تہذیب ، رسم و رواج، مذہبی قوائد و قانون ہم بھول چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو کوئی انہیں یاد دلانے کی کوشش کرے وہ آج کے علم والوں کے سامنے نفسیاتی مریض کہلاتا ہے اور اس کی سوچ کو آج کی علم والے گھٹیا اور دکیانُوسی سوچ کہتے ہیں کہ یہ آج بھی پچھلے زمانے میں جی رہا ہے۔ ارے بھائی یہ کیا بات ہوئی؟ تہذیب جاننے والا پچھلے زمانے کا کہاں سے آ گیا؟
کئی دانشور کہہ گئے ہیں اور لکھتے ہیں کہ انسان مذہب کیلئے جنگیں لڑ سکتا لیکن مذہب کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتا ہمارے معاشرے کے ہر گھر میں ایک جملہ بڑی تیزی سے گردش کرتا ہےبلکہ گردش کرتا رہا ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں بھی ہماری اور آپ کی سماعت سے ٹکرائے اور زبان سے بھی ادا ہو “کسی بھی بچے سے یا کسی بھی نوجوان سے غلطی ہو دیکھنے والا بڑی سختی سے پوچھتا ہے کہ تمہیں اسکول میں یہ تمیز سیکھاتے ہیں” اور کچھ لوگ تو ایسے پوچھتے ہیں جیسے کامل یہی لوگ ہیں بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں” تمہارے ٹیچرز (اُستاد)تمہیں یہ سب سیکھاتے ہیں؟”
جبکہ حکمت کہتی ہے کہ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے جو کہ ہر شخص کیلئے سر آنکھوں پر ہے اور نہایت ہی قابلِ احترام ہے۔
استاد سے علم سیکھنا ہے ،ادب سیکھنا ہے،استاد سے اچھے برے کی تمیز سیکھنی ہے ،استاد سے جینے کا سلیقہ سیکھنا ہے ،استاد سے رہنمائی لے کر کسی مقام تک پہنچنا ہے ،اور اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے بھی استاد کی ضرورت ہے۔سو باتوں کی ایک بات جب بچے کو بھوک لگتی ہے تو وہ اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے اور جب کسی کو رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اپنے استاد کی طرف دیکھتا ہے۔
استاد صرف وہ نہیں جو پڑھنا لکھنا سیکھائے بلکہ پڑھنے لکھنے والوں سے زیادہ ہنر مند لوگ اپنے استاد کی قدر کرتے ہیں اور افسوس کہ انہیں ان پڑھ کہا جاتا ہے۔محترم اشفاق احمد اپنی کتاب زاویہ میں لکھتے ہیں کہ ہر ہنر مند اپنے کام کا صاحبِ علم ہے۔ جو شخص جس کام میں ماہر ہو مطلب وہ اپنے کام میں علم رکھتا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ علم کا لفظی معنی ہے جاننا۔
زندگی کے ہر شعبے میں استاد اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر محض 10سے 15 فیصد لوگ استاد کو جانتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں باقیوں نے تواستاد کو رومال اور ٹشو پیپر سے تشبیہ دے دی ہے کہ بس جب تک استاد پڑھا رہا ہے ٹھیک ہے استاد ہے اس کے بعد سلام کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا جاتا بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ اگر استاد پڑھاتے ہیں تو معاوضہ لیتے ہیں بس زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرور نہیں! قارئین یہ ہمارے لئے بڑے افسوس کھ بات ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت کرنا بھول چکے ہیں اور جو اساتذہ کرام کے متعلق ایسی سوچ رکھتے ہیں ان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے جدید تعلیم تو ہمیں یہ نہیں سیکھاتی بلکہ جن سے ہم تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی قدر سب سے بڑھ کر کرنی چاہئے لیکن یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔
جنگ عظیم اول کے دوران جرمنی کے ایک فوجی افسر نے ہٹلر کو بتایا کہ ”سر ہمارے کئی قابل اور تعلیم یافتہ لوگ مارے جا چکے ہیں تو ہٹلر نے جواب دیا اب زیادہ توجہ (ٹیچرز)اساتذہ کی حفاظت ہر دو وہ ہمارے لوگوں کو پھر سے تربیت دے کر ملک کیلئے انہیں تیار کریں گے “
ہندومت (بُت پرستی)دنیا کا سب سے پہلا مذہب مانا جاتا ہے بعدازاں انبیاءکرام کا سلسلہ شروع ہوا اور انہوں نے انسانوں کو تعلیم دی اور اچھے برے کا فرق بتایا لہٰذا مطلب صاف ہے کہ ”تعلیم دی “ یعنی وہ استاد کہلائے کیونکہ وہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ استاد بننا انبیاءکرام کا پیشہ ہے اور استاد بننے کی روایت بھی ازل سے چلتی آرہی ہے اور معاشرہ ایسے پیشے کو گالی دیتے ہوئے شرماتا بھی نہیں۔
بے شک جدید دور کو اپنائیے مگر اپنی تہذیب نہ بھولئیے اساتذہ کو ٹشو پیپر اور رومال سے تشبیہ نہ دیجئیےیا تو پھر کچھ بھی سیکھانا اور سیکھنا چھوڑدیجئیے جو ناممکن ہے کیونکہ دنیا میں ہر وقت اور ہر چیز سے ہم کچھ نا کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔
خدا آ سب کا حامی و ناصر۔
سکندر غوری

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!