میں کون ہو

Spread the love

تحریر: بی بی فرزانہ


کنواری ہوں تو مہمان ہوں۔
شادی شدہ ہوں تو پراۓ گھر کی ہوں۔
کچھ بولوں تو خودسر ، بد تمیز اور آوارہ ہوں ، کچھ نہ بولوں تو آستینی سانپ ہوں۔۔
شادی نہ کرنا چاہوں تو ضرور میرا کوٸی چکر ہے.


بچہ نہ ہو تو وہ قدرت کا کھیل نہیں بلکہ میری غلطی ہے بانجھ کہ کہ الوداع کرو طلاق دو یا جیتے جی مار دو۔۔
مرد نشٸی تھا طلاق اور خلع ہوٸی ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ لڑکی ہے برداشت کر لیتی ، ضرور لڑکی میں ہی نقص تھا جو طلاق یافتہ ہے۔


لڑکی اوووو ایک اور لڑکی اووووو ہمیں تو بیٹا چاٸیے اس چکر میں بچہ پیدا کرنے کی مشین بن جانا۔


میں کون ہوں ، میں کیوں ہوں۔
۔۔زیادتی میں بھی یہ سننے کو ملتا ہے جب کپڑے بے غیرتوں والے ہونگے تو یہی ہوگا ، اور نقاب پوش کے ساتھ یہ ہو تو اس کے ساتھ بھی کوٸی ہمدردی نہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے نقاب آنکھوں پر تو نہیں تھا نا ضرور پہلے لڑکی نے اشارہ دیا ہوگا کوٸی یہ نہیں کہتا ہم وحشی درندے بنے پھر رہے ہیں جو ٹھنڈے جسم تک کو نہیں بخشتے۔۔
کیا ہے یہ ؟ کیوں ہے یہ؟


کون ہیں ہم ؟ کیا وسعت ہے ہماری

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!