خواتین کا کردار اور انکے حقوق

Spread the love

ذاکررخشانی بلوچ


"معاشرتی قومی اور سیاسی حوالے سے اگر ہم جائزہ لے تو معاشرے کا کوئی بھی فیکٹر اور کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا فرد اس وقت اپنا کردار ادا کرسکتا اور آگے جاسکتی ہے جب معاشرے میں اس کو بلکل ذمہ دارانہ آزادی اور کردار ادا کرنے لئے مکمل موقع فراہم کی جائے یقینی طور پر جتنا بھی بڑا ذہین یا اچھی باصلاحیت سوچ ہو
لیکن جب تک ان کو اپنی صلاحیتوں کی بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کا موقع نہیں دی جاتی تو وہ اپنا کردار ادا نہیں کرسکتی جیسے کہ ہم جانتے ہے کہ خواتین جنکا ہماری شعوری تربیت گھریلوں خدمات کے حوالے سے اہم کردار ہے.
لیکن سماج کے دوسرے شعبہ جات میں خواتین کی کردار میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ تو ہورہی ہے لیکن پھر بھی وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ کردار ادا نہیں کرسکتے اسکی بنیادی وجہ خواتین کو وہ میدان عمل یا وہ آزادی نہیں دی گئی جسکے وہ حقدار ہیں.
مثال کے طور پر عورت جو بہترین طریقے سے کاروباری صلاحتیں رکھتی یے لیکن آج تک ہمارے خواتین کو براہ راست کاروبار میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے خواتین کسی مرد کے سہارے کے بغیر زندگی نہیں جی سکتے نہ یہی وجہ ہے اگر کسی عورت کو مرد کا سہارا میسر نہ ہو تو وہ یا بھیک مانگتی ہے یا معاشرتی استحصال کا شکار بن جاتی ہے.
علم و زہانت کے حوالے سے بھی ہمارے سماج میں خواتین کی شراکت داری نہ ہونے کے برابر ہے یہی وجہ ہے کہ اگر ہم جائزہ لے تو خواتین صرف بوجھ بن کر معاشرے کی خدمت کرتے ہے لیکن حقوق کی ادراک نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا کردار ادا نہیں کرسکتے .شعبہ تعلیم میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرکے ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے .
سیاست جوکہ معاشرے کی تشکیل اور اسکے چلانے کی سب سے بڑی سیکٹر ہے سیاسی عمل ہی کسی سماج کے برائیوں اور اچھائیوں کی وجہ قرار پاسکتی ہے ہمارے خواتین کو مخصوص نشستوں کے بنیاد پر تو شو پیس کے طور پر حکومتی امور میں حصہ تو دی گئی ہے لیکن خواتین کی حقیقی شراکت داری انکے مکمل معاشرتی آزادی سے ہی ممکن ہے جسکے بعد ایک مضبوط سیاسی و جمہوری سماج بنایا جاسکتا ہے..

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!