معذوری

Spread the love

تحریر:سکندر غوری

ایسا کہا جاتا ہے بلکہ مانا جاتا ہے کہ جان ہےتوجہان ہےاور یہ ایک سچ بھی ہے بے شک زندگی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں مگر کوئی نہیں جانتا کہ زندگی کا وجود کیوں ہے۔ جس کسی کو بھی دیکھا جائے وہ بس اپنے زندہ ہونے کی ایک وجہ بتاتا ہےکہ وہ کیوں زندہ ہے۔ یعنی دورِحاضر میں کئی زندگیاں ایسی ہیں جو اپنی زندگی سے خوش نہیں ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ موت سے بھی خوف آتا ہے۔
ہر شخص کی ایک الگ ہی نفسیات ہوتی ہے۔کوئی پیسے کے بستر پر سو کر خوش نہیں ہوتا اور کوئی بھوک اور پیاس میں بھی خوش ہےاور شکر ادا کرتا ہے،کوئی کہتا ہے زنگی بد سے بدتر ہے اور کوئی زندہ رہ کر ہی شکر ادا کرتا ہے ، کوئی زندگی کو نعمت سمجھتا ہے اور کوئی سزا۔
اپنے گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسی شخصیات بھی دیکھنے کو ملیں گی جو بالکل تندرست ہیں مگر گداگری جیسی لعنت کا شکار ہیں اور اس عمل کے برعکس وہ لوگ جن کا حق ہے کہ انہیں خیرات و زکوة دی جائے وہ اپنے حق سے محروم ہیں۔اس تحریر کو معذوری عنوان دینے کا مقصد لنگڑے لولے یا بیمار ہونے سے مشاہبت نہیں ہے بلکہ لفظ معذوری کو اس تحریر کا عنوان اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ہم سب تندروست معذور ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بینا شخص کسی کو دیکھ کر جان بوجھ کر سوال کرتا ہے کہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ ہم بھی بینائی رکھتے ئوئے نابینا ہیں آسان الفاظ میں جسے آنکھوں والا اندھا کہا جا سکتا ہے۔
ہر کوئی کہتا ہے کچھ الگ کرنا کچھ بڑا کام کرنا ہے۔ اور جناب! وہ بڑا کام کیا ہے ؟ ایک دوسرے کی غلطیاں ڈھونڈنا اور خود سے سرزد گناہ کو غلطی ماننا اور منوانا میرے مطابق تو وہ بڑا کام یہی ہے جو ہر شخص کرنا چاہتا ہے۔
ہمارے آس پاس بلکہ دورِحاضر کا ہر شخص نفسیاتی مریض ہے ذیہنی طور پر معذور ہیں ہم خود کے ہی غلام ہیں ہم اور ایک کڑوا سچ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہم سب ایک دوسرے کی غلامی کر سکتے ہیں جو کہ ہمیں عزت کا گمان کراتی ہے لیکن جہاں ہمیں کسی کی عزت کرنی چاہئے اسے ہم خود غلامی سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔
جس کسی کو دیکھو وہ معاشرہ سدھارنے نکلا ہے جبکہ خود بگڑا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔شکل و صورت سے کسی کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں لوگ اگر شکل و صورت سے اندازہ لگانا چھوڑدیں نا تو یقیناً معاشرے کی صورت اور سیرت دونوں نکھر جائیں گی لیکن یہاں ہر شخص پر ایک جنون طاری ہے۔
جہالت ختم کرنی ہے لیکن اناء نہیں فرض کریں اگر کسی بچے کو یعنی شاگرد کو استاد پڑھا رہا ہوتاہے اور نادانی اور بچپنے میں آکر بچہ استاد کی بات نہیں سمجھتا یا اسے سمجھ نہیں آتی تو یہ استاد کی اناء کا مسلہ بن جاتاہے کہ بچے نے توہین کردی ارے حضور وہ بچہ ہے لیکن استاد تو بچہ نہیں ہے اناء کامسلہ ہی سب سے بڑی ذیہنی معذوری ہے۔
بڑی مشہور بات ہے کہ تعلیم دینے والا تب تعلیم دے جب وہ خود اس پر عمل کرے ورنہ تعلیم اثر انداز نہیں ہوتی تو قارئین! مطلب صاف ہے کہ جو ہمیں سکھایا جارہا ہے اس پر سیکھانے والا عمل نہیں کرتااور جو ہم سیکھا رہے ہیں ہم خود بھی اس پر عمل نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ کسی کی بھی تعلیم کسی پر اثر انداز نہیں ہو رہی۔
اگر دو گدا گر کسی کو مل جائیں ایک تندروست اور دوسرا معذور اور قدرتی طور پرکہہ لیں یا اتفاق سمجھ لیں جو معذور ہوگااس کے پاس خیرات میں دئیے گئے پیسے زیادہ ہونگے اور جو تندروست ہوگا اس کے پاس کم ہونگے کیونکہ وہ پہلے حاصل کی گئی خیرات کو پوشیدہ رکھ کر دوبارہ سوال کر سکتا ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کس جو خیرات دینی چاہئے؟ سماجی اور شرعی طور پر جس جا حق بنتا ہے اسے دینی چاہئے لیکن ہم سوچتے ہیں کہ وہ معذور ہے اس کے پاس ہیں اور اسے تو آگے بھی مل جائیں گے اس سوچ کے دباؤ میں آکر ہم تندروست کو خیرات دے دیں گے جو کہ نہیں دینی چاہئے ہاں مدد ضرور کرنی چاہئے یہ بھی ایک ذیہنی معذوری ہے۔
کوئی کسی کی مدد نہیں کرنا چاہتا البتہ احسان کرنا سب کی فطرت اور بنیادی خواہش بن چکی ہےکسی کی عزت کوئی نہیں کرنا چاہتا جبکہ غلامی سب کر رہے ہیں۔
آخر میں ایک ذاتی تجربہ تحریر کر رہا ہوں جسے پڑھ کر شائد آپ کو ہنسی آجائے مجھے بھی آئی تھی اس بات کا ثبوت آپ کو آپ کے دستر خوان پر مل سکتا ہے کہ گرم گرم کھانا کسی سے کھایا نہیں جاتا اور اگر زرا سا ٹھنڈا کھانا پیش کردیا جائے تو بس پھر کھانا پکانے والے کی خیر اور نہ ہی پیش کرنے والے کی۔
ہمیں ذیہنی معذوری سے تندروستی پانے کیلئے خود پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ناکہ اپنے گناہ کو غلطی سمجھنے کی بلکہ غلطیوں کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔
خدا آپ سب کا حامی و ناصر۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!