خواتین کو خودکشی تک مجبور کیا جاتا ہے

Spread the love

تحریر : میر عزیزمری

اکثر اوقات فرصت ملے تو چند حقائق لکھتے رہتے ہیں جو ہمارے بلوچستان کے مقامی اخبارات و سوشل میڈیا خوب صورت انداز میں شائع کرکے ہماری نیوز رپورٹنگ کی پرانی یادیں واپس زندہ کر دیتی ہیں ویسے تو ہمیشہ مسلے مسائل بے شمار ہیں اور وقتاً وقتاً ہم بیان کرتے رہتے ہیں مگر آج کل ہمیں خواتین کے خودکشیوں کے بارے میں خبریں زیادہ ملتی ہیں جیسے گزشتہ روز شادمان ٹاؤن کراچی میں ایک خاتون نے خودکشی کی اور خودکشی کرنے سے قبل اپنی دوست کو آڈیو ریکارڈنگ بھیجی جس میں کہا کہ محلے کے لڑکوں نے اس کی جعلی نکاح کی ویڈیو بنائی ہے اس کے بعد اب اسے بلک میل کررہے ہیں اور وہ اپنی عزت کے خاطر چھپ رہی کہ بچے جوان ہے میرے بارے میں کیا سوچھیں گے اور اسے ہراساں کررہےہیں ملنے کا کہتے ہیں جو اب اپنی زندگی کا اینڈ کرنے جارہی ہے اور پھر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی اور ہمارے الیکٹرک میڈیا نے اسے زور شور سے اٹھایا اب گرفتاریاں ہوں گی چند ماہ کی جیلیں ہوگی اور ضمانتیں ہوگی مگر کسی انسان کی زندگی تو ختم ہوئی معصوم بچوں کے سر سے ماں کا سایا تو اٹھ گیا۔
اور وہ خاتون اسکے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی اگر ملزمان کے خلاف پولیس میں درخواست دیتی تو دن میں 20 بار اسے تھانے طلب کیا جاتا قسم قسم کے سوال کیے جاتے اور بعد میں عدالتوں کے چکر لگاتی زندگی ویسے بھی اجیرن ہونی تھی پھر شوہر اور خاندان والوں کے سوال جواب تانے بانے الگ کیوں کہ ہمارا نظام ہمارا سسٹم ایسے ہی چلتا آرہا ہے جب شہر کی پڑھی لکھی خاتون یہ اقدام کے لیے مجبور ہوسکتی ہے تو دور دراز چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں گاوں کی خواتین کی کیا حالت ہوتی ہوگی سوچھنے کی بات ہے ۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ شہر کے پولیس تھانہ گوالمنڈی کے حدود میں کچھ ایسا ہی واقع پیش آیا جب ایک خاتون (س ) نے درخواست دی تھی کہ ایک لڑکا (ن) نامی نے اس کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی ہیں اور ہمیشہ اسے بلک میل کرکے تنگ کرتا ہے اور پیسے طلب کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ خاتون کو مجبور کر کے آئس جیسے نشے کا بھی عادی کرچکا ہے تاکہ خاتون اس کے اشاروں پر چلتی رہے اور مارتا پیٹتا بھی ہے اور اکثر اوقات اپنے دوستوں سے بھی ملنے کا کہتا تھا اور ملاتا تھا اور یہاں تک کہ اس خاتون کے گھر تک بھی جا پہنچا ہے وہاں اس کے پورے گھر کے خواتین کو بلک میل کیا ہے یہ باتیں تو اکثر فلموں ڈراموں میں دیکھنے کو ملتی تھی جب حقیقت میں دیکھا اور سنا تو پیروں تلے زمین نکل گئی ۔
اب مسلہ یہ ہے کہ خاتون کو دن میں 20 بار تھانے بلایا جاتا ہے اور ملزم لڑکے کو تو پولیس نے گرفتار کیا پولیس کو اس پر داد بھی دیتے ہیں مگر لاک اپ میں ملزم بند ہونے کے ساتھ ساتھ وہی سے مختلف موبائل نمبرز سے خاتون (س) کو دھمکیاں بھی دیتا ہے اب لاک اپ میں موبائل کون دیتا ہے کہا سےآیا یہ ایک الگ بات ہے یہاں تک کہ خاتون اپنی زندگی سے تنگ آچکی ہے اور عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے اب یہ بھی پتا چلا ہے کہ اسے عدالت میں بیان دینے سے مختلف طریقوں سے روکھا جا رہا ہے اور وہ بھی شاہد پیش نہ ہوئی ہو اس کے بعد اللہ جانے کہ اس کا کیا بنا۔
ویسے بھی لڑکے نے بری ہونا ہے یا ضمانت ہونا ہے اور پھر تاریخ پر تاریخ اور اس کے بعد پھر ایک اور تاریخ یہاں قصور وار کون ؟
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے حکمران گزشتہ 74 سالوں میں ہم پر حکمرانی کرتے رہے ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں کو اپنے ناقص فیصلوں اور اپنے اوپر تو خرچ کرتے گئے مگر دیگر اہم مسائل اور خاص کر ایسے احساس معملات پر کوئی قانون سازی نہ کرسکے اور نہ کوئی سزا جزا پر عمل درآمد کیا گیا ہمارے معاشرے میں اگر خاتوں عزت کے معاملے پر کوئی مسلہ اٹھائے تو الٹا اسے زلیل و تنقید کا سامنا کرتا پڑتا ہے اس ناقص سسٹم سے نکلنے کے لیے خواتین اور مردوں نکل کر آواز بلند کرنا ہوگا تاکہ ہمارے معاشرے میں جو گندگی تیزی سے پہل رہی ہے وہ سلسلہ بند ہو اور یہ سب ہم سب کے لیے نیک شگون نہیں اور اگر یہاں انسانی حقوق کے تنظیموں کی بات کرے وہ بھی صرف سیمنار تقاریب اور سوشل میڈیا تک ہی محدود ہیں عملی کام انکے بھی تسلی بخش نہیں ہیں یہی وجہ ہے مختلف علاقوں میں خواتین کی خودکشیاں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور اس خودکشی کو کسی او بیماری یا ہارٹ اٹیک یا دیگر وجوہات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!