پاکستان میڈیکل کمیشن اسلام آباد میں فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کا احتجاج

Spread the love

پاکستان میڈیکل کمیشن اسلام آباد میں فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کا احتجاج

(نشست) تفصیلات کے مطابق پاکستان میڈیکل کمیشن اسلام آباد میں فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کااپنی غیر قانونی طور پر ضبط کی گئی سیٹوں کے خلاف گیارہ روز سے سراپائے احتجاج ہیں

Provision of higher education for the students of Ex-FATA and BALOCHISTAN(batch-2)
کے  تحت فاٹا اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حکومت وقت نے پورے پاکستان کے  ہر پبلک میڈیکل کالج میں فاٹا اور بلوچستان کےسٹوڈنٹس کےلئے 4 سیٹس مختص کر دی جو کہ 265(+133 فاٹا کے لئے اور 134+ بلوچستان کے لئے )  سے زائد آتی ہے  جس کی سکالر شپس ایچ ای سی فراہم کرے گا اور سیٹس ایڈجسٹمنٹ پی ایم سی کرے گی۔

  یہ سیٹس کوٹہ  سسٹم کے علاوہ ھیں  جس کو اوپر کی بنیاد پر بھی کہا جاتا ہے۔  2019 میں  اس پروجیکٹ پر
senate standing committee for less developed area
نے اس کو ایک قانونی شکل دینے کے لئے   قرار داد منظور کی ۔۔۔ جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ منصوبہ 2022 تک لاگو ہوگا اور ایچ ای سی کے ذریعہ فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ اس کا امتحان ایچ ای سی کے ذریعہ لیا جاتا ہے۔ اور پھر پاکستان میڈیکل کمیشن ایچ ای سی کے جاری کردہ میریٹ لیسٹ کی بنیاد پر طلبا کو مختلف میڈیکل کالجز میں سیٹس دیتا ہے ۔
اس قرار داد کی منظوری کے بعد بھی ان طلبہ کو 2019-2020 کے سیشن میں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن  بہت تگ و دو کے بعد ان کو داخلے دیئے گئے۔ اس 2020-2021 سیشن میں ایچ ای سی نے اس پروجیکٹ کے لئے ٹیسٹ لیا اور ، طلباء کو   ای میلز  بھی موصول ہوئ  ہیں لیکن پی ایم سی نے یہ سیٹس +265 سے کم کر کے 29 کر دی ھیں (14 فاٹا کے لئے اور 15 بلوچستان کے لئے )  پی ایم سی کا یہ عمل قانونی طور پر منظور شدہ قرار داد کے خلاف ہے۔ سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے لئے ( سابق چیئرمین عثمان خان کاکڑ ) اور نیشنل اسمبلی کی  کمیٹیاں جس میں سیفران( چیئرمین سیفران MNA ساجد مہمند PTI) اور ہیلتھ کمیٹی ( چیئرمین MNA خالد حسین مگسی BAP)  نے ان کو کلئیر ڈائریکشنز دی جس میں ان کو بتایا گیا کہ ان سیٹس کو بحال کیا جائے لیکن ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اگر اس معاملے  پر بر وقت نظر ثانی نا کی گئ تو طلبا کا قیمتی سال ضائع ھو جائے گا!!
طلباء 29 تاریخ سے مستقل دھرنا دیے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ کل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے اور جب تک اِن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے بھوک ہڑتال جاری رہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!