صوبہ بلوچستان میں ضلعی سطح پر بجٹ سازی میں اور عوامی شمولیت کا فقدان ۔ سی پی ڈی آئی

Spread the love

سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل کی سروے رپورٹ جاری کر دی گئی ۔

ْقلات (26اکتوبر2019)سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے بہترین معلومات اور حقیقت پر مبنی ہے ۔ بلدیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی سطح پر بجٹ سازی میں عوامی شمولیت بے حد ضروری ہے ۔ ان خیالات کا ا اظہار میر منیرآحمد شاہوانی،سابقہ چیرمین ٹاون کمیٹی قلات، حاجی عبدالعزیز مغل، سابقہ نائب ناظم تحصیل قلات، میر مبارک محمد حسنی، امیر جمعیت علما اسلام نظریاتی اور حاجی غلام قادر عمرانی ضلعی کنوینر بی این پی عوامی نے سی پی ڈی آئی اور ہیومن پراسپیرٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ورکشاپ میں خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ سے ضلعی سطح پر بجٹ شفافیت، راءج طریقہ کار، بجٹ کیلنڈر پر عمل اورعوامی شمولیت سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے

سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ کے مندرجات پیش کرتے ہوئے ہیومن پراسپیرٹی آرگنائزیشن کے صدر یوسف بلوچ نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں مقامی حکومتوں کا موجودہ قانون 2010 میں نافذ ہوا لیکن ابھی تک نئے بجٹ رولز نہیں بنائے گئے ۔ اسی لیے موجودہ قانون سابقہ بجٹ رولز سے متصادم ہے جس کے باعث پرانے بجٹ رولز پر عمل ممکن نہیں جو ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے ۔

رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یوسف بلوچ نے بتایا کہ بجٹ سازی میں عوامی شمولیت جمہوری عمل پر عوامی اعتماد میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سروے کیے جانیوالے23 میں سے 5اضلاع نے بجٹ سازی سے پہلے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی ۔ جبکہ 12 اضلاع نے صرف ضلعی افسران،ضلع کونسل یا پھر عوامی نمائندوں اورچھ اضلاع نے غیر سرکاری تنظیموں اور عوام کیساتھ مشاورت کا دعویٰ کیا ہے ۔ بجٹ سازی کے دوران بجٹ کیلنڈر پر عمل کرنا از حد ضروری ہوتا ہے کیونکہ اسکے مختلف مراحل میں تاخیر یا تعطل بجٹ سازی کے عمل کو متاثر کرتا ہے ۔ ستمبر کے مہینہ میں بجٹ کال لیٹر جاری کیا جانا ضروری ہے لیکن سروے کیے جانیوالے23 میں سے 19 اضلاع کو بجٹ کال لیٹر موصول نہیں ہوا ۔ صرف دو اضلاع کو 15نومبر 2018 سے قبل، ایک کو 15 نومبر 2018 اور 31 مارچ 2019 کے درمیان جبکہ ایک ضلع ایسا ہے جہاں بجٹ کال لیٹر 31مارچ کے بھی بعد موصول ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کی تاریخ 30 جون تک ہوتی ہے لیکن 23 میں سے 11 اضلاع اس سے قبل اپنا بجٹ منظور نہیں کرواسکے ۔ صوبہ بلوچستان میں معلومات تک رسائی کا موَثر قانون نہ ہونے کے باعث ضلعی سطح پر شہریوں کی معلومات تک رسائی اور شفافیت کے فروغ میں مختلف اضلاع کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے سروے کیے گئے کسی بھی ضلع کی ویب ساءٹ نہیں ہے جبکہ ایک ضلع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جبکہ دو اضلاع کی جانب سے سیٹیزن بجٹ جاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا ۔ یاد رہے کہ سیٹیزن بجٹ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک عام شہری اپنے ضلع کے بجٹ کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ 23 میں سے صرف ایک ضلع میں بجٹ برانچ موجود ہے جبکہ 12 اضلاع میں بجٹ سازی کیلئے کوئی عملہ موجود نہیں ہے ۔ ، سروے کردہ تمام اضلاع کی ویب ساءٹس موجود نہیں ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!