انسان یا روبوٹ

Spread the love

تحریر :نوید بلوچ

میں جو سوچتا ہوں کیا درحقیقت یہ میرے اپنے ذہن کے تخلیق کردہ خیالات ہیں یا میرےخالی بکسے میں یہ چیزیں بچپن سے منتقل کر دیئے گئے ہیں؟ ایسے نہیں کرنا ایسا کرنا ہے ایسا کروگے تو مروگے, سوچتا ہوں طریقہ کارنظم و ضبط قوانین میں مجبوراََ یہ کر رہا ہوں یا مجھے کرنا ہی ایسا چائیے مجھ سے آخر یہ سماج چاہتاکیا ہے؟میں ایک لمحے کو اپنا ماضی یعنی تاریک ماضی پھر سے دہراتا ہوں پھر دیکھتا ہوں وہی عمل کر رہا ہوں وہی کرادار ہے میرا مجھ میں وہ صلاحیت ہی نہیں یا وہ قتل کر دی گئی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی صلاحیت, میں آزادی کی خواہش لیے پھرتا ہوں اور میرے خیالوں پر تالے یہ کیسے تالے ہیں؟ میں خود کو یوں محسوس تو نہیں کرتا میں بلکل ایسا نہیں مگر ایسے کیوں سوچتا ہوں؟

سماج میں ایک تعلیمی ادارے کا بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے مگر میرے لیے بس یہ ایک قید خانے ہے یہ وہ قید خانہ ہے جہاں والدین اپنے بچے کو بخوشی بیجھتے ہیں, میں اسے قید خانہ اسلیئے کہہ رہا ہوں کہ اس میں بند لوگ طلباء کے نام پر قیدی ہوتے ہیں یعنی نظم و ضبط کے پابند،قوانین کے پابند، استاد اس میں برگیڈیئر کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔بائر نکلو … جی ہاں اندر آو تم نے home work نہیں کیئے باہرٹھرو دھوپ میں سڑو, سوالوں پر ایک عجیب سی خاموشی یا پھر بجائے جواب کےطالب علم کو یہ احساس دلایا جاتا ہے تم محض دو ٹکے کے سپاہی ہو۔ استاد superhuman بن کر طلباء کو محض روبوٹ بننے کی تلقین کر رہا ہوتا ہے ایسے نظام سے یا تو superhuman کے race میں دوڑنے کیلئے گھوڑے تیار کیئے جاتے ہیں یا پھر معاشرے میں کند ذہنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے, پھر یہی بڑے ہوکر معاشرے کیلیے ناسور بن جاتے ہیں۔ مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس نظام میں سوالوں کا قتل نہیں ہوتا, شاید یہی وجہ ھیکہ اوشو اس تعلیمی نظام کو سیاستدانوں کا تخلیق کردہ اپاہج ذہن پیدا کرنے والا نظام کہتا ہے,

چنانچہ اس طرح اثاثے تو بڑھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ذہنی پسماندگی اور پستی میں اضافہ ہوتا ہے ایسی صورت میں ذہن چھوٹا اور پست رہ جاتا ہے, پھر اس نظام سے تخلیق ہونے والوں سے قوم امیدِ انقلاب اور تبدیلی کی امید رکھتی ہے, ہاں میں ہاں اور نا کی گنجائش ہی نہیں رہتی پھر جاکے یہ یا تو مکمل مذہبی یا پھر الٹرا مذہبی بن کر جاتے ہیں, جب ان سپاہیوں میں کچھ برگیڈیئر بن جاتے ہیں تو نئے سپائیوں کے ساتھ سلوک وہی رہتا ہے دائیں مڑ آگے بڑھ پیچھے مڑوغیرہ جیسے اشارات پر چلنے والے روبوٹ نما انسان۔ ہونا تو یہ چائیے کہ اس پورے تعلیمی نظام کو اکھاڑ دیا جائے اس کی ازسر تعمیر کیجائے اور ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں روبوٹ کی بجائے انسان بنائے جائیں,
جب محبت کے نام پر نفرت اور علم کے نام پر ہر قسم کی غلامی سیکھائی جا رہی ہو تو اس تعلیمی نظام کو دیکھنا بڑا تکلیف دا عمل ہوتا ہے, موجودہ تعلیمی نظام نے نا صرف صحت مند زہنوں کو آپائج کیا بلکہ انہیں انقلاب اور معاشرہ کیلئے بہتر شائستہ انداز و اطوار پیدا کیئے جاسکے, جانے والی نسلیں آنی والے والوں یہ یہ نظام تھونپ تھے گئے جیسے یہ نظام باپ دادا کی واثت میں ملی ہو, اسی نظام سے خدمت کے نام پر استحصال کرنے والوں نے جنم لیا,

تعلیم ہی انسان میں شعور پیدا کرتی ہے بلاشبہ تعلیم انسان کی تیسری آنکھ ہےتعلیم کی ضرورت ہر دور میں رہے گی تعلیمی معیار ہی انسانی طرقی کی وجہ بن سکتی ہے, اگر دیکھا جائے تو ہم جہاں تھے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔یہ سو سالہ پرانا تعلیمی نظام دورِ حاضر تک اپاہج ذہنوں میں اضافے کا سبب بنتا رہا ہے, اس حد تک کہ قوم اج بھی اپنی امت کا تعین کرنے سے قاصر ہے, نوجوان بھول بھلیوں میں اپنی جوانی صرف کرہے ہیں، اگر کوئی وسیع دماغ پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ سرکاری نوکری کو ہی کل کائنات سمجھ کر اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو اس بدعنواں نظام کے حوالے کرلیتا ہے چنانچہ بدعنوانیوں کو مزید دوام ملتا ہے اور نت نئے اندازوں میں بے ایمانیاں ہونے لگتی ہیں اور شعور اور تخلیق غلط ڈگر پر چلنے لگتے ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہیکہ بدعنوانی، بے ایمانی،رشوت اقربا پروری جیسے ناسور جڑ پکڑنے لگتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ اس تعلیمی پسماندگی سے نکلا جائے اور نئے دور کے مطابق تعلیمی ڈھانچے پر کام کیا جائے اور طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے اور ایک ایسے نظام تعلیم کو فروغ دیا جائے جس میں سوال کیا جانا کفر اور گناہ نہ سمجھی جائے صرف اسی صورت میں ہیں اس گھٹن زدہ معاشرے سے نکلا جا سکتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!