خضدار میں قلتِ آب تشویشناک رخ اختیار کر گیا

Spread the love

تحریر: نجیب زہری

 

بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر اور تیزی سے ترقی کی جانب گامزن جسے ہم خضدار کے نام سے جانتے ہیں اس شہر نے اپنے سینے پر بہت سے عروج و زوال اور حالات کی ناچاکیاں دفن کیئے ہیں۔

جی ہاں یہی خضدار ہے ان دنوں عدم توجہی کا شکار ہے اسکول سے لیکر ہسپتال تک عدالت سے نادرا کے مسائل تک اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں –

ان دنوں خضدارقلتِ آب کا شکار ہے جس نے بہت سے مسائل پیدا کیئے ہیں  اس وقت خضدار میں95 فیصد لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

دوسری طرف 90 فیصد ٹیوب ویل خشک ہوگئے ہیں اور تھلہ مالکان کے لئے بہترین کاروبار بن گیا ہے بورنگ پہ بورنگ لگ رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں  اوپر سے مہنگے داموں پانی فروخت کا دھندا بھی عروج پرہے۔

شہر میں قلت آب کے سنگین  نتائج دیکھ کر پی ایچ ای سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری  نے اس  بحران کو حل کرنے کے لئے جو 25 کڑوڑ مختص کئے تھے وہ کہاں گئے  یا کہاں خرچ کئے گئے ؟

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ساڑے چار سالوں میں 700 سو سے زائد زرعی ٹیوب ویل مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران میں (بطور رشوت) تقسیم کیے گئے، مگر افسوس آج تک اس حوالے سے  کوئی جوابدہ  نہیں ۔

خضدار کی بڑتی ہوئی آبادی کو دیکھیں تو مستقبل قریب میں اس بارے میں حالات تشویشناک رُخ اختیار کر جاتا ہے دوسری جانب پانی کی سطح کا گرنا اور ہر گھر میں غیر رجسٹرڈ بورنگز بھی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔

ماہرین نے خضدار میں پانی کی کمی پر اپنے رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ "حکومت کو چاہئے کہ بتائے ہوئے فارمولے استعمال میں لائے نہیں تو ایک ایسا دن آئے گا کہ خضدار کے لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترسیں گے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے جب کہ نظر دوڑائیں تو نقل مکانی ابھی سے شروع ہوچکی ہے ۔”

اس ماحول میں حکومتِ وقت کی بے خبری اور عدم توجہی بھی بڑتی ہوئی آبادی اور ترقی کے لئے تشویشناک ہے – حکومت کو چاہئے کہ بروقت کارروائی کرے اور اس مشکل سے بچنے کے لئے تدابیر پیدا کرے  وگرنہ یہاں کے باسیوں کو قلت آب کے حوالے سے مزید مشکلات درپیش ہونے کا خدشہ ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!