غیرت کے نام پر قتل

Spread the love

تحریر: نجیب زہری

 

کل شب کیفے پر بیٹھے تھے کہ میرے سینئر دوست محمد زمان لہڑی صاحب نے غصّے میں جھنجوڑا کہ زہری صاحب کل نصیر آباد میں غیرت کے نام پر جو سفاکانہ قتل ہوا معصوم خاتون کا اس پر آپ کیا کہتے ہیں کچھ دیر بولنے کی جرأت تو نہیں ہوئی بس یہ عرض کر کے چلتے بنا کہ اس کا جواب تحریر میں دونگا اب حکم کی تکمیل ضروری ہے۔

پاکستانی معاشرے میں زمانہ جاہلیت کے وہ فرسودہ روایات ابھی تک قائم ہیں جنکی بنیاد پر ہرطرف افرا تفری پھیل چکی ہے۔
غیرت کے نام پر انسانیت کا قتل رسم و رواج سمجھا جاتا ہے۔عام طور پر کسی مرد و عورت کے ناجائز ملن کو سندھی رسم میں کاروکاری، پنجاب میں کالا کالی، بلوچستان میں سیاہ کاری، اور خیبر پختونخواہ میں طورطورہ، کہا جاتا ہے خیر جو بھی کہا جائے پر اس بناء پر معصوم خواتین کا قتلِ عام غیرت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے یہ قتل قانونی و روایتی طور پر مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔
جہالت کے ٹھیکدار اس ثقافتی عمل کو شریعتِ اسلامیہ سے جوڑ کر اپنا دامن جھاڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں درحقیقت وہ اسلامی تعلیمات سے عاری ہوتے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ قطعاََ گنجائش نہیں دیتی کہ کسی انسان کا ناجائز خون بہایا جائے۔
القرآن۔النساء 93
جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کرتا ہے اس کی سزا جہنّم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے،
اسی طرح حدیثِ نبوی صلی الله عليه وسلم میں بھی اس عمل کی وعید ہے۔
الحدیث۔صحیح بخاری۔6355
حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن اس وقت تک اپنے دین کی وسعت میں ہے جب تک وہ کسی کا حرام اور ناحق خون نہیں بہاتا۔
وہ اسباب جن پر کسی کا خون بہانا مباح قرار دیا گیا ہے۔
"جو شخص بھی گواہی دے کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔اس مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے۔ لیکن تین اشیاء کی بنیاد پر، شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے قتل، اور جو دین ترک کرے اور جماعت سے علیحدہ ہو۔(بخاری۔6370۔مسلم۔3175۔)

شادی شدہ کا زنا کرنا ایک ایسا سبب ہے کہ جس کی بنیاد پر اس کا قتل مباح ہوجاتا ہے۔لیکن زانی کو اس وقت تک قتل نہیں کیا جاسکتا ہے جب تک دو شرائط نہ ہوں۔

شرطِ اول،

محصن” جو شخص شادی شدہ ہو
المحصن” سے مراد وہ مرد و عورت ہیں جو مکلِّف و آزاد اور جس نے صحیح نکاح کے بعد وطئی اور ہم بستری کی ہو۔

"احصان کی پانچ شرائط ہیں
1۔جماع
2۔نکاح میں ہو
3۔بالغ ہو
4۔عاقل ہو
5۔آزاد ہو

شرطِ ثانی۔

چار گواہوں کی گواہی سے حد ثابت ہو جائے اور وہ گواہی شرم گاہ کو شرم گاہ میں دیکھنی کی ہو یا وہ خود بنا جبر کے اعترافِ عمل کریں ۔
حد ثابت ہونے پر کسی فرد کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنی مرضی کی حد خود لاگو کرے۔
بلکہ وقت کے حکمران یا اس کے نائب سے رجوع کرنا عملِ واجب ہے۔کیونکہ رعایا کا حد لاگو کرنا فساد اور بدنظمی کا باعث بنے گا اور یونہی ہر کوئی اٹھ کر قتل کرتا پھرے گا۔
اگر کسی کو ایسا علم بھی ہوجائے تو شریعتِ اسلامیہ کہتی ہیں کہ اسے زلیل کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے عیب کو ظاہر نہ کیا جائے شاید کہ موت سے قبل توبہ کرے۔
کیونکہ نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ نے اعترافِ زنا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا حتیٰ کہ وہ بار بار آپ کے سامنے آکر اعتراف کرتے رہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قائم کی۔
آج جیسے لوگ اپنی ثقافت کو تہذیب کا نام دیکر غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں در حقیقت یہ ظلم و زیادتی ہے۔کیونکہ اس میں وہ بھی قتل ہو رہا ہے جو قتل کا مستحق نہیں ۔
کنواری لڑکی زنا کرے تو اسے بھی قتل کیا جا تا ہے حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں اس کی سزا تو ایک سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے نہ کہ اسکی سزا قتل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جب کنوارہ کنواری لڑکی و لڑکا زنا کرتے ہیں تو انکی کی سزا سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے۔(مسلم)

اگر اسی طرح کوئی کنواری یا کنوارہ لڑکی لڑکے کو غیرت کے نام پر کوئی قتل کرتا ہے تو وہ ایک انسانی نفس کو قتل کرتا ہے جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
اگر یہ سمجھا جائے کہ وہ قتل کے مستحق تھے تو پھر بھی حد حکمران جاری کرسکتا ہے۔لیکن بعض اوقات ہمارے معاشرے میں یہ قتل صرف گمان و شبہ کی بناء پر کیا جاتا ہے بنا تحقیقات کے یہ عملِ عام گردانا جاتا ہے۔

حقوقِ خواتین تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ پانچ سو قتل غیرت کے نام پر ہوتے ہیں اور یہ خاندانی رضامندی سے ہوتے ہیں۔
اگر قانونی طور پر دیکھیں تو غیرت کے نام پر قتل کے جرم کو ناقابلِ معافی اور ناقابلِ رضامندی جرم کا درجہ دینے کے لئے سینٹ سے منظور شدہ بل پی پی حکومت نے پاس کیا تھا جس میں کوڈ آف کرمنل پروسیجر) سی آر پی سی) 1898 میں ترمیم کردی گئی تھی کہ اس کیس میں مدعی خود ریاست ہے کیونکہ دوطرفہ خاندان مجرم ہوتے ہیں۔
اتنا سب ہونے کے باوجود معاشرہ تباہی وبربادی کی طرف جارہا ہو تو وقت کے حکمرانوں کو ضرور سوچنا چاہئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!