قومی تشخص اور دفاع کا مسلہ

Spread the love

تحریر: انور بلوچ

دنیا میں اقوام کی ترقی کی وجہ ان کی سیاسی افکار و نظریات اور ادب و ثقافت پر مخلصی سے کام کرنا ہے جس سے ان کی قومی بقاء و تشخص کو زندہ رکھنا ہوتا ہے جن اقوام  نے اپنے ادب (Literature) پر کام کیا ہے وہ دنیا کے نقشے پر عظیم قومیں تصور کی جاتی ہیں۔

 

ہم Middl East کی مثال لیتے ہیں جہاں مختلف اقوام ہیں جن کی سیاسی ہیروز اور ادب و ثقافت پر کام کرنے والے بڑی تعداد میں ملتے ہیں انہی اقوام کے ساتھ بلوچ قوم وہ کمبخت قوم ہے جس کو آج تک مخلص سیاسی رہنما اور ادب و ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے کوئی ادیب و دانشو رتک نصیب نہیں ہو پارہا ۔۔

بلوچ قوم کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ آج تک بلوچ قلم کاروں نے قوم کو متحد کرنے کی خاطر خود کسی بھی نقطہ نظر پہ اتفاق نہ کر سکیں ۔

نظریات اختلافات اپنی جگہ جب بلوچ قوم کی استحصال کی بات آتی ہے تو اہل علم و ایل  دانش خود کی ذاتی اختلافات کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم کو پیچھے دکھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

میری مراد بلوچ قوم کے وہ قلم کار جن کی تحاریر و تصانیف میں قوم کے لیے اچھی خاصی الفاظی ٹریٹمنٹ تو مل جاتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نظر نہیں آتا ۔ بلوچ قوم کے قلم کاروں کو قوم کو متحد کرنے سے پہلے خود ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر قوم کی بقاء کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی ۔

اسی طرح سیاسی جماعتیں اور ان کے مرکزی رہنماؤں کو مل کر سائل و وسائل کی کوشش کرنی چاہئے تب جاکر قوم کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں ۔۔

شاید میری تحریر قریبی دوستوں قلم کاروں یا سیاسی شخصیات پر گراں گزرے لیکن موجودہ وقت کی ایک اہم ضرورت تنقیدی بحث و مباحثہ ہے جسے ہم نہیں کر رہے ہیں ۔

اختلاف رائے کا حق سب کو حاصل ہے ، البتہ سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر بحث و مباحثے کی گنجائش پیدا کی جانی چائیے اور خاص کر قلم کاروں کو بجائے کسی تنظیم یا کسی ذات کے دفاع کے، قومی تشخص کا دفاع کرنا ہوگی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!