بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)مرکزی کابینہ کا اجلاس

Spread the love

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت مرکزی چیئرمین گہرام اسلم بلوچ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل منعقد ہوا اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل حمید بلوچ مرکزی سینئر وائیس چیئرمین کامریڈ عمران بلوچ مرکزی سیکرٹری اطلاعات نادر بلوچ موجود تھے اجلاس میں سیاسی و تنظیمی معاملات کونسل سیشن آ ئندہ کا لائحہ عمل سمیت دیگر امور کے ایجنڈے زیر بحث رہے اجلاس میں بی ایس او پجار اور نیشنل پارٹی کے ساتھ فکری و نظریاتی وابستگی پر سیر حاصل بحث رہی و بی ایس او کی قومی و تاریخی جدوجہد کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں مزید اس بات پر زور دیا گیا کہ بی ایس او دوبارہ آزادانہ حیثیت دلانے کی بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے چونکہ بی ایس او کے جدوجہد کے بغیر بلوچ قوم پرست آنہ سیاست کو فروغ نہیں دیا جاسکتا اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو ذہنی و نظریاتی بنیاد پر تیار کرنے اور بلوچ سیاست کے دھارے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے اجلاس میں بی ہاس او پجار کا کو نسل سیشن 20,21,22 اکتوبر کو بنام میر یوسف عزیز مگسی بیاد ء شہید چیئرمین رازق بگٹی میر عبدالعزیز کرد واجہ عبدالمجید گوادری بمقام نال منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں تنظیمی نضم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر خاران ذون کے صدر نجیب بلوچ بلاول بلوچ کریم ثناء بلوچ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے فیصلہ کرکے ایک ہفتہ کے اندر اندر جواب طلبی کی ہدایت کی گئی.اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئرمین گہرام اسلم بلوچ نے کہا کہ قوم پرستی کی سیاست سے خائف قومیں نت نئے حربے استعمال کرکے قوم پرستی کی جدوجہد کو ثبوتاج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے آج کے معروضی حالات و نزاکت کو سمجھتے ہوئے قوم پرستی کی جدوجہد سے منسلک قوتیں اپنی صفوں کو درست سمت میں لیجاکر بلوچ قومی تشخيص شناخت سرزمین کی دفاع و تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر جدوجہد کا الم بلند کرے بی ایس او پجار کے جدوجہد کا محور و مقصد بھی بلوچ قوم کو ایک منعظم طاقت ور پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو عوام کو متحد و منعظم کرنے کے بھر پور صلاحیت رکھتا ہوں اور ان کے حقوق کا ضامن ہو انہوں نے کہا کہ تقسیم در تقسیم کی سیاست میں بلوچ عوام میں سوائے پسماندگی اور مایوسی کے کچھ نہیں دیا جس کی وجہ سے آج بلوچ اور بلوچستان دشمن قوتیں بلا خوف و ججک ہمارے وسائل کو بےدردی سے لوٹ رہے ہیں ہمارے حقوق سلف کیے جارہے ہیں وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمیں اپنی انا پرستی خود غرضی عدم برداشت کی سیاست سے نکل کر ایک منعظم قوت بن کرمشترکہ دشمن کے خلاف اپنی طاقت و توانائی سرف کرنا چاہیے اگر اب بھی بلوچ قوم پرست قوتوں نے اپنی رویوں میں تبدیلی نہیں لائی تو ہماری آنے والی نسل ان کو قومی مجرم کہٹرے میں لاکھڑا کردے گی انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل جوکہ بلوچستان کا اہم ترین تعلیمی درس گاہ ہے جو آج مسائلستان بن چکا ہے یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی پریشانیوں میں آئے روز اضافہ ہورہاہے بیرون و اندرنی ملک اسکالرشپ میں میرٹ کو نظرانداز کرکے اپنی من پسند طلبہ کو نوازا جاتا ہے اسٹڈی ٹورز پے طلبہ کو بھیجنے کے بجائے وہ پیسے ہڑپ کیے جارہے ہیں ہاسٹل کی کمی کی وجہ سے طلبہ کو رہائش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے فیسوں میں حد سے زیادہ اضافہ طلبہ کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کی سازش ہے خستہ حال عمارتوں میں کلاسس اور طلبہ کی رہایش کسی وقت وقت کوئی ناخوشگوار واقع ہوسکتا ہے کنٹریکٹ پے سفارش کے بنیاد پے کیلچرارز بھرتی کیے جارہے ہیں لائیبرری میں کتابیں نہ ہونے کے برابر ہے یونیورسٹی انتظامیہ کا رویہ طلبہ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ایسے تعلیمی مسائل جو اس تعلیمک درسگاہ کو تباہی کی جانب لے جارہا ہے لیکن بی ایس او پجار ایک ذمہ دار طلبہ تنظیم تعلیمی اداروں کو تباہ و برباد کرنے کی کسی قوت کو اجازت نہیں دے گی اگر یونیورسٹی بنیادی مسائل پر جلد از جلد توجہ نہیں دی گئی تو تنظیم آئیندہ کا لائحہ عمل تہ کرکے یونیورسٹی انتظامیہ کے ان تعلیم دشمن پالیسوں کے خلاف سخت احتجاج کی راہ اپنائے گی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!