گوادر پیاسا ہے

Spread the love

تحریر : نوید بلوچ

کہتے ہیں پاک چین تعلقات 1950 میں قائم ہوئے پاکستان اور چین جنوبی ایشیاء کے دو بہترین ہمسائے سمجھے جاتے ہیں انکی دوستی کو ہمالیہ کی اونچائی اور سمندر کی گہرائی سے تشبیہ دی جاتی ہے یہ دوستی اب رشتہ داریوں میں تبدیل نا ہوجائے کیونکہ حکمرانوں کی مہربانیاں بہت حد تک بڑھ چکی ہیں. چین کی ثقافت اور روایات کو ٹی وی ڈراموں کے زریعے ہماری ثقافت کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور خدشہ یہی کہ کہیں یہ شاہی خاندان چینیوں سے رشتہ داریاں ہی شروع نہ کردیں.
دوسری طرف گوادر جوکہ انکی دوستی کا سبب ہے وہاں زندگی کچھ اور ہی کہتی ہے گوادر کی قلیل آبادی سمندر کے پاس ہوکر بھی پینے کے صاف کو ترستی ہے. ستم ظریفی یہ کہ گوادر کے علاقے اورماڑہ میں پانی کیلئے احتجاج کیا جاتا ہے.خواتین کی بھر پور شرکت ہوتی ہے عوام کے مسلئے کو حل کرنے کی بجائے خواتین پر حملہ کیا جاتا ہے.اس حملے کا صاف مطلب یہ ھیکہ گوادر کے لوگوں کو پانی نہیں ملے گی.


سی پیک کے نام سے پاکستان جو بڑے بڑےدعوے کرتا ہے دراصل اسکی حقیقت یہی ہے کہ گوادر کے لوگوں کو پینےکا صاف پانی تک میسر نہیں.گوادر جسکا چرچادنیا بھر میں ہو رہا ہےحقیقت یہ ھیکہ لوگوں کو پانی تک میسر نہیں اور پانی مانگنے پر لاٹیاں برسائی جارہی ہے گوادر کی حقیقت چھپانے سے نہیں چھپنے والا.گوادرسمندر کی دامن پر واقع ہونے کے باوجود نہ خود کو سیراب کرسکا اور نا ہی اپنے لوگوں کی پیاس بجھا سکا. واٹر پلانٹ لگائے گئے, ڈیم بنائے گئے, طرح طرح کے منصوبے بنائے گئے مگر پھر بھی گوادرکی پیاس نہیں بجھی اور شاید یہ پیاس کبھی نا بجھے اورآدم کےیہ بچے پیاس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے اجداد کی روایت کی پیروئی کرتے ہوئے ہجرت پہ مجبور ہوجائیں. سامراجوں کا یہ حربہ کہ "یا تو پیاس سے مرو یا تو ہجرت کرلو”شاید کام کر جائے اور گوادر ڈی پاپولیٹ ہوجائے یعنی خالی ہوجائے.
ارے معزرت بھائی یہ تو گوادر پورٹ ہی ہے جس کا میں زکر کر رہا ہوں اسکے بارے میں بتانا بھول گیا. گوادر پاکستان کے جنوب مغرب میں دنیا کی سب سے بڑی بحری تجارتی راستے پر واقع بندرگاہ ہونے کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے. یہ آنے والے وقتوں میں نا صرف پاکستان بلکہ چین افغانستان اور وسط ایشیاء کی ممالک کی تجارت کا اہم زریعہ ہوگا. اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کا یہ اڈہ مسائل سے دوچار ہے. سب کی نظریں گوادر کے ساحل پر بننے والی بندرگاہ پر ہیں جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شاہرگ ہے.
گوادر اس وقت بھی پانی کی سنگین مسائل سے گزر رہا ہے صوبائی حکومت بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے. بڑے ڈی سلینیشن پلانٹ اور میرانی ڈیم سے پائپ لائن لگانے کا منصوبہ بنایا گیا مگر گوادر کے مکینوں کے کام نہیں آیا. جبکہ راہداری کے مد میں چین دیگر منصوبوں مثلاَ کوسٹل ہائی وے, قراقرم ہائی وے اور چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ پر لگ بگ 20 بلین خرچ کر چُکا ہے مگر گوادر کے پینے کے پانی کا مسئلہ بقول احسن اقبال کے ضلعی مسئلہ ہے تو قبلہ جس پرائمری سکول کو اقتصادی راہداری کے منصوبے کا حصہ ظاہر کرکے داد سمیٹی گئی دیکھا جائے تو اٹھارویں آئینی ترمیم کیمطابق تعلیم صوبوں کا درد سر ہے آپ نے کیوں زحمت کی. بھلا گوادر کے گنواروں کو انٹرنیشنل تعلیم دینے کا درد آپ کے دل میں ایک دم سے کیسے اٹھنے لگا. پیاس کا مارا تعلیم کی طلب و بھوک کو کیا جانے وہ کیا جانے کہ سڑکیں بن رہی ہے.
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اس منصوبے سے پاکستان کو ایک اور موقع مل جائے گا کہ وہ چین کی ٹیکنالوجی اور اسکے دوسرے منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکے.یارلوگ تو اس حد تک کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ بننے سے پاکستانی معیشت کو پَر لگ جائینگے.
گوادر ایکسپریس وے کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے کہا تھا کہ15 ارب روپے کے اس خطیر لاگت کے منصوبے سے گوادر بندرگاہ کو کوسٹل ہائی وے سے منسلک کرے گا. انیس سو کلومیٹر کے اس ایکسپریس وے کی تکمیل سے ہر قسم کی ٹریفک کو گوادر بندرگاہ تک رسائی ملے گی. سی پیک میں شامل جن منصوبوں پر عملدرامد کیا جارہا ہے انکی تکمیل سے گوادر مستقبل میں تجارتی حوالے سے ایک جدید پورٹ سٹی بن جائے گا.
عرض یہ ہیکہ اربوں روپوں کے ان منصوبوں سے گوادر کے مچھیروں کوپانی تک تو مہیا نہ ہوسکا. کیا فائدہ ایسے حساب کتاب سمجھانے کا. کیا فائدہ اس ضرب,جمع, تفریق کا. یہ سب توصرف حکمرانوں کیلئے ہے. اس جمع تفریق کا البتہ کچھ حکمرانوں کے اولادوں پر بڑا اثر پڑھتا ہے اور وہ اپنی جدید ترین گاڑیوں میں بیٹھ کر گوادر کی غریب ماہیگیروں کے جگھیوں کے پاس سے گزر کر انکی آنکھوں میں دھول اڑاتے ہیں اور انکی بے بسی پر ہنستے ہیں اورکبھی موڈ بنے تو ویڈیو بھی بنا لیتے ہیں.
گوادر!تیرا دکھ تومیرے دکھوں سے بھی بڑا ہے.بہت بڑا….!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!