الووداع جامعہ بلوچستان

Spread the love

تحریر :اسرار احمد ابراہیم

قسط 1

بقول شکسپیئر’ زندگی ایک اسٹیج ہے جہاں ہر ایک اپنے کردار ادا کرکے چلا جاتا ہے۔ اس اسٹیج پر انسان کا ہر ادا تاریخ کا حصہ بن کر ہمیشہ کیلئے انسان کے زندگی کے شخصیت کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ یہاں انسان کے اچھے عادات بھی محفوظ رہتے ہیں اور برے عادات بھی۔ اس وجہ سے بعض سخصیات کی دنیا سے رحلت کے بعد اچھے نام اور بعض نفرت کے طور پر یاد رہتے ہیں۔ اس کی وجہ اس شخص کے اسی زندگی کے اسٹیج پر ادا کئے گئے کردار یے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سو سال زندہ رہنے کیلئے سو سال کی زندگی کی ضروت نہیں بلکہ ایک ایسا کردار ادا کرو کہ آپ کو سو سال زندہ رکئے۔
آج میرے بھی سامنے کئی ایسے لمحات گزرے ہیں جن میں میرے اپنے،اساتذہ، والدین، بہن بھائیوں، عزیز رشتہ داروں، دوستوں اپنے اور پرائے سب کے کردار میرے تحت الشعور میں محفوظ ہے۔ شاید میں ان لمحات اور کردار کو زندگی بھر بھلا نہ سکوں۔ خیر زندگی ایک ناترس کے ہاتھوں گزر رہا ہے جسے وقت Time کہتے ہیں۔

اس مختصر سی زندگی نے مجھے ایک تعلیم گاہ(ڈگری کالج) سے Bsc مکمل ہونے کے بعد جامع بلوچستان میں ایک کونے پر واقع زولوجی ڈیپارٹمنٹ کا سپرد کردی۔ اس جامع کے دنیا میں قدم رکھتے ہوئے مجھے اپنے کم علمی اور اپنے شعبے میں کمزوری کا انتہائی ہوا کیونکہ اس سے پہلے کی حالت میرے Bsc کے ہم جماعت کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ جامع بلوچستان کے سائنس فکلٹی زولوجی میں ماسٹر کرنا ایک نا مکمل خواب تھا۔ اس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے کے عمل میں میرے راہشون P.hd اسکالر لونگ خان بلوچ کے کاوشوں کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔

واہ کیا قسمت ہے میری کہ زولوجی ڈیپارٹمنٹ کے مایہ ناز اساتذہ کے زیر سایہ ماسٹر کرنے کا موقع ملا۔ چونکہ سال اول کے ابتدائی دنوں میں اجنبیت سی کیفیت تاری تھی لیکن اساتذہ نے دست شفقت میرے سر پر رکھ کر مجھے بیگانگی کے احساس کے چنگل سے نکال دیا۔ میں اپنے ان اساتذہ کے قابل ستائس کو زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔ سال اول میں محترم ڈاکٹر سر عاصم اقبال، سر کامران کاشف، سر ظہور بادینی، ڈاکٹر سر شہاب الدین جیسے عظیم اساتذہ کے اسٹوڈنٹ ہونے کا سعادت حاصل ہوا۔

( جاری )

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!