سبی

Spread the love

تحریر : ببرک کارمل جمالی

 

پاکستان کے سب سے بڑے میلہ مویشاں وصنعتی نمائش لاہور کے بعد سبی میلہ ملک بھر کا دوسرا قومی میلہ ہے۔ سبی کی ایک روایت یہاں کا میلہ ہے۔۔اس سال بھی سبی کا میلہ 24 فروری سے شروع ہوگا ۔تمام انتظامات مکمل سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں اور اہم عمارتوں سمیت سبی شہر کو دلہن کی طرح سجادیا جائے گا۔ برقی قمقوں سے شہر کے حسن میں اضافہ کردیا جائے گا۔ مین راستوں پر خیرمقدمی بینرزلگانے کے علاوہ صدر پاکستان ، وزیر اعظم ، گورنر بلوچستان وزیراعلیٰ بلوچستان صوبائی وزیروں چیف سیکرٹری سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو دعوت دی گئی ہیں۔ سبی اپنی مہمان نوازی اور گرمی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے سبی بلکہ بلوچستان اور ملک بھر کے مالداروں وتجارت پیشہ افراد کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہے۔ جبکہ ثقافتی پروگرامز سے ہمارا قومی کلچر فروغ پاتا ہے۔ سبی میلے میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ قائداعظم محمد علی جناح سبی میں شاہی دربار کی کرسی کی صدارت پر جلوہ افروز ہوئے تھے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے تو اسکی ثقافت بھی وسیع تر ہے ۔اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے ۔اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خیبر پختون خواہ، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ و پنجاب اور مغرب میں ایران واقع ہے۔ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔ سی پیک کی سر زمین بھی بلوچستان کو کہتے ہیں۔ اس بلوچستان کے بیچوں بیچ جو شہر آباد ہے وہ ہے سبی۔

سبی کے بارے میں یہ شعر مشہور ہے کہ سبی ساختی دوزخ چرا پرداختی ۔اس کا مفہوم ہے کہ پیارے اللہ میاں جب اس سر زمین پر سبی کو بنایا تھا تو دوزخ بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔ہم نے سبی شہر کو قریب سے دیکھا ہے ۔سبی کی آب ہوا گرم ترین ہے ۔گرمیوں میں 120ڈگری درجہ حرارت اس شہر کا مقدر بنتا ہے۔ گرمیوں میں سورج کی روشنی پہ آپ روٹی پکا نہیں سکتے مگر کچھ حصہ ضرور سورج تیار کرکے دے گا ۔انگریز جب بھی سبی سے ریل کے راستے کوئٹہ جاتے تھے تو کم ازکم دوسری مرتبہ اس شہر سے گزنے کا سوچتے تھے ۔اتنی گرمی وہ دیکھ کے کہتے تھے ’’اُف خدایا یہ کون سا جہاں ہے ۔کیسے لوگ یہاں بستے ہیں اور کیسے زندگی گزارتے ہیں‘‘

سبی ایک تاریخی شہر ہے ۔اس شہر کی بہت سی خصوصیات ہیں جنہیں بیان کرنے کیلئے کئی کتابیں اور سفر نامے لکھے جا سکتے ہیں ۔سبی درہ بولان کے دہانے پر شمال مشرق میں واقع اورسطع سمندر سے 485 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ سبی کاموجودہ شہر افغانستان پر انگریزوں کے دوسرے حملے کے بعد تعمیر کیا گیا۔ اس زمین کا مالک باروزئی خاندان تھا۔ سبی کی آج کل کُل آبادی دو سے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ سبی جس نے تاریخ کے اونچے نیچے دور بہت دیکھے ہیں کئی حاکم اس شہر سے گزرے اور کئی حاکم اس شہر کے بادشاہ بنے۔ اس شہر کی بنیاد آریہ سیوا قوم نے ڈالی تھی ۔اس شہر کا پہلا نام سیوی تھا،پھر انگریزوں کو یہ نام عجیب لگا تو اس شہر کا نام سی بی رکھا گیا ۔پھر آہستہ آہستہ اس شہر کا نا سبی پڑگیا۔

میر چاکر رند نے اس شہر پہ 35 سال تک حکومت کی اور اپنا ایک قلعہ بھی اسی شہر میں تعمیر کروایا تھا جو آج بھی خستہ حالی میں موجود ہے ۔اس کی دیواریں اتنی چوڑی ہیں کہ گھوڑا بہ آسانی اسی پہ چل سکتا ہے اورگھوڑے سوار اس دیوار پہ پہرے داری بھی کرتے تھے ۔
انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں یہاں جرگہ ہال بھی تعمیر کروایا تھا جو آج بھی موجود ہے ۔اسے سبی دربار بھی کہتے ہے اور کچھ لوگوں نے اپنے دور میں اسے سبی میوزیم اور بولان میوزیم کے بھی نام دیئے تھے ۔لیکن دنیا میں یہ جرگہ ہال کے نام سے مشہور ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!