فریادِ بلوچستان

Spread the love

تحریر جمیل فاکرؔ

یہ وہ فریاد بلوچستان نہیں جسے آج سے برسوں پہلے بلوچستان کے نڈر صحافی اور نوجوان سیاست دان یوسف عزیز مگسی نے لکھا تھا ۔اس وقت سے آج تک بہت کچھ بدلا ہیں مگر بلوچستان کے ساتھ کچھ نا انصافیاں اسی طرح جاری آج بھی اظہار ءِ راے پر پابندی ہے مگر الگ رنگ اور طریقے سے ۔اگر بغور قومی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے حقاق سامنے آئینگے الیکٹرانک میڈیا کی تو بات ہی نرالی ہے وہاں پہ تو وہ لوگ اپنا نقطہ نظر پیش کر سکتے جن کی آواز اونچی ہو واقعات کا علم ہو نہ ہو ۔
اگر بات کی جائے پرنٹ میڈیا کی تو اسلام آباد اور کراچی سے چھپنے والے قومی اخبارات کے شمارے کوئٹہ سے بھی شائع ہوتے ہے مگر ان میں بھی بلوچستان کہ حالات و واقعات خبروں تک محدود ہے ۔البتہ بلوچستان میں جب کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس پر کبھی کوئی اداریہ یا کالم پڑھنے کو ملتا ہے ۔آج کہ اس ترقی یافتہ دور میں جہاں سوشل میڈیا کے زریعے کسی بھی واقعہ کی رپورٹ چند منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی لیکن اہم قومی اخبارات میں چھپنے والے مختلف موضوعات پے کالموں کہ اہمیت سی انکار نہیں کیا جاسکتا کسی بھی موضوع پے چھپنے والے اداریے اور اظہاریے کی اپنی اہمیت ہوتی ۔جہان قومی اخبارات کہ ادارتی صفحوں میں بلوچستان کو بہت کم جگہ ملتی ہے وہاں بلوچستان سے چھپنے والے اخبارات کے ادارتی صفحوں پے بلوچستان کے حوالے سے بہت کم پرھنے کو ملتا بات یہ نہیں کہ بلوچستان میں لکھنے والوں کی یا موضوعات کی کمی ہے بات ہے لکھنے والوں کے مضامین اور کالم کو اخباروں میں جگہ دینے کی ۔یہی وجہ کہ بلوچستان کہ اہل قلم اپنے اظہارے رائے کیلیے افسانوی ادب کا سہارا لیتے ۔
آج بھی سوشل میڈیا پے بلوچستان کے حوالے بہت اہم موضوعات پہ لکھا جا رہا ہے اگر ان ایڈیٹر صا حبان کو فرصت ملے تو کبھی سوشل میڈیا پے شایع ہونے والے مضامین اور کالم پڑھے بجائے ایک مہینے پرانی کسی اسلام آباد میں بیٹھے صحافی کی کسی اور موضوع پے کالم چھاپنے کہ اگر بلوچستان میں بیٹھے یہاں کے مقامی سماجی سیاسی موضوعات پے لکھے والے کسی صحافی کے کالم کو جگہ دے۔
ہر صحافتی ادارے کی اپنی ایک پالیسی ہوتی ہے لیکن وہ پالیسی اتنی بھی پیچیدہ نہیں ہوگی کہ بلوچستان کے لکھنے والے اسے سمجھنے سے قاصر رہے ۔بلوچستان کے حوالے سے جب اسلام آباد یا ملک کے کسی اور حصے میں بیٹھ کر کوئی صحافی کالم لکھتا ہے تو بہت کچھ مس کر جاتا ہے بعض اوقات تو قومی میڈیا میں چپھنے والے خبریں بھی یہاں کے زمینی حقاق سے مطابقت نہیں رکھتے اسکی ایک بڑی وجہ بلوچستان سے صحافتی اداروں کے نمئاندگان کا پروفیشنل ہونا نہیں بہت کم ایسے نمائندے یا رپوٹرز ہے جنہیں صحافت کا علم ہو یا صحافت تکنیک او باریکوں سے قاقف ہو۔ یاد رہے کہ بلوچستان یونیورسٹی سے سالانہ 100 کے قریب طلبا صحافت کی ڈگری حاصل کرتے ہے مگر اداروں میں صرف وہ لوگ پہنچ پاتے ہیں جن کی بڑے لوگوں سے اچھی جان پہچان ہوتی ہے ۔جو لوگ یہاں سے اخبار اور ٹی وی چینلز کیلئے رپورٹنگ کرتے ہے ۔ایڈیٹر صاحبان یہ تک جاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ نمائندے نے جو رپورٹ بیجھا ہے اسکی صحت کیسی ہے۔ کسی کے خلاف کسی کے حق میں چھپنے والے خبر کسی دباو یا خوش اسلوبی حاصل کرنے کیلے صحافتی اصولوں کو پامال تو نہیں کیا گیا ۔ایسے سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں صحافیوں نے اپنے ذاتی اختلاف کو
سامنے رکھ کر کسی فرد یا ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایسے معملات میں ایک طرف اس صحافی کا صحافتی اصولوں سے نا آشنا ہونا ہے تو دوسری طرف ایڈیٹر صاحبان کا اندھا اعتماد۔
آج کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے باقی اضلاع میں اخبارات کی ترسیل کوبند ہوئے کئی ہفتوں گزر گۓ  مگر اس حوالے نہ حکومتی اداروں کی طرف سے نہ صحافتی اداروں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ اقدم سامنے آیا ۔اپنے بیانات نہ چھاپنے کی وجہ سے ایک طرف عسکری او دہشت گرد تنظیمیں دباؤ ڈالتے ہیں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندیا جو کہ ملکی سالمیت کے لیے بنائے گئے مگر انکا شکار دس ہزار کے لیے رپورٹنگ کرنے والا بن جاتا ہے میڈیا مالکان اور حکومت وقت پے کوئی اثر نہیں پڑتا ۔اطلا عات تک رسائی کسی بھی جمہوری ریاست میں شہریوں کا بنیادی حق ہوتا ہے مگر یہاں یہ عالم کے ایک مہینہ ہونے کو ہے بلوچستان کے عوام کو اخبارات سے محروم رکھا گیا ہے ۔دوسرے بنیادی حقوق کی کیا بات کی جائے ۔
اظہاررائے کا ہر کسی کو حاصل ہے جو مثبت اور منفی دونوں ہو سکتے جمہوری حکومتیں اس حوالے مثبت اقدامات کرتے ۔اگر کہیں سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہوتا تو اسکو زائل کرنے کے لیے قومی میڈیا کے زریعے صحافتی پرپیگنڈا کی جاتی ہے ۔مگر اسکا حل یہ نہیں کہ اخبارات کی ترسیل بند کی جائے ۔صحافتی اور حکومتی اس حوالے سے فوری اقدامات کرے تاکہ اس ترقی یافتہ دور میں لوگوں تک اطلاعات اور معلومات با آسانی پہنچ سکے.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!