خضدار میں مستقبل کے انجنیئرز سے ملاقات

Spread the love

تحریر۔ محمد عمران

میرے اندازے اور احساسات کے مطابق طلب علم کے پیاسے یعنی اسٹوڈنٹ جن وقتوں اور لمحوں میں اپنے آپ کو قیدی محسوس کرتا ہے وہ ہے امتحانات کے قریب تر ہونے اور پیپرز کے شروع ہونے کے دورانیے۔ ویسے تو یہاں طلبہ مختلف پریشانیوں اور الجھن کا شکار ہے جیسے کہ اداروں میں فیلڈ سے متعلق آلات اور سہولیات کا فقدان، بھاری فیسوں کا بوجھ وغیرہ۔
میں (راقم) اس قید سے آزاد ہوکر دوستوں سے ملنے کی تشنگی دور کرنے کیلئے دو روزہ اپنے ہمفکر دوست کے ساتھ خضدار کے راہ کا راہگیر بن گئے۔چونکہ میں اپنے زندگی میں لمبی سفر طے نہیں کیا تھا۔ دوستوں سے سنا تھا کہ لمبی سفر پر پہلی مرتبہ جانے والے کے ساتھ مختلف قسم کے دشواریاں پیش آتے ہیں مثلاً سر کا چکرانہ، قے کرنا،بے چینی سے کیفیت طاری ہونا وغیرہ وغیرہ
خیر ان دشواریوں کا تو حل کچھ ٹیبلٹس میں ڈھونڈ کر تو نکال سکتے ہیں لیکن وہ خطرناک دشواری پیش نہ آئے جو کچھ عرصہ پہلے عام تھے لوٹ ماری، اغواہ، ٹارگٹ کلنگ وغیرہ۔ میں اپنے وس کے دشواریوں پر حاوی ہونے کیلئے کچھ ادویات اپنے پاس اٹھایا۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ اس سفر میں ایک ہم نظریہ بھی ہمفسر ہے۔ سفر طے کرنے کے بعد خیال آیا کہ ان دشواریوں کا بلا کیوں سامنا کرنا پڑتا اپنے ہمفکر کے ساتھ۔ آج زندگی کی ایک اہم راز افشا ہوا میرے سامنے کہ زندگی کے مشکلات سے بچنے کیلئے ایک ہمفکر، ہم نظریہ بھی ہمسفر رکھنا چاہیئے۔
یہ لمبی سفر تقریباً ڈیڑھ سو میل سے زیادہ کا پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم جھالاوان کے مرکز خضدار پہنچ گئے۔ اب تو ہمارے موڈ کو اس دھرتی کی خوشگوار موسم نے دگنا خوشگوار کردیا۔کچھ عرصے پہلے یہاں کے حالات کافی خوفناک اور انسانیت سوز واقعات روز کا معمول بن گا تھا۔ لیکن اب کافی تبدیلی آئی تھی۔ لوگوں کے چہروں سے خوف کا عالم اٹھ چکا تھا۔شہر میں کافی چہل پہل تھی۔ لوگوں کے زندگی کے پھر رونقیں بحال ہوکر خوشیوں کے آنگن میں مست تھے۔ اب کے حالات نے خضدار کے باسیوں کے زندگی کو دو چاند لگائے تھے۔
ہم جیسے ہی ویگن سے اترے چند قدم کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا ہوٹل جسکا نام تھا باغبانہ ہوٹل، پر قہوہ چائے کی چسکیوں سے ایک عجیب سی روحانی اور جسمانی تسکین محسوس کررہے تھے شاید اس طرح کا لمحہ پہلی بار میری زندگی میں آئی ہو۔ خیر تھکاوٹ تو مجھے محسوس ہی نہ ہوئی کیونکہ اس طویل سفر میں شروع سے آخر تک ہم (میں اور میرا ہمفسر دوست) اپنے بحث مباحثے میں اس طرح مگن ہوگئے کہ یہ خیال تک نہیں آیا کہ ہمارے ارد گرد کافی اور مسافر بھی ہیں۔ آخری اسٹاپ پر (سفر کے آخری اسٹاپ پر زندگی کی نہیں کیونکہ اس سفر میں کئی نوجوانوں کے زندگی درندوں کے ہاتھوں اپنے آخری اسٹاپ پر پہنچ گئے تھے) ویگن سے اترے۔ اسی ویگن میں ایک بیگانہ نوجوان ہمارے طرف تعجب کے نگاهوں سے دیکھتے ہوئے لب کشائی کی، یار آپ لوگ ویگن میں اپنے بحث مباحثے میں ایسی گرم جوشی اختیار کی ہم سمجھے کہ بس لڑائی شروع کروگے جسے کہ ARY channel پر دو مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کرتے ہیں لیکن ابھی آپ دونوں ایک ساتھ ہوکر جارہے ہو۔ ہم ایک مسکراہٹ میں نوجوان کو نظرانداز کردیئے اور اوپر زکر کئے ہوٹل پر بیٹھ گئے۔کچھ ساعت انجان پن کا شکار رہے لیکن جیسے ہی دوستوں کو پہنچنے کا علم ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے شیخ سراج ہمارے پاس پہنچ گیا اور قہوہ کے مزے کو دوبالا کردیا۔ اب میں کیا بیان کروں ایک تو شیخ کے چہرے کے مسکراہٹ نے ہمارے دل جیت لیا دوسرا خضدار کے باسیوں کی سادگی اپنے پرانے طرز زندگی اختیار کیئے نے ہمیں گھر سے دوری کا تو مچھر کے پر کا برابر بھی احساس نہیں دلایا۔ ویسے تو پورا بلوچستان ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا گھر ہے جہاں کے رسم و رواج، زبان اور طرز زندگی ایک جیسے ہیں۔
پھر ہم اپنے منزل یعنی خضدار انجنیئرنگ یونیورسٹی پہنچ گئے جہاں دوست پہلے سے ہمارے انتظار میں تھے۔ یونیورسٹی میں داخل ہوکر ویرانی سی محسوس ہوئی لیکن جلد ہی پتہ چلا کہ یہاں سارے اسٹوڈنٹس قیدِ امتحانات میں بند ہیں۔ چونکہ ہمارا یہ تنظیمی دورہ تھا تو ہم سیدھے زونل صدر بابر کمال بلوچ کے روم کی طرف چل پڑے۔ بابر جان ہمارے پہنچنے سے پہلے باہر ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔
بابر کمال بلوچ کے والدین کو شاید الہامی آئے تھے کہ نام میں کمال لکھ دیا کیونکہ واقعی بابر ایک کمال کا سوج بوجھ اور رویہ کے مالک ہے۔ سابقہ تنظیمی سرگرمیوں سے ہمیں آگاہی ملی کہ بابر نے جس کمال سے تنظیمی سرگرمیاں سرانجام دئے ہیں شاید یہ صرف ایک باشعور نوجوان ہی کرسکتا ہے۔ سننے میں آیا تھا ایک متحرک شخص پوری گروپ اور معاشرے کو چست کرسکتا ہے۔ آج بابر نے یہ ثابت کردیا۔ اسی طرح تنظیم کے دوسرے ممبران سے ملکر ان کے ذہانت، سوچ، علم، شعور اور کونفیڈینس کو دیکھ کرہمیں بے پناہ خوشی ملی۔ میں آج یقین سے کہتا ہوں کہ اب بلوچستان کے اسٹوڈنٹس پر کوئی اپنے جاہلانہ انداز میں تنقید نہیں کرسکے گا۔ اب ہم دنیاکو یہ باور کروائیں گے کہ بلوچستان تعلیم اور شعور کے میدان میں کسی قوم سے پیچھے نہیں ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی(BSAC) آج بلوچستان کے بیشتر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنا ایک مقام بنائی ہے۔ یہی خضدار زون کے طرف سے کچھ مہینے پہلے ایک بک فیسٹول منائے تھے جہاں خضدار کے ڈی سی، کمشنر، یونیورسٹی کا وی سی اور علاقے کے معززین کافی تعداد میں شرکت کئے تھے۔
ہمارے کچھ ادارے کچھ معاملات میں شہر بے پرساں کا سماں اختیار کئے ہیں جیسے ان خضدار زون کے کاکنان نے اپنے قیمتی تجاویز میں پردہ اٹھائے۔ ان کے تجاویز تھے کہ ہمیں روزنامہ انگلش اور اردو ادارے کی طرف سے ملنے چاہیئے، طلباء کیلئے ریڈنگ روم کا بندوبست کرنا چاہیئے، طلباء کے ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے تفریحی پروگرام منقعد کرنا چاہیئے۔
کچھ تجاویز تنظیم کے بہتری کیلئے بھی دیئے۔ ممبرز کے درمیان ایک مقابلے کا رجحان پیدا کرنا چاہیئے جیسے کہ مضمون نویسی اور تقریری مقابلہ۔ ممبروں سے ان کے شعبے کے متعلق کام لینا۔ سینئرز کے توسط سے جونئیرز کو گائیڈ کرنا۔ طلباء کیلئے Motivational سیمینارز منعقد کرنا۔ تمام کارکناں کو کلاس حاضری، اساتذہ کا احترام اور ادارے کے قاعد و قوانین کے بارے میں سختی سے تربیت کرنا۔
آج میں دعوی کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب تعلیم کے میدان میں اس قوم کو کوئی دھوکا اور پیچھت نہیں ہٹا سکتا۔ ہاں اگر کوئی بےوقوف اس کوشش میں ہے کہ اس قوم کو تعلیم سے دور رکھے تو میں اس سے کہتا ہوں اپنا وقت ضائع مت کروں جاکہ زمینی حقائق سے جانکاری حاصل کرو۔ اس قوم کو اب کوئی مائی کا لال پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
اس تنظیمی دورے میں ہم ممبران سے کافی بیش بہا رائے اور تجاویز تنظیم کے بہتری اور قوم کے ترقی کیلئے اپنے تحت الشعور میں محفوظ کئے اور کچھ اپنے طرف سے تربیت اور نصیحت انہیں تحفے میں دیکر واپس اپنے ہنکین کے طرف لوٹے۔ لوٹنے کا تو دل نہیں چا رہا تھا لیکن بس زندگی کے مصروفیات کے سامنے ہتھیار ڈال کر خضدار کے انجنیئرز کو نیک تمنائوں کے دعا اور اس شعر کے ساتھ رخصت کرکے واپس گھر لوٹے۔
راہِ وفا میں جذبہ کامل ہو جن کے ساتھ
خود ان کو ڈھونڈلیتی ہےمنزل کبھی کبھی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!