شجر کیمیا

Spread the love

تحریر: غلام مصطفٰے (جی۔ایم)

ہماری کائنات بہت وسیع ہے ۔
آئیے !
اس کے کچھ پیمائشوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہماری کائنات چاروں سمتوں میں لگ بھگ 46 ارب نوری سال کے فاصلے جتنا بڑا ہے ۔آپ کو بتاتا چلوں کہ
ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے یعنی ایک روشنی کا شعاع یا کرن 365 دنوں کے اندر جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے”” ایک نوری سال”” کہتے ہیں۔
اب ہم روشنی کے رفتار کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
خلامیں روشنی کی رفتار 1,86,282 میل فی سیکنڈ ہے یا آپ اسے یوں سمجھئے کہ روشنی کا ایک شعاع ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے جسے ہم طبیعات کی زبان میں "”تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ”” کہتے ہیں۔
اگر روشنی کے رفتار کی یہ اعداد و شمار اور نمبر آپ کے سر میں درد پیدا کر رہے ہیں تو سب سے پہلے آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔
میں آپ کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ فرض کیجئے!
آپ روشنی کے رفتار سے سفر کر سکتے ہیں اور اب آپ روشنی کے رفتارسے زمین کے گرد چکر لگانا چاہتے ہیں ۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
ایک سیکنڈ میں آپ زمین کے گرد کتنے چکر لگا سکتے ہیں۔ آپ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد 7.5 چکر لگا سکتے ہیں۔ یعنی تقریبا 8 چکریں وہ بھی صرف ایک سیکنڈ کے اندر آپ مکمل کر سکتے ہیں۔ آپ کو بتاؤں کہ سورج کی روشنی چاند سے منعکس ہونے کے بعد زمین تک پہنچنے میں 1.26 سیکنڈ کا وقت لگاتا ہے جبکہ سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں 8.20 منٹ کا وقت لگاتا ہے۔

ہے نا! حیرانگی کی بات۔
میرے خیال سے اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سورج کی روشنی ایک سال کے اندر کتنے دور تک جا سکتی ہے۔
ہم نے ابتدا میں جانا تھا کہ ہماری کائنات تقریبا 46 ارب نوری سال کے فاصلے جتنا بڑا ہے ۔
درحقیقت یہ وہ کائنات ہے جس کے بارے میں ہم نے تھوڑا سا علم حاصل کیا ہے اور اس کا مشاہدہ کیا ہوا ہے جسے اب ہم "”Observeable Universe”” کہتے ہیں۔ جو حقیقی کائنات کے 100 میں سے صرف 4 فیصد ہے۔
ایک اندازے کے مطابق حقیقی کائنات، مشاہداتی کائنات سے تقریبا 250 گنا بڑا ہے جو چاروں سمتوں سے 70 کھرب یا 7 ٹریلین نوری سال کے فاصلے جتنا بڑا ہے۔

یورپین اسپیس ایجنسی (ESA)کے مطابق کائنات بنیادی طور پر تین چیزوں سے بنی ہوئی ہے۔

(1) تاریک مادہ ( Dark Matter)
(2) تاریک توانائی (Dark Energy)
(3) عام مادہ ( Normal Matter)

تاریک مادہ Dark Matter

ایک اندازے کے مطابق کائنات میں 21 فیصد تاریخ مادہ ہے۔ تاریک مادہ وہ مادہ نہیں جس سے ستارے اور سیارے بنے ہیں اور نہ ہی یہ ضد مادہ (Anti-matter) ہے ۔
تاریک مادہ عام مادے سے گزر جاتے ہیں اور عام مادہ ان کے لئے ایک شفاف واسطے کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے اور تاریک مادہ کسی دوسرے اجنبی ، انجان مادے سے مل کر بنا ہوا ہے جس کو "”WIMPs””
(Weakly Interacting Massive Particle)
کہتے ہیں ۔
تاریک مادہ کہکشاؤں میں موجود ہوتا ہے۔
تاریک مادہ نہ ہی روشنی جذب اور نہ ہی اخراج کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کی توانائی بھی ۔ البتہ کشش ثقل کی ایک بڑی مقدار فراہم ضرور کرتا ہے۔ جس کی وجہ تاریک مادہ روشنی کو موڑ دیتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق تاریک مادے کی کشش ثقل کی وجہ سے ہی مختلف کہکشائیں متواتر رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے سیارے اپنی کہکشاؤں کو نہیں چھوڑتی ہیں اور تمام ستارے ایک جھنڈ کی شکل میں میں پائے جاتے ہیں جسے کلسٹر( Cluster) کہتے ہیں اور ایک کہکشاں کا ستارا کسی دوسرے کہکشاں میں نہیں چلا جاتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ تاریک مادے کی کشش ثقل کو سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام کہکشائیں اپنے آپ کو Stable رکھے ہوئے ہیں۔
تاریک مادے کا تمام مادوں سے ایک الگ خصوصیات تصور کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ تاریک مادہ وہ واحد مادہ ہے جو آپس میں ٹکرا تھا نہیں ہے۔ بلکہ ایک دوسرے میں سے گزر جاتا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ تاریک مادہ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے حتیٰ کہ ہمارے آس پاس بھی ہے ۔
اس سلسلے میں ابھی تک پراسراریت برقرار ہے۔

تاریک توانائی "”Dark Energy "”
تاریک توانائی کو جاننے سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ Dark یا تاریک سے کیا مراد لیا جاتا ہے۔ اس نام سے سائنسدانوں کا کیا مراد ہے۔

"”More is unknown than is Known””

اکثر تاریک کے لیے یہ جملہ بولا جاتا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ
ہم تاریک مادہ اور توانائی کے متعلق جتنا جانتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم اس کے متعلق نہیں جانتے ہیں۔
اب تک تاریک مادہ اور تاریک توانائی کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ لہذا مختلف قیاس آرائیوں کی بنیاد پر تاریک توانائی کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔

تاریک توانائی ایک ایسی قوت لگاتی ہے جو تاریک مادے کی کشش ثقل کو توڑ کر کائنات کو پھیلا رہی ہے جس کی وجہ سے کئی کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں اور دن بدن تاریک توانائی کی مقدار بڑھتی چلی جارہی ہے جس کی وجہ سے کائنات ماضی کی نسبت ابھی زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
اس نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف ماہرین کہ رہے ہیں کہ اگر اس طرح تاریک توانائی کی مقدار بڑھتی رہی تو کائنات مزید تیزی سے پھیلنے لگے گا جس کے نتیجے میں کہکشائیں ایک دوسرے سے مزید دور جائیں گی اور آخر میں کہکشاؤں کے اندر موجود ستاروں کی گرمی ختم ہو جائے گی اور سیارے ٹھنڈ سے جم جائیں گے اور اس طرح زندہ کائنات دم توڑ کر مر جائے گا۔
اندازے کے مطابق کائنات کا 75 فیصد تاریک توانائی ہے۔

عام مادہ "”Normal Matter””
اس دنیا اور کائنات میں جو چیز بھی ہم اپنے ہوا سے خمسہ سے محسوس کرتے ہیں خواہ وہ ایٹم کے ذرات سے لے کر اس کائنات کے کہکشاں، سورج ، چاند ، سیارے اور ہماری زمین ان سب کو ملا کر محض 5 یا 4 فیصد بنتا ہے ۔جسے ہم عام مادہ کہتے ہیں۔

کائنات کے اس حیران کن سفر کے بعد اب ہم آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف ،
جیسے کہ اب آپ معلوم ہے کہ ہماری کائنات میں صرف 5 یا 4 فیصد عام آمادہ ہے۔ جس کے متعلق ہمیں اچھا خاصہ علم حاصل ہو گیا ہے ۔
آج ہم مادے پر”” عمل دخل "”کرنے والے بے شمار اصول و قوانین سے بخوبی واقف ہوگئے ہیں اور مجموعی طور پر ان تمام اصول و قوانین کو اٹھارویں صدی تک "”Natural Philosophy”” کہا جاتا تھا۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں ہی لفظ Natural Philosophy کو ہٹا کر”” Science "” رکھ دیا گیا۔
جب سائنس کے میدان میں بے شمار دریافتیں اور ایجادات ہونے لگیں تب انسانوں کی آسانی کے لیے سائنس کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا گیا ۔اب سائنس کی بنیادی طور پر تین شاخیں سمجھی جاتی ہیں

پہلا (Formal Science)
دوسرا (Natural Science)
تیسرا (Social Science)

آگے ہمارا واسطہ نیچرل سائنس سے ہو گا لہذا اس کے متعلق مختصراً طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

فطرتی سائنس( Natural Science )
نیچرل سائنس وہ علم ہے جو ہمیں قدرت میں غور و فکر ، مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے۔

نیچرل سائنس کو مزید دو شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا Life Science or Biology
دوسرا Physical Science

بائیولوجی میں جانداروں کے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ فزیکل سائنس میں غیر جانداروں کے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔
ہمارا سفر فیزیکل سائنس کی طرف ہے لہذا ہمیں اسی کی طرف گامزن ہونا چاہئے۔
فزیکل سائنس کو مزید ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں Physics , Chemistry , Astronomy اور Earth Science وغیرہ ہیں۔

یہاں پر ایک بات آپ کے توجہ میں لانا چاہتا ہوں کہ اب ریاضی (Mathematics ) دراصل Formal Science کی ذیلی شاخ سمجھی جاتی ہے نہ کہ فزیکل سائنس کی۔
فزیکل سائنس کے مذکورہ شاخوں میں سے”” کیمسٹری”” کے متعلق ہمیں جاننا ہے تو لہذا آگے ہم اس کے متعلق پڑھیں گے۔

علم کیمیا (Chemistry)

علم کیمیا کا ہمارے کائنات میں کہاں کہاں پر اطلاق ہوتا ہے؟
اگر میں اس سوال کا جواب مختصراً دو تو یہ کچھ اس طرح بنتا ہے کہ
کیمسٹری کا ہر اس جگہ پر "”عمل دخل”” ہے۔ جہاں پر مادے کی خصوصیات ، مادے کی ساخت اور مادے میں بدلاؤ کی بات ہو رہی ہو۔
اگر اسے میں روزانہ کی زندگی کی مثالوں سے سمجھاؤں تو شاید آپ کو کیمسٹری کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس علم کو جاننے میں ہمارا کتنا فائدہ ہیں۔
کیمسٹر کو جاننے سے ہمیں روزمرہ کی زندگی کے فیصلوں میں بہت مدد مل سکتی ہے جن فیصلوں سے ہماری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر ہم اپنے ارد گرد کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کریں تو ہمیں تمام چیزیں بنیادی طور پر ایٹم سے بنے ملیں گے۔
یہی ایٹمز مل کر مالیکیولز بناتے ہیں۔
مالیکیول مل کر مرکبات بناتے ہیں اور انہیں مرکبات میں سے مختلف چیزیں وجود میں آتی ہیں ۔
چاہے وہ جاندار ہو یا بےجان مثلا خلیہ ، خوراک ، دوائی ، لباس اور مکان وغیرہ وغیرہ
مذکورہ تمام چیزیں کیمسٹری کے اصول و قوانین کی بنیاد پر ہی اپنے وجود میں آتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگر کیمسٹری کے اصول و قوانین کو کائنات سے نکالیے جائیں تو زندگی کبھی بھی وجود میں ہی نہیں آتی۔
سب سے پہلا خلیہ ایٹمز اور مالیکیولز کے درمیان کیمیکل ری ایکشن کی وجہ سے وجود میں آئی تھی۔ اس نظریے کو
chemical and organic evolution of life on earth
کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو 1920 عیسوی میں دو سائنس دانوں نے پیش کیا تھا جن کا نام Alexander Operin اور JBS Haldane تھا۔
1953 میں ان کے نظریہ کو عملی جامہ پہنانے والے سائنسدانوں کا نام Stanely Miller اور Harold Uray تھا جنہوں نے لیبارٹری میں زندگی کی اکائی "”Amino acid "” کو کیمیکل تجربات کے بنیاد پر بنایا۔ جس سے پروٹین بنتا ہے۔
اس بات سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ زندگی کا کیمسٹری سے براہ راست تعلق ہے۔ انسانی صحت اور بیماریوں کے مسئلوں کے حل بھی کیمسٹری کے شاخ Medicinal Chemistry میں تلاش کیے جاتے ہیں اور دوائیوں کی پیداوار فارماسٹیکل انڈسٹری Pharmaceutical Industry میں کی جاتی ہے۔
کیمسٹری کا علم تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ کیمسٹری توانائی ، خوراک ، رہائش ، لباس ، دوائیاں اور دیگر انسانی ضروریات مہیا کرنے میں اس کی وابستگی اسے ایک بے مثال نوعیت کا شعبہ بنا دیتی ہے۔
کیمسٹری کے علم کا اطلاق زندگی کے معاشرتی اور معاشی دائرہ ہاۓ کار جیسا کہ صحت ، زراعت ، صنعت اور دفاع پر بھی ہوتی ہے۔
حیاتیاتی کیمسٹری زندگی کے نظاموں سے متعلق خواہ وہ حیوانات ، نباتات یا خورد بینی مخلوق ہو ، کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ہے۔
مالیکیولر بیالوجی میں ڈی ۔ این ۔اے کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔
کیمیکل انجینئرنگ صنعت و حرفت کا وہ علم ہے جو مصنوعات کی تیاری میں کیمیائی اشیا اور طریقوں کے استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ مثلا اخبار ، رسالہ ، کتابیں ، روشنائی وغیرہ کیمیکل انجینئر ہی کی مرہون منت ہیں۔
کیمیائی صنعتیں مصنوعی کھاد ،کرم کش ادویات تیار کرتی ہیں جن سے اناج اور رشتہ دار فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے ۔
یہ صنعتیں رنگ و روغن ، شیشہ ، فولاد ، کنکریٹ ، سیمنٹ اور مختلف اقسام کے کیمیائی مادے بھی تیار کرتی ہیں۔

ادویات سازی کی صنعت بھی کیمیا سازی سے تعلق رکھتی ہے جس کا انسان کی بقا اور تحفظ سے براہ راست تعلق ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!