مذہب اور سائنس

Spread the love

تحریر : غلام مصطفیٰ (جی۔ایم)


میں اب تک حیران ہوں کہ مذہبی لوگ سائنس اور مذہب کو دو الیحدہ الیحدہ چیزیں کیوں سمجھتے ہیں؟
اگر کوئی شخص مذہبی انسان سے پوچھے۔
کائنات کس نے بنائی؟
تو یقیناً اس کا جواب "”خدا”” ہوگا اور پھر اُس سے پوچھا جائے ۔
کائنات کس کے اصول وقوانین پر عمل پیرا ہے؟
تو یقیناً اس کا جواب "””خدا "” ہی ہوگا ۔
اب اُس مذہبی شخص سے پوچھا جائے کہ
"””سائنس ہمیں کیا بتاتی ہے؟”””
یقیناً اُس کا جواب "””کائناتی اصول و قوانین”” ہی ہوگا ۔
یہیں سے ایک بات واضع ہوجاتی ہے کہ اکثر سائنسدان اِس بات سے انکار تو نہیں کرتے کہ کائنات کے اصول و قوانین خدا نہیں بنائے ہیں ۔
ان کا کام یہ ہے کہ خدا کے بنائے ہوئے کائناتی اصول و قوانین کو سمجھ کر انہیں آسان بنا کر اپنے فائدے کیلیے استعمال کیا جائے ۔
سائنسدان اپنے مرضی سے تو کچھ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کر سکتے ہیں ۔
وہ جو بھی کہتے یا کرتے ہیں۔ وہ سب خدا کے بنائے ہوئے کائناتی اصول و قوانین کو بروئے کار لاکر اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب میں مذہبی لوگوں سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ
آپ سائنس کو خدا اور مذہب کا دشمن کیو سمجھتے ہیں ؟
جبکہ آپ کے سامنے سائنسدان جو بھی کہتے اور کرتے ہیں اٌس کا ایک مکمل طریقہ کار اور مضبوط شواہد بھی پیش کرتے ہیں تو اب یہ سائنس اور مذہب کا جنگ کیوں؟
سائنس تو خد خدا کے اصول و قوانین کا نام ہے۔
تو کس بنا پر آپ خدا اور سائنس کے درمیان ایک جنگ چھیڑے ہوئے ہیں؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!