بلوچ قوم کے نام کھلا خط

Spread the love

تحریر :سمولی بلوچ

تاریخ کے کتابوں کے اوراق کو پلٹنے سے ہمیں ہر وقت یہ دیکھنے کوملتا ہے  کہ اپنے دوست اور دشمن کو پہچان کر آگے بڑھو اگر آپ اس کو پہچاننے میں جتنا دیر کروگے اتنا ہی زیادہ اپکو نقصان کا سامنا کرنا پڑیگا لیکن بدقسمتی سے ہم بلوچ قوم اس چیز میں بہت پیچھے ہیں اگر کوئی  ہمارے ساتھ جتنا ہی ظلم کیوں ہی نا کرے ہمارے سرزمین کو اپنے ناپاک ارادوں سے غرک کیوں نہ کرے ہمارے جان مال تاریخ ثقافت زبان کو مسخ کیوں نہ کرے لیکن اگر وہ ہمیں دو تین دن تک واہ واہ یا میر لقب سے پکار لے تو ہم پچھلے سب بھول جاینگے جو ہمارے ساتھ ہوا تھا اگر میں غلط ہوں تو آج کے اس دور میں بھی ہمارے ساتھ ظالم ظلم کر کے اس کے بعد اسمبلیوں میں دو الفاظ بول کر ہمیں خوش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارا سب سے بڑے دشمن وہی لوگ ہیں ایک دشمن وہ ہے جو ہمارے آنکھوں کے سامنے ہے اور ہم اسے پہچانتے بھی ہیں لیکن میرے خیال میں وہ دشمن اتنا نقصان دہ ثابت نہیں ہو سکتا جتنا کہ وہ دشمن جو حقیقت میں ہمارا دشمن ہے لیکن ظاہری طور پر اپنے آپ کو ہمارا دوست ثابت کرتا ہے ہمارے حق حقوق کھا کر پر ہمارے درمیان میں خود کو ایماندار اور حقیقی لیڈر سمجھ کر ہمیں پھر سے استعمال کرنا شروع کرتا ہیں-

آج کے اس دور میں بھی ہمارے سردار نواب لیڈران صاحب جو اسمبلی میں جاکر دو الفاظ جذبات میں آکر بول لیتے ہیں تو ہم بلوچ قوم اس پے ایمان لاتے ہیں ہاں اگر سردار نواب یا کوئی میر ٹکری بلوچستان کا حقیقی لیڈر ہے تو میرا خضدار ،قلات ساراوان جھالاوان کیوں ویران ہے اگر یہ لیڈر ہیں تو آج وڈھ کوہلو کاہان کیوں چیخ رہیں ہیں کیا ان سب کا زمہ دار نام نہاد سردار نواب میر یا ٹکری نہیں اور کچھ دوست کچھ دن پہلے سٹیٹس لگا کر یہ دعوہ کر رہے تھے کہ جام  کے خاندان نے 20 سالوں میں کچھ نہیں کیا ہیں میں کہتا ہوں جام صاحب سے کوئی گلا نہیں لیکن تم اس کی تعریف کر رہے ہو جس نے صرف تربت سٹی میں کام کیے ہیں  میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ صرف تربت سٹی کھ وزیر اعلیٰ تھے یا پورے بلوچستان کا تو تربت سٹی کے علاوہ  کسی جگے پے کام نہیں ہوا ہیں  اپنے دور میں گوادر کو بھیج کر چین کے حوالے کر دیا اور اب جب آپ کو اقتدار نہیں ملا تو اب آپ کو ویران بلوچستان نظر آیا اور اپکو ساحل و  وسائل یاد آیا اور ہمارے اوپر ایسے لوگ مسلط کیے ہوئے ہیں جن کو کوئی  اپنے  تعلیمی اداروں میں سیکورٹی گارڈ بھی رکھنا نہیں چاہتا ۔ وہ خاک میرا حق جان لے گا جسکا میٹرک سے لیکر سارے سرٹفکیٹ جعلی ہیں اور اسمبلی میں بیٹھ کر میرا حکمرانی کر رہا ہے میرا آپنے قوم سے درخواست ہے کہ اپنے تاریخ ثقافت سرزمین زبان کی اہمیت  کو جان لو آپنے حق حقوق اپنے جان مال اپنی اصل ہیروز کو جان لو دوسروں کی سنی سنائی باتوں پر عمل نہ کرو خود کو پہچان لو اور اپنے دشمن کو بھی پہچان لو اور آپنا حقیقی لیڈر پہچان لو غیروں کے خوشامدی سے دور رہو آج کل ایک اور معزز جس کے ٹیوٹ دیکر لگتا ہے بلوچستان کا دکھ درد صرف اسے محسوس ہوتا ہے لیکن جناب آپ کو یاد ہو یا نہ ہو لیکن ہمیں وہ دن اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہزاروں کے تعداد میں ہمارے بلوچ نوجوان مارے گئے اور ہزاروں کے تعداد میں لاپتہ ہوے لیکن آپ اپنے دور اقتدار بمبو بمبو کہتے گزارے آپ جتنا بھول جاے لیکن تاریخ کبھی یہ دن بھولنے نہیں دیتا ایک اور جناب جو ایک گاؤں نہیں چلا سکتا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا اسے اردو بولنا نہیں آتی اس کے دور اقتدار میں صرف خود کش دھماکوں میں میرے ہزاروں بے گناہ بلوچ مارے گئے کیونکہ میرےبلوچ کا خون بہت سستا کردیا  ہے تم جیسے نام نہاد لیڈروں نے جسے ہر  نواب ہر فرد آپنے اقتدار کیلے بہا کر خوش ہوتا میرے بلوچ کے خون کو بہا کر اپنا بینک بیلنس برابر کرتے ان کو یہ معلوم نہیں کہ جس کا خون بہا کر آپ نے اقتدار حاصل کیا لیکن آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ تاریخ ایسے لوگوں کو ہمشہ اچھے الفاظوں سے یاد کرتا رہیگا جس کا خون بلوچ قوم کیلئے بہا ہو لیکن تاریخ اپکو ایک غدار  خون خور اور جعفر و صادق کا لقب دے کر ہمشہ کیلئے یاد کرے گا۔

انگریز کے آمد سے پہلے میرے بلوچ قوم میں سرداری نظام نہیں تھا اس وقت صرف قوم کا سربراہ میر ہوا کرتا تھا اور اسے پورا قبیلہ ایک ساتھ بیٹھ کر مشورہ کرتے اور جس فرد کو پورا قبیلہ منتخب کرتا پھر اسے اپنے قبیلے کا سربراہ بنا لیتے لیکن وہ میر قبیلے کے ہر مسلے کا حل تلاش کرتا اور آپنے قبیلے کے دک درد میں شریک ہوتا آگر میر میں کوئی کمی ظاہر ہوتا تو قبیلے کے لوگوں کو یہ اختیار تھا کہ اسے تبدیل کرتے لیکن انگریز کے آمد کے بعد یہ سرداری نظام شروع ہوا وہ اپنے قبضہ جمانے کے خطر اس نے اس نظام کو تبدیل کر کے ایک فرد کا میراث بنا دیا جو اس کے غلامی کرتے اسے قبیلے کا سربراہ بنا لیتے جو آج تک ہم بلوچ قوم پے یہ نظام مسلط کر دیا ہے جو نواب ہو وہ آپنے نوابی کو اپنا میراث بنا لیتا ہے اور آگر کوئی سردار ہو تو وہ سرداری کو آپنا میراث بنا لیتا ہے اؤر قوم کا اللہ ہی حافظ آب بلوچ قوم ان خون خوار لوگوں سے دور رہے جوکہ ہمارا خون اپنے اقتدار حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
اب بلوچ قوم تعلیم حاصل کر کے آپنے قوم کی ترقی خوشحالی کیلئے دن رات محنت کرے تعلیم وہ بھی اپنے قوم کیلئے نہ کہ انکی طرح آپنے مقصد کیلئے اور انکا حقیقی چہرہ اپنے قوم کے سامنے ظاہر کرے اور قوم دوستی کا ثبوت دے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!