افلاطون کون تھا؟

Spread the love

? Who was Plato

تحریر غلام مصطفی (جی۔ایم)

آج ہم جس فلسفی کو افلاطون (Plato) کے نام سے جانتے ہیں دراصل اس کا حقیقی نام "”Aristocles”” تھا۔
کچھ مورخین لکھتے ہیں کہ افلاطون کو Plato نام اس کے کشتی سکھانے والے استاد نے افلاطون کے چہرے اور سینے کی چوڑائی کی وجہ سے دیا تھا۔
لفظ Plato یونانی لفظ Platon سے نکلا ہے جس کا معنی چوڑا یا بڑا (Broad /Wide) ہے۔
افلاطون 428 ق م میں یونانی شہر ایتھنز کے ایک شاہی گھرانے میں پیدا ہوا تھا افلاطون کی عمر چار یا پانچ سال ہوئی نہ تھی کہ اس کے والد شدید بیماری سے فوت ہوگئے اور پھر اس کے والدہ نے دوسری شادی کرلی ۔
افلاطون بچپن سے ہی بہت زیادہ ذہین تھا اور اس نے مختلف اساتذہ سے موسیقی ، منطق ، فلسفہ اور جمناسٹک سیکھا اور نوجوانی تک پہنچتے ہی وہ ایک اچھا پہلوان بھی بن گیا جہاں اسے Plato کا نام دیا گیا۔
جب افلاطون کا عمر 19 سال ہوا تو اس کی ملاقات سقراط سے ہوئی۔
افلاطون سقراط کے خیالات سے متاثر ہو کر اس کا شاگرد بن گیا۔ افلاطون تقریبا 8 سال تک سقراط کے شاگردی میں رہا جس کے بعد سقراط نے زہر کا پیالہ پیا۔
اس وقت افلاطون کا عمر تقریبا 28 سال تھا۔ اس کے بعد افلاطون نے ایتھنز کو چھوڑ دیا اور 12 سال تک مختلف ممالک ترکی ، سائرین ، سسلی اور مصر میں مختلف فلسفیوں کے ساتھ پھرتا رہا۔
387 ق م میں وہ ایتھنز واپس آیا اس وقت اس کا عمر تقریبا 40 سال ہو چکا تھا۔ اسی سال واپس آنے کے بعد افلاطون نے ایتھنز شہر کے قریب ایک باغ میں اپنے درسگاہ کی بنیاد رکھی۔
یہ باغ یونانی اساطیر( Greek Mythology) کے ایک ہیروکا تھا۔جنہیں Attic Heroes کہا جاتا ہے۔ اس کا نام اکیڈمس””Academus”” تھا۔ جس نے اس باغ کو gymnastic کے لیے شہریوں کے واسطے چھوڑ دیا تھا۔
یہ ایک عوامی باغ بن گیا تھا اور افلاطون نے اس جگہ کو اپنے لیکچرز کے لیے منتخب کیا۔ اس باغ میں میں مندر ، مجسمیں اور مشہور آدمیوں کی قبریں موجود تھی اور اس کے گرد دیواریں تھی۔
افلاطون سے پہلے یونان میں مختلف جنگوں کی وجہ سے اس باغ کو شدید نقصان پہنچاتا تھا۔
افلاطون نے آکر اس کی مرمت کروائی اور اس کے اندر اپنے لیے مخصوص باغ بنوایا۔ جہاں وہ درس دیا کرتا تھا۔ اس باغ کے تاریخی پہلو کو مد نظر رکھ کر افلاطون نے اپنے درسگاہ کا نام بھی اکیڈمی (Academeia) رکھ دیا۔
اس طرح لفظ اکیڈمی کو علم کے درس گاہ کے طور پر آج بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
افلاطون کے درسگاہ میں فلسفہ ، ریاضی ، موسیقی، منطق طبیعت ، مابعدالطبیعات اور علمیات پڑھایا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ مختلف کھیلیں اور جمناسٹک بھی سکھائے جاتے تھے۔
یہ افلاطون کا مختصر تعارف تھا اب ہم اس کے علمی خدمات کی طرف آتے ہیں۔
برطانیہ کے ایک مشہور ریاضی اور فلسفہ دان اپنے کتاب "Dialogues of Al Fred North Whitehead”میں لکھتا ہے۔
"”The safest general characterization of the European philosophical tradition is that it consists of a series of footnotes to Plato.””
ترجمہ: یورپی فلسفیانہ روایت کی سب سے محفوظ عمومی خصوصیت یہ ہے کہ یہ افلاطون کے فوٹ نوٹوں کی ایک سیریز پر مشتمل ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ یورپی فلسفہ افلاطون کے نقش قدم پر چل رہی ہے کیونکہ افلاطون نے ہر اس موضوع پر لکھا جو آج تک زیر بحث لائے جاتے ہیں ۔
فلسفہ دان یا تو افلاطون کے نظریہ پر حامی بھرتے ہیں یا مخالفت کرتے ہیں یا پھر اس کے نظریات میں ترمیم کرتے ہیں اور کوئی بھی کوئی نیا نظریہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ افلاطون کی وجہ سے ہمیں تاریخ کے دو اہم شخصیت کا تعارف ملا۔
ایک سقراط جو اس کا استاد تھا اور دوسرا ارسطو جو اس کا شاگرد تھا۔
اگر افلاطون نہ ہوتا تو شاید سقراط کے نظریات و خیالات ہم تک نہ پہنچتے اور اگر وہ درسگاہ نہ کھولتا تو ارسطو جیسے شاگرد پیدا ہی نہ ہوتا۔
افلاطون سے پہلے دو طرح کے نظریات ہوتے تھے ۔
اگر ایک فلسفی اپنا نظریہ پیش کرتا تھا تو دوسرا اس کے مخالف میں ایک نیا نظریہ پیش کرتا جو پہلے نظریہ کا ضد ہوتا تھا ۔
اس پہلو کو میں ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
بالفرض ایک فلسفی کہتا ہے کہ زندگی صرف صبح کا نام ہے اور اس کے برعکس دوسرا فلسفی کہتا ہے زندگی صرف رات کا نام ہے ۔
لیکن افلاطون نے ایسے نظریات پیش کئے جس کے ذریعہ سے نہ صبح کی نفی ہوتی تھی اور نہ ہی رات کی نفی ہوتی تھی۔
افلاطون نے تمام مسئلوں کے لئے درمیانی راستہ اختیار کیا ہوا تھا۔ مثلا افلاطون نے کہا کہ
زندگی نہ رات کا نام ہے اور نہ ہی صبح کا نام ہے
بلکہ یہ ایک دن کا نام ہے
اور اسی دن میں صبح اور رات دونوں آتے ہیں یعنی صبح اور رات ایک دن کے دو پہلو ہیں کوئی مختلف چیزیں نہیں ہے۔
افلاطون نے قدرت کے حقیقتوں کو پہچاننے اور سچ کو جھوٹ سے جدا کرنے کے لئے ایک فرضی کہانی بتائی۔جسے””The Allegory of the Cave "” یعنی غار والا محاورہ کہتے ہیں۔
اس کہانی میں افلاطون کہتا ہے کہ
ایک غار ہے اس میں کچھ لوگ ہیں۔ جن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ نہ دائیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بائیں دیکھ سکتے ہیں۔
ان کے پیچھے آگ جل رہا ہے جس کی روشنی میں کچھ لوگ مختلف چیزوں کے سائے پیدا کررہے ہیں ۔ لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ نہ آگ کو دیکھ پارہے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں کو جو سائے پیدا کر رہے ہیں اور
بس وہ بیٹھ کر صرف سایہ دیکھ رہے ہیں اور اس کے علاوہ انہیں بچپن سے ہی کچھ نہیں دکھایا گیا لہذا ان کے خیالات اور تصورات میں بس یہی ساۂے دنیا کی حقیقت ہیں ۔
وہ سمجھنے لگے کہ دنیا میں ان سایوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
ان میں سے ایک شخص اپنے رسیوں کو توڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ غار سے باہر آکر سورج کی روشنی میں دنیا کو دیکھتا ہے۔ وہ دنیا کی رنگ برنگی چیزوں ، درختوں ، پرندوں ، جنگل ، پہاڑ اور جانوروں کو دیکھتا ہے تو حیران ہوکر سوچنے لگتا ہے کہ ہم جو غار میں سایوں کو دیکھ رہے تھے وہ تو سب جھوٹ ہے اور حقیقت تو غار کے باہر سورج کی روشنی میں ہے۔
لہذا اس شخص میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اندھیروں سے نکال کر سورج کی روشنی میں دنیا کی خوبصورتی اور حقیقت دکھائے ۔
وہ اسی غرض سے واپس غار میں آجاتا ہے اور اپنے دوستوں کی رسیوں کو توڑتا ہے اور اپنے دوستوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم جو غار میں سائے دیکھتے ہیں۔
وہ سب جھوٹ ہیں یہ سب سائے ہیں
آو
میں تمہیں سورج کی روشنی میں حقیقت دکھاؤں گا لیکن اس کے دوست جواب میں اسے پاگل کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے بچپن سے ہی ان سایوں کو دیکھا ہے اور تم ہمیں گمراہ کر رہے ہو لہذا وہ لوگ مل اس ایک شخص کو مار دیتے ہیں۔
اس کہانی میں افلاطون نے اپنے اُستاد سقراط کو اس شخص کی طرح پیش کیا جس نے غار سے نکل کر دنیا دیکھی اور بقایا غار میں رہنے والوں ایتھنز کے لوگوں کی طرح پیش کیا۔
جس طرح غار سے باہر کی دنیا دیکھنے والے شخص کی خواہش تھی کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی حقیقت کی دنیا دکھائے بالکل اسی طرح سقراط نے بھی ایتھنز کے لوگوں کو حق اور سچ دکھانے کی کوشش کی لیکن غار میں رہنے والے لوگوں کی طرح ایتھنز کے لوگوں نے بھی سقراط کو مار دیا۔
افلاطون کا مقصد اس کہانی سے یہ بھی تھا کہ جب تک ہم دنیا کو اپنے حواس خمسہ کے ذریعے دیکھتے ہیں تو وہ صرف اور صرف سایوں کی دنیا ہوتی ہے حقیقت کی دنیا نہیں ہوتی ہے۔
کیونکہ جب تک ہم اچھائی ، علم ، عقل ،منطق کی روشنی میں دنیا کو نہیں دیکھتے ہیں۔ تب تک ہم سچ اور حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔
افلاطون اس اچھائی کی روشنی کو سورج سے تشبیہ دیتا تھا کہ جس طرح سورج ہمیشہ سے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتا اور یہ چیزوں کی حقیقت کو واضح طور پر اپنے روشنی کے ذریعے دکھاتا ہے۔
بالکل اسی طرح کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے لئے ہمیں اچھائی کی روشنی میں کائنات کو دیکھنا چاہئے کیوں کہ اچھائی بھی ہمیشہ سے ہے اور اس میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتی ہے ۔اس تصور کو "”Form of the Good”” کہا جاتا ہے۔
افلاطون اسے کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔
The Good is like the light of the sun. The Good is the light of understanding.
ترجمہ: اچھائی سورج کی روشنی کی طرح ہے۔ اچھائی سمجھ کی روشنی ہے۔
افلاطون اپنے علم کو دو طریقوں سے بیان کرتا تھا
(1) جدلیات(Dialectics)
(2) مکالمہ (Dialogues)
جدلیات جو سقراط کا طریقہ بھی تھا ۔
جس سے مراد سوال و جواب کا فن ، بحث و مباحثہ وغیرہ ہے ۔ جبکہ مکالمہ تحریر یا گفتگو کے دوران ایسی بات چیت کو کہتے ہیں جو دو افراد کے درمیان ہو یا کسی ادبی تصنیف یا ڈرامے کی صورت میں اسٹیج پر پیش کیا جائے۔
اگر کوئی شخص افلاطون سے پوچھتا کہ اچھا ہی کیا ہے؟
تو افلاطون اپنے استاد کا جملہ دہراتا ۔
"”” Virtue is knowledge””
ترجمہ: اچھائی علم ہے
اگر کوئی پوچھتا کہ علم کیا ہے ؟ تو افلاطون کا جواب ہوتا
Knowledge is justified , true belief.
اس سے مراد علم تصدیق شدہ اور سچے عقیدے کا نام ہے
جب افلاطون نے فلسفی پارمینڈیز (Parmenides) کے نظریات کا مطالعہ کیا جس کے مطابق کائنات ہمیشہ سے ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے یعنی انسان سے درخت وغیرہ ہمیشہ سے ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔
اس کے برعکس فلسفی ہیراکلٹس (Heraclitus) نے لکھا کہ کائنات میں مستقل طور پر تبدیلی ہوتا ہے اور ہر چیز ہر لمحے تبدیل ہو رہی ہوتی ہے۔
تب افلاطون نے اپنا نظریہ پیش کیا
جسے "Theory of Form”” کہتے ہیں
اور اسے Theory of Idea یا”” Theory ofDoctrine””بھی کہتے ہیں۔
اس نظریہ کے مطابق کائنات دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے جسے "”Dualism””کہا جاتا ہے
اور انسان ایک "”Dual Creature”” ہے یعنی انسان کا دو طرح کی دنیا سے تعلق ہے۔
(1) تصوراتی دنیا (World of form/Idea)
یہ حقیقی اور سچے تصورات کی دنیا ہے جس میں روح رہتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے اور یہ روح کی پسندیدہ جگہ ہے ۔
یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا یہ علم سے بھری ہوئی دنیا ہے اور یہاں پر انسانوں کے روح ہر طرح کے علم سے واقف ہوتے ہیں۔ اس دنیا کا تعلق دماغ یعنی عقل اور تصورات سے ہے۔
(2) مادی دنیا (Material world)
یہ مادے کی دنیا ہے اور یہ ہمیشہ سے نہیں ہے ۔
اس میں ہر وقت تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ کوئی بھی چیز ہمیشہ سے ایک جیسی نہیں رہتی ہے ۔ اس دنیا کا تعلق جسم اور مادے سے ہے۔
اس نظریہ کے مطابق
جب روح تصوراتی دنیا سے مادی دنیا میں آتی ہے یعنی روح جب جسم میں داخل ہو کر اس دنیا میں پیدا ہوتی ہے۔ تو وہ ہر قسم کا علم بھول جاتی ہے ۔جب وہ اس دنیا کی چیزوں کو دیکھتی ہے تو اسے کچھ یاد نہیں آتی ہے جس کی وجہ سے وہ چیزوں کو پہچان نہیں پاتی ہے۔
افلاطون کے مطابق علم کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ علم تو انسانوں کے روح کے اندر پہلے سے ہی موجود ہے ۔
اس طرح علم کا انسان کے اندر پہلے سے موجود ہونے کے تصور کو "”Innatism”” کہا جاتا ہے۔
جب انسان اپنے منطق کو استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو سمجھنے اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ تصوراتی دنیا میں پھر سے ان تصورات کے ساتھ جڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسان چیزوں کو سمجھ اور پہچان جاتا ہے ۔
اس کی مثال کچھ اس طرح سے ہے جیسے بھولی ہوئی چیزوں کو پھر سے یاد کر کے دہرانا ہے۔ اس دورانی کے عمل کو””The Platonic doctrine of recollection "” یا Anamnesis کہتے ہیں۔
افلاطون کے مطابق ہمارے حواس خمسہ ہمیں دوھوکہ دے سکتے ہیں لیکن منطق کی بنیاد پر حاصل کیا ہوا علم کبھی بھی غلط نہیں ہوسکتا ہے ۔
مثلا اگر کوئی شخص کسی سے پوچھے کہ رات کے وقت آسمان میں سب سے زیادہ چمکتا ہوا ستارہ کونسا ہے تو مختلف لوگوں کے مختلف جواب ہوں گے لیکن اگر کوئی شخص کسی سے پوچھے کہ 2 جمع 2 کتنے ہوتے ہیں تو سب لوگوں کے جوابات ایک جیسے ہوں گے۔
ریاضی کے سوال کا جواب منطق کی بنیاد پر دیا گیا جبکہ آسمان میں ستارے کا جواب حواس خمسہ کو استعمال کرکے دیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے مختلف لوگوں کے جوابات بھی مختلف تھے۔
ایک اور جگہ افلاطون کہتا ہے کہ
اگر کسی کے سامنے مختلف رنگ شکل اور سائز کے گھوڑے کھڑے کئے جائیں اور اس سے پوچھا جائے کہ یہ سامنے کھڑے جانور کونسے ہیں ۔
تو یقینا اس کا جواب ہوتا کہ یہ سارے گھوڑے ہیں ۔
افلاطون کا یہ یقین تھا کہ کائنات میں جو کچھ بنا ہوا ہے اس کا ایک سانچہ (Form/ Mold)تصوراتی دنیا میں موجود ہے ۔
جب بھی ہم مادی دنیا میں کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہم اس چیز کو تصوراتی دنیا کے سانچے سے اس چیز کا موازنہ کرتے ہیں
جیسے ہی اس چیز کی مشابہت سانچے سے ملتی ہے تب ہم اس چیز کو پہچان جاتے ہے مثلا جیسے اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ایک شخص کے سامنے مختلف رنگ ، شکل اور سائز کے گھوڑے کھڑے کئے گئے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ کون سے جانور ہے تو اس کا جواب ایک ہی تھا کہ یہ سب گھوڑے ہیں۔
کیونکہ جب اس شخص نے سامنے کھڑے گھوڑے اور تصوراتی دنیا کے سانچے میں مشابہت دیکھی تو اس نے گھوڑوں کو پہچان لیا۔حالانکہ گھوڑے تو مختلف رنگ و شکل کے تھے لیکن ان سب گھوڑوں کی بنیاد جو تصورتی دنیا میں موجود ہے وہ ایک ہے اِس طرح ہم مختلف چیزوں میں مشابہت اور فرق کر پاتے ہیں۔
اب ہم افلاطون کے سیاسی پہلو پر آتے ہیں ۔
افلاطون نے 753 ق م میں اپنی "”Republic”” کتاب شائع کی جو Political Science پر پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔
افلاطون جمہوریت کے سخت خلاف تھا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ اس کے استاد سقراط کو جمہوریت کی وجہ سے ہی زہر کا پیالا پینا پڑا اور جمہوریت میں ووٹوں کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے جو کہ غلط بات ہے۔
جمہوریت کے برعکسا افلاطون نے "”Aristocracy "” اشرافیہ طرز حکومت کا نظریہ پیش ۔
جس کے مطابق
معاشرے کے سب سے زیادہ ذہین اور عقلمند انسان ہی معاشرے کے اقتدار کو سنبھالنے کے حقدار ہونگے اور جسمانی طور پر طاقتور لوگ فوج کو سنبھالے گے جبکہ عام عوام تجارت ، کام وغیرہ کریں گے۔
لوگوں نے اس نظریہ کی سخت مخالفت کی کیونکہ افلاطون خود ایک فلاسفر تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ افلاطون اقتدار حاصل کرنے کی لالچ میں ہے اس لئے وہ خود اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا اس لئے یہ نظریہ بہت ہی زیادہ ناکام ہوگیا۔
افلاطون نے اپنے دوسرے کتاب "”The law”” میں آئینی طرز حکومت کا نظریہ بھی پیش کیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!