کرونا وائرس پر عالمی تنازعات

Spread the love

تحریر:بختیاررحیم بلوچ


نومبر دوہزار انیس میں چین کے صنعتی شہر واہاں سے پیدا ہونے والا وائرس کرونا یا کووڈ 19 کافی مہلک اور خطر ناک تھا لیکن اسکی خوف اس وائرس کے اثرات سےکئی گنّا خطر ناک اور گھمبیر تھا
یہ وائرس وجود میں آتے ہی ساتھ عجیب کشمکش کی شک ،شبہات۔ الجھن اور تنازعات ساتھ لے آئی۔
چین میں اس وائرس کےپہلی کیس کی تصدیق ہونے کے ساتھ اسکے کیسز فوراََ بڑھنے لگے اندازہ ہوا کہ یہ وائرس کافی تیز پھیلنے والا وائرس ہے۔
اس لئے اسے سب سے جلد ایک جسم سے دوسرے جسم میں مبتلا ہونے والا وائرس سمجھ کر ملک میں لاک ڈاون نافذ کرکے عوام کو غیر ضروری کاموں سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کی ۔
عوام نے حکومتی ہدایت ہر عمل در آمد کرکے گھروں تک محدود ہوگئے۔
جب مزید تحقیق اور تجربہ سے اندازہ ہوا کہ یہ وائرس کچھ دن تک جسم میں موجود رہتا ہے اپنے علامات کو ظاہر نہیں کرتے جب اسکی علامات ظاہر ہوجاتے ہیں تو اسکے علاج اور صحت یابی ناممکن ہوجاتی ہے تو چین نےایک نئی حکمت عملی اپنا کر کروڑوں آبادی والے شہروں کو ایک ہی دن میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کا کام شروع کیا۔
ٹیسٹ کے دوران جس شخص کے جسم میں وائرس پائے تو اسے قرنطینہ میں ڈال کر علاج معالجہ شروع کر دیئے ۔
جیسے جیسے چین میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے لگے ۔ویسے اس پر تجربہ ۔ مشاہدہ۔ مفروضہ تیز کرتے رہے روز نئی نئی شک ،شبہات طنز ،تناؤ، تضاد سامنے آتے رہے۔
جب تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات سامنے آئے کہ یہ وائرس کی آسانی سے ایک جسم سے دوسرےجسم تک منتقل ہونے کی وجہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ اور گلّے ملانے اور ایسے جگہ بیٹھنے سے ہے جہان کوئی متاثرہ شخص بیٹھا ہے اس بات پر مزید پریشانیاں بڑھنے لگے کیونکہ یہ وائرس کی ایک خطرناک وجہ جسم میں مبتلا ہونے کے کافی دن تک علامات ظاہر نہیں ہونے کے تھے
اس لئے حکومتی سطح پر ہاتھ اور گلے ملانے ،ایک دوسرے کے قریب میں رہنے سے منع کیا گیا لوگ ایسے چیز یا جگہ پر ہاتھ رکھنے اور بیٹھنے سے ڈرنے لگے کہ جہاں کسی دوسرے نے ہاتھ رکھا ہو۔
چین کی یہ ساری حکمت عملیاں نے محض ڈھائی، تین مہینے تک چین کو اس وائرس سے فتح دلوائی معمولات زندگی کو دوبارہ بحال کروا دیئے۔
جب یہ وائرس چین سے نکل کر امریکہ پہنچ کر اپنی تباہی مچانے لگے تو امریکہ نے یہ وائرس کو مصنوعی وائرس کانام دے کر چین پر الزام لگایا کہ چین نے اپنے لیباٹری میں تیار کی ہے ۔اسے دنیا میں پھیلا کر انسانی بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے
چین نے امریکہ کے الزام کو تردید کرتے ہوئے الٹا امریکہ پر الزام ڈالا اسے امریکہ نے تیار کرکے چین میں پھیلا دیا ہے تاکہ چین کو معاشی اور سماجی نقصان سے دوچار کیا جا سکیں۔
یہاں تک مائکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کو معاف نہ کئے اس پر الزام لگائے کہ اس نے اس وائرس کو مصنوعی طور بنا کر پھیلایا ہےتاکہ وہ اسکے ویکسین بناکر دنیا اسکی ویکسین خرید کر وہ مزید پیسہ کمائے
اسی طرح یہ وائرس دنیا کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں میں مختلف قسم کے شک و شبہات جنم دے کر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے گامزن تھا
جب یہ وائرس ایران پہنچا تو ایرانی حکومت نے بنِا سوچے اور تحقیق کے وائرس کو مصنوعی وائرس قرار دے کر امریکہ پر الزام لگایا کہ اسے امریکہ نے اپنے لیباٹری میں بنا کر دنیا میں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
دنیا کے ہر ملک اس وائرس پر تحقیق تجربہ مشاہدہ کر رہا تھا کہ اسکا ویکسین بناکر اسے ختم کروا دیں لیکن ویکسین نہ ہونے کی وجہ اسکی پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے دنیا کے ہر ملک نے لاک ڈاون کو سب سے موثر اور کار آمد عمل سمجھ کر اپنے ملک میں نافذ کی ۔ماسک کا استعال ضروری قرار دیئے، اجتماعی مقامات پر مکمل پابندی لگا کر ویکسین تیار ہونے سے پہلے اسے اپنے قابو کرنے میں لگے رہے
لیکن دنیا کے غریب، ناخوانندہ ،کم ترقی یافتہ ممالک اور معاشرے آج تک عجیب غریب الجھنوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ اس وائرس سے بھی نہیں نمٹ پا رہے ہیں ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے ۔
جب چین سے یہ وائرس سے مثاثر ہوکر مرنے والوں کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا میں وائرل ہورہے تھے
تو ویڈیو ہمارے ملک اور معاشرے کے مذہبی طبقہ و فکر کے لوگوں کے آنکھوں کے سامنے آتے تو وہ اسے دیکھنے کا گوارہ نہیں کرتے اس وائرس سے متاثر لوگوں کی موت کو صرف حرام جانور کے گوشت کھانے ،کچھ لوگ اسے یہودیوں کو لگنے والی وائرس مان کر اپنے ہاتھ داڑھی پر پھیرتے ہوئے یہ چیلنج کرتے تھے یہ مسلمان کو نہیں لگ سکتا۔
کچھ لوگ اسے یہودی اور عیسائی پر اللہ کی عذاب اور امتحان سمجھ کر خود کو اسلام کے پیروکار سمجھ کر اس وائرس سے محفوظ سمجھ ریے تھے۔ کچھ لوگوں کے خیال تھے یہ وائرس مصنوعی ہے اسے امریکہ۔ چین ، اور اسرائیل نے مسلمانوں کو اپنے مذہب سے دور کرنے کی سازش کے طور پر بناکر پھیلایا ہے
سیاسی اور سرمایہ دار طبقے کے شک ۔شبہ و فلسفے کے مطابق یہ عالمی سماجی اور معاشی نقصانات کے سازشیں ہے تاکہ ایک ملک دوسرے ملک کو معاشی نقصان دے کر اسے خسارے میں ڈال دیا جائیں
اسی طرح مختلف باتیں سننے اور پڑھنے کو مل جاتے بہرحال ۔یہ دنیا کی من گھڑت فریب اور پالیساں تھے,یاکہ سچ پر مبنی تحقیق مشاہدے تجربے اسے ہم جیسے عام شہری نہیں سمجھ پاتے
لیکن یہ بے دین ، بے ایمان اور غیر مہذب وائرس کسی کی سنے کی پرواہ کرتے بغیر اپنا ہدف پر پہنچنے کا عمل کو جاری رکھ کر گامزن تھا۔
اسے حلال، حرام۔ مسلمان ، عیسائی،ہندو ۔سکھ ، اور بت پرست اور نہ کسی کی شک، شبہات، طنز، الزام ،مصنوعی یاکہ قدرتی وائرس ماننے یا نہ ماننے کی کوئی پرواہ نہیں تھے
یہ لوگوں کے سوچ تھے وہ اس بیماری کو یہودیوں کی بیماری قراد دے کر اپنے سینے پر مّکا مار کر اس وائرس کو چیلنج کرتے تھے۔
ہاں اس بات پر کوئی شک ہی نہیں وہاں کے لوگ بہت زہریلی اور حرام جانور کے گوشت کھاتے تھے۔ یہ وائرس کےوجود زہریلی اور حرام جانور کے گوشت کے کھانے سے آئی تھی۔
جب یہ وائرس امریکہ،اٹلی ۔اسپین ،عراق۔بغداد سے ہوتا ہوا ہمارے ہمسایہ ملک ایران تک آ پہنچا تو پاکستںانی میںڈیا اپنے کان کھول کر باہر ممالک کی خبروں پر لگا رکھے تھے کب کیا سن کر اسے بڑھا چڑھا کر اپنے میڈیا میں کوریج دے کر اپنے ملک میں لوگوں کے دلوں میں اس وبا کا غم مزید ٹھونس دیں
ایران میں کرونا وائرس کی آمد اور اس سے متاثرہ مریض اور اموات کا سن کر پاکستانی حکمران اور عوام کے دل میں کوئی شک و شبہ نہ رہ سکے اب یہ وائرس وہیں دم تھوڑ کر پاکستان میں نہیں آئے گئی ۔
ہر ایک کو اس وائرس کا خوف اپنے سر پر منڈلاتے نظر آنے لگا کیونکہ ایران میں داخل ہوا وائرس کا اب ہدف پاکستان ہی تھا
تو ہاکستان نے چین اور باقی ممالک کی طرح کام لیتے ہوئے لاک ڈاون پر عمل کیا لوگوں کو گھروں تک محدود کیا۔
اور یہ سوچا ہی نہیں کہ چین نے تین، ساڑھے تین مہینے تک لاک ڈاون لگایا تھا تو وہ امیر ملک ہےوہاں کے عوام چار مہینے نہیں بلکہ چار سال گھروں میں محدود ہوکر رہیں انہیں کھانے پینے اور زندگی کے دوسرے ضروریات کی کوئی پریشانی نہیں ہوگئی۔ میرے عوام غریب اور دھاڑی دار ہیں وہ لاک ڈاون لگانے سے اگر کرونا وائرس سے محفوظ ہو سکیں تو بھوک سے مرینگے ۔
یہ سب سوچے بغیر پاکستانی حکومت نے چین اور دوسرے ملکوں کو دیکھ کر کام سر انجام دینے لگے
کرونا وائرس اپنی رفتار کے مطابق سفر پر گامزن تھا اسی طرح ہوتے ہوتے پاکستان میں ایک دو کیسز کے رپورٹ ہونے کے بعد پاکستانی میڈیا بلا ججھک پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر اور مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں بیان کرنے لگے
لیکن کرونا وائرس سے متاثرہ اور اموات کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ جتنا پاکستانی میڈیا اپنے طرف بڑھا چڑھا کر کوریج دے رہا تھا ۔
عوام لاک ڈاوں کی وجہ گھروں پر محدود تھے وہ سارے دن الیکٹرانک میڈیا پر کان لگا کر سن رہے تھے۔ میڈیا کرونا کی متاثریں اور اموات کی تعداد لاکھوں میں بتائے جارہے تھے۔ لیکن عوام نے کرونا کے کوئی مریض اپنے آنکھوں سے نہیں دیکھے تو کچھ لوگ اسے ڈرامہ ۔اور سازش قرار دینے لگے۔
کچھ لوگ مہینوں کے مہینوں میڈیا میں متاثرہ اور اموات کی جو تعداد لاکھوں میں سنتے جا ریے تھے
جب اپنے ارد گرد عوامی سطح کرونا کا نام نشان نہ دیکھنے سے مزید خوش ہوکر ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کرونا کو مسلمان اور اسلام کے پیروکار سے کوئی تعلق ہی نہیں ہمارا ملک خواہ مخواہ مغربی سازش کا حصہ بن کر اپنے عوام میں خوف پھیلا رہا ہے ۔
یہاں تک بڑے بڑے سیاسی شخصیت کرونا اور چین پر مزاق اڑا کر یہ کہنے لگے کرونا چین سے کی پیداوار ہے ۔چین کی ہر پروڈکٹ ناپائیدار ہوتی ہیں۔اس میں پیدا ہونے والا کرونا وائرس زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتی ۔
لیکن چین سے پیدا ہونے والے یہ وائرس نے لوگوں کی یہ مفروضہ کو کچل کر ناکام اور بے بنیاد قرار دیا ۔اپنے پائیدار صلاحیتوں کی ساتھ پھیلتا رہا یہاں تک یہ وائرس نے دنیا کے ایک سو ستانوے ممالک کو اپنے آہنی پنجے کی قابو میں ڈال دیا ۔
روز نئے نئے تجربے ، تحقیق، مفروضے اور مشاہدے سامنے آنےلگے ۔
اسی دوران ایران میں کرونا کے متاثریں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئے تو پاکستان سے شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنے مذہبی رسومات اور پیر مرشدوں کی مزارات کے زیارت کے لئے ایران عراق اور بغداد میں مصروف تھے۔
جب وہ واپس آئے تو کچھ دن بعد پاکستانی میڈیا میں ایران سے آئے ہوئے ایک شخص سے اس وائرس کی تصدیق ہوئے اسکے بعد پنجاب اور سندھ سے کچھ شیعہ زائریں سے یہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے لگے
شیعہ زائریں میں کرونا کا تصدیق ہونے کے بعد کچھ زائریں تو اپنے اپنے گھروں میں پہنچ چکے تھے کسی کو پتہ ہی تھا کون کون شیعہ زائریں تھا کہاں سے آکر کہاں چلےگئے
عوامی سطح پر اسی دوران حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کرنے لگے۔شیعہ زائریں آزادانہ طور پر ملک میں داخل ہو رہے ہیں اگر ان میں کرونا وائرس موجود ہو تو یہ لوگوں سے ملتے رہینگے چند ہفتے بعد پورے ملک کو کرونا اپنے لپیٹ میں لے گئی
اسی دوراں حکومت نے ملک میں نئے داخل ہونے والے زائرین کے لئے بلوچستان میں قرنطینہ قائم کرکے انہین قرنطینہ میں رکھا گیا
بلوچستان میں شیعہ زائریں کی قرنطینہ کا قائم کرکے رکھنے کا عمل کو بلوچ سیاسی رہنماوں کی جانب بلوچ نسل کش پالیسی اور بلوچستان میں اس وائرس کو دعوت دینے کا مترادف سمجھ کر غم اور غصہ کا اظہار کرنے لگے
لیکن زائریں کو قرنطینہ میں نہ رہنے کی اچھی سہولت دی تھی نہ کرونا کا کوئی ایس او پیز کا عمل درآمد کا اچھی انتظام تھا بس ۔انہیں خیمہ لگا کر دیئے تھے۔ وہ صحیح طریقے سے کھانے پینے اور بیت الخلاہ جیسے سہولیات تک محروم تھے ۔
اس عمل کا پاکستانی حکام اور انتظامیہ کرونا کا ایس او پیز کا نام دے رہے تھے حقیقت میں وہاں ایس او پیز کی نام کی کوئی چیز نہ رہی تھی ۔
اس عمل سے کرونا کے بچنے سے زیادہ بڑھنے کے امکانات زیادہ تھے کیونکہ چھوٹی اور تنگ جگہ میں زیادہ افراد کو رکھنے سے ایس او پیز کی کوئی نام نہ رہ جاتی ہے ۔اس سے لوگوں کو ایک دوسرے سے متاثرہ ہونے کا زیادہ خدشہ پیدا ہوتا ہے ۔عوامی تنقید اور زائریں کو مشکلات سے نمٹنے کے لئے منت سماجت۔ گریہ زاری سے قرنطینہ ختم کرکے انہیں آزاد چھوڑ دیئے گئے۔
اسی دوران پاکستان میں کرونا کے متاثر مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتے رہے پاکستان نے چین اور باقی ممالک کی طرح مکمل لاک ڈاون پر عمل کرکےکرفیو نافذ کر دیا
وائرس کا جلد ایک جسم کا دوسرے میں منتقل ہونے کا عمل کو قابو پانے کے لئے عوامی اجتماعی جگہ مکمل طور پر بند کر دیئے گئے گاڑیوں میں دس افراد کے جگہ دو افراد سفر کرسکتے تھے اسکول ،شادی حال،ہوائی اڈے ۔،شاپنگ محل ،بینک ،پیر ،مزارات و مندر ،،سینما ہاوس، ہوٹل کھیل کے میدان ، اور دوسرے تفریحی مقامات یہاں تک اجتماعی مذہب پر پابندی لگا کر مسجد اور عید گاہ بند کروا دیئے گئے باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی لگادی گئی
ماسک کا پہنا لازم قرار دیا گیا۔ تمام معمولات زندگی کو گھر تک محدود کیا گیا اگر کوئی مزدور ریڈھی والا اپنے ریڈھی گھر سے باہر نکال کر کچھ بیچ کر بچوں کی ایک وقت کے روٹی کا بند بست کرنا چاہتا تو اسکی ریڈھی ایس او پیز کے خلاف ورزی کی جرم میں پلٹا دیتے اور اسے ذلیل کرکے گھر واپس بھیج دیتے
اگر کوئی موٹر سائیکل یا گاڑی سوار کسی سودا سلف یا دوائی خریدنے یاکہ اپنے کوئی دوسری کام کے لئے گھر سے نکل جاتے تو وہ گھنٹوں تک روڈ پر مرغا بن کر واپس گھر آ جاتے تھے ۔
لیکن پاکستان میں اس وائرس کے تصدیق ہونے کے بعد سرجیکل ماسک بھی ناپید ہوگئے اگر کسی نہ کسی میڈیکل اسٹور سے مل جاتے دس روپے والے سو روپے کے دام میں فروخت ہونے لگے
یہ وائرس نئی وائرس تھی اس نے سر ابھارا دنیا کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر ڈالا کیونکہ اسکی سب سےحساس مسئلہ بہت جلد پھیلنے کا تھا ۔دوسری بات یہ تھی اسکی کوئی دوائی بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی ۔اس کے پھیلاو کے روکنے کا سب سے مثبت عمل لاک ڈاون تھا
لوگوں کر گھروں تک محدود رکھنا تھا ۔عوامی اجتماع پر مکمل پابندی ،اور سماجی فاصلہ لگانا ضروری تھی کیونکہ یہ وائرس بہت تیز پھیلنے والا وائرس تھا ۔دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے کے نوبت پیش آئے تھے
جب پاکستان میں کرونا سے متاثریں اور اموات کی تعداد میڈیا میں زیادہ بیان کرنے لگے تو عوامی سطح پر اسی پھیلاؤ کم تھے ۔تو عوام اس شک کا اظہار کیا کہ حکومت مغربی سازش میں آکر دوسرے بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کو زہریلی انجیشن سے ختم کروا کر انہیں کرونا کے فہرست میں ڈال کر بیرونی ملک سے پیسہ بٹورنے کی چکر میں لگا پڑا ہے
ایسی باتیں سننے کی وجہ بہت سے لوگ اپنے مریضوں کو ہستالوں سے دور کرنے لگے بعض معمولی بیمار ہسپتال نہیں پہنچائے کہ اسے زہریلی انجیکشن مار کر قتل کرواکے لاش بیرونی ملکوں میں بھیج کر پیسہ کماتے ہیں
اب کرونا وائرس کو دوسال ہونے والا ہے دنیا کے بیشتر ممالک ایک دوسرے پر لگائے گئے الزام ، طنز ،تنازعہ، شاید بھول گئے ۔مختلف شک شبہ شاید اب یادوں میں باقی رہ گئے۔
دنیا کے تمام ممالک نے اسکی پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اپنے معاشی نقصان کو برداشت کرکےمجبوراََ لاک ڈاون کا سہارا لیا تھا چند مہنیے کے احتیاطی تدابیر سے کرونا کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ویکسین نیشن ، فیس اسکین ، فیس ماسک اور کرونا سے بچانے اور پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جدید قسم کے ٹیکنالوجیکل مشین اور پروڈکٹ بنا کر دوسرے ملکوں میں فروخت کرکے اپنے چند مہینے کے مالی نقصان و خسارے کو پورا کرکے مزید تجارت کر رہے ہیں
لیکن پاکستان میں کرونا کے مصنوعی وائرس ۔مغربی فریب اور سازشین کے شک۔ شبہات ،تضاد کم نہ ہوئے بلکہ اب بیرونی ملکوں سے آنے والے ویکسینیشن پر شک ۔شبہات پیدا ہوئے روز نئی نئی باتیں سنے کو ملتے ہیں ۔
اب ویکسین کے بارے میں کچھ لوگوں کے خیال ہے یہ مسلمانوں کے دلوں سے اسلام کے محبت کو ختم کر کے انہیں یہودی اور عیسائی کے نظریہ کی طرح زندگی گزارنے پر مائل کرنے کا ایک مغربی سازش ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے یہ مسلمانوں کے عمر کم اور محدود کرنے کی مغربی ملکوں کے سازش و منصوبہ ہے
کچھ کے خیال یہ مسلمانوں کے دماغ کو کمزور کرنے کی سازش ہے تاکہ ۔ٹیکنالوجی استعمال نہ کر پائیں ترقی یافتہ ممالک اور قوموں کے مقابلہ نہ کرسکیں
کچھ لوگوں سے یہ سننے کو ملتے ہیں یہ عمل تولید کو کم کرنے کا یہودی کی چالین ہے مسلمان کی آبادی دنیا میں کم رہیں وغیرہ وغیرہ
اب پاکستان میں کرونا کی ویکسین لگانے کا عمل ایک طرف حکومتی اور صحت انتظامیہ کی طرف سست روی کا شکار ہے دوسری طرف عوام اس سے ڈر کر دور بھاگ رہے ہیں
اب اک طرف پاکستانی حکومت ہر دو تین ہفتے کے بعد کرونا کا نئی لہر آنے کی خوشخبری دے کر لاک ڈاون نافد کر رہا ہے ۔اب تک پاکستان میں چار لہر گزر چکے ہیں پانچویں اور چھٹی لہر آنے کی پیشنگوئیاں اب جاری ہیں کسی وقت پر آسکتی ہیں۔
اب تک ہزاروں لوگ یہ گزری ہوئی کرونا کے لہروں کو حکومت کی جھوٹ اور فریب قرار دے رہے ہیں۔انکے خیال پاکستان کا موجودہ حکومت ملک کو چلانے سے ناکام ہے ۔ملک پر مہنگائی مسلط کردیا ہے ۔اب کرونا کے لہروں کے نام سے ہر چند دن بعد کا لاک ڈاون لگانا حکومت کو اپنے ناکامی اور نااہلی کرونا پر ڈالنا ہے
میرے کہنے کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ کرونا وائرس مصنوعی، قدرتی مغرب فریب ،سازش کا حصہ ہے یا نہیں
لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے ہم کرونا کو کب تک پال کر رکھیں گئے ۔ دنیا کے جس ملک میں پیدا ہوا اس ملک میں تین مہینے کے بعد ختم ہوئے ۔ہمیں اب تک ایک لہر کے گزرجانے کے بعد دوسرے اور تیسرے لہر کے آنے کا پیغام مل رہا ہوتا ہے
کرونا کی ویکسین نیشن کا عمل نہ صرف دیہاتوں میں نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ بڑے بڑے شہروں میں قابل مزمت ہے بڑے بڑے ویکسین نیشن سینٹروں میں لوگ ایس اور پیز کے خیال کئے بغیر کھڑے ہوکر ویکسین لگوانے کے انتظار میں دس دس گھنٹے دھوپ پر کھڑے ہوکر اپنے باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔چار پانچ گھنٹہ بعد ویکسین ختم ہونے کی اعلان کرکے لوگوں کو گھر بھیج کر دوسرے دن بلا رہے ہیں۔
تعلیمی ادارے تاحال کرونا کے وبا کے پھیلاؤ کے روکنے کی وجہ سے بند کئے ہوئے ہیں
سیاسی اور مذہبی جماعتیں آزادانہ جلسہ ،جلوس کر رہے ہوتے ہیں انکے لئے نہیں کوئی کرونا وائرس نہ انکے کوئی ایس او پیز ہے
کھبی عوام خود احتجاج کر رہے رہی ہوتی ہے لاک ڈاون نافذ کرکے تاکہ کرونا کا ایس او پیز کی پاسداری ہو کھبی ختم کروانے کے مطالبہ کرکے احتجاج کر رہے ہیں۔
اب تک اس ملک کے حکومت اور عوام کا کرونا کے بارے میں روّیہ ایسا ہے کہ اس ملک میں پولیو کی طرح کرونا وائرس کے خاتمے کو صدیاں لگے گئی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!