تقدیر، سائنس اور ایک سوال

Spread the love

Fate , Science and a Question

تحریر: غلام مصطفٰی (جی ایم)

اِس وقت میرے ذہن میں عجیب و غریب سوالات آرہے ہیں اور ان سے جڑے آدھے ادھورے جواب ۔
سوال کچھ اِس طرح ہے کہ اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ انسان کا اپنے زندگی پر کچھ اختیار ہوتا ہے اور کچھ چیزوں میں وہ مجبور ہوتا ہے۔
یعنی ایک انسان ایک ہی وقت میں بااختیار اور بے بس بھی ہوتا ہے ۔اُس کے پاس فیصلہ لینے کی طاقت بھی ہوتی ہے اور فیصلہ نہ لینے کی بے بسی بھی ہوتی ہے۔
اگر میں اِس اختیار اور بےبسی کو عام فہم زبان میں بولوں تو اسے کچھ اِس طرح کے نام سے جانا جاتا ہے جسے کہتے ہیں قسمت ، نصیب اور تقدیر
جو کہ میں نےکسی حد تک تاریخ اور فلسفے کا مطالعہ بھی کیا ہوا ہے تو میرے لیے یہ” Fatalism’ کوئی نئی چیز نہیں ہے
کیونکہ آج کے دور میں تقدیر پسندی (Fatalism) کو ماننے والے لوگوں نے کوئی نیا نظریہ تو نہیں لایا ہے۔
جس سے میرا توجہ ان کے اوپر ہو اور جو جیسے چلتا ہے اُسے چلاؤں ۔
جب مجھے پتا چلا کہ بیس فیصد زندگی ہمارے اختیار میں ہے اور بقایا اسی(80) فیصد زندگی ہمارے اختیار میں نہیں جسے عام لوگ "”قسمت”” اور "”تقدیر”” کہتے ہیں ۔
جب میں نے یہ اختیار اور بےبسی والا ڈرامائی نظریہ جسم پر لاگوں کیا۔
تو مجھے پتا چلا کہ same نظریہ جسم پر بھی لاگو ہوتا ہے
(جیسے خون کا بہاؤ، دل کا پمپ کرنا، نظام انہضام وغیرہ ہمارے اختیار میں کام نہیں کرتے بلکہ وہ دماغ کے بے اختیار نظام کے تحت کام کرتے ہیں)
یعنی ہمارا جسم بھی بیس فیصد ہمارے اختیار میں ہے جبکہ 80 فیصد ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔
جب میں نے same نظریہ دماغ پر لاگو کیا ۔
تو مجھے پتا چلا کہ ایک ذہیں ترین انسان بھی تقریبًا 20 فیصد ہی اپنے دماغ کو استعمال کر پاتا ہے بقایا 80 فیصد قبر کے کیڑوں کیلیے مجبوری کے تحت رکھ دیتا ہے ۔
گویا کہ ہم نے اب تک جو بھی ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی دیکھی ہے وہ تمام کے تمام صرف بس فیصد کے اندر دماغ کے استعمال کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں ۔
چلیں اب آسان الفاظوں میں اپنا سوال پوچھ ہی لیتا ہوں۔
سوال: یہ جو قسمت اور تقدیر وغیرہ ہیں
کیا (تقدیر) ہمارے دماغ کی بیس فیصد سے زیادہ استعمال نا کرنے کی صلاحیت کو تو نہیں کہتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم اپنے دماغ کو بیس فیصد سے زیادہ استعمال نہیں کرپاتے ہیں تب ہم اپنے جسم کو بھی بیس فیصد سے زیادہ اپنےقابو میں نہیں کرسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہم اپنے زندگی پر بھی بیس فیصد سے زیادہ اختیار نہیں رکھ پاتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!