تاریخ میں سب سے پہلے پیشوارانہ استاد اور وکیل کون تھے؟

Spread the love

Who were first professional teachers and lawyers in the history

تحریر غلام مصطفٰی (جی۔ایم)

یہ دور BC۔ 450 کا تھا ۔جب یونان میں لوگ تین طبقے میں بٹے ہوئے تھے۔

(1)اشرافیہ Aristocracy
یہ وہ طبقہ تھا جو صاحب مال اور غلام رکھتے تھے۔

(2)عام عوام Demos
یہ وہ طبقہ تھا جو نہ خد غلام تھا اور نہ غلام رکھتا تھے۔

(3)غلام slaves
یہ غیر یونانی لوگ تھے جو یونان کے لوگوں کی غلامی کرتے تھے۔

جنگوں میں اشرافیہ طبقے کے ساتھ ساتھ ڈیموس طبقے کے لوگوں کا بھی اہم کردار ہوتا تھا۔اسلئے اشرافیہ اور ڈیموس طبقوں میں ایک معاہدہ تھا۔
جس کے بنیاد پر دونوں طبقے اپنے اپنے فرائض بخوبی ادا کرتے تھے۔
جب یونان میں غلامی نظام کی وجہ سے بے شمار دولت اکٹھی ہوئی،تب اشرافیہ اور ڈیموس طبقوں میں فساد اور بغاوتیں شروع ہوئیں جس میں ڈیموس طبقے نے اشرافیہ طبقے کے عورتوں اور بچوں کو ماردیا اور اِس کے ردعمل میں اشرافیہ طبقے نے ڈیموس طبقے کے بےشمار لوگوں کو زندہ جلا ڈالا۔

ان فساد اور بغاوتوں کی وجہ سے یونان میں ایسے اسمبلی بنائے گئے جس میں ہر فرد اپنا مؤقف لوگوں کے سامنے پیش کرسکے۔

ان اسمبلیوں کی وجہ سے مزید نئے طبقوں نے جنم لیا ۔
جیسے کہ Oligarchy, Demagogue, tyrant, وغیرہ

(ا) Oligarchy
ایسا فرد جو حکومت یا اسمبلی کا رکن ہو۔

(ب)Demagogue
ایسے لوگ جن کے پاس اثرو رسوخ تو تھا لیکن زیادہ پیسہ نہیں ہوتا تھا اور جب وہ لوگ demos کی نمائندی کرتے تھے تو ایسے لوگوں کو Demagogue کہا جاتا تھا جس کا مطلب عوام کی زبان بولنے والے کا تھا۔

(ت)Tyrant
اُس دور میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو امیر لوگوں سے دولت چھین کر غریب Demos طبقے میں بانٹتے تھے۔ایسے لوگوں کو Tyrant کہا جاتا تھا۔

جب اشرافیہ طبقے کو اسمبلی میں لوگوں کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کے بعد منوانے میں مشکلات پیش آرہےتھے اور جو فرد اچھا مقرر ہوتا تھا تو وہ اپنا مؤقف پیش کرکے اسمبلی سے منظوری حاصل کرپاتا تھا۔
اسلئے اشرافیہ طبقے کو ایسے لوگوں کی بہت ضرورت تھی جو اٌن کو وہ ہنر سکھائے جس کے ذریعے سے وہ اپنا مؤقف لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے بعد اسمبلی سے منظوری حاصل کر سکیں۔
یعنی اشرافیہ طبقے کو ایسے لوگوں کی اشد ضرورت تھی جو انہیں فن خطابت. "”The Art of Rhetoric””سکھائے اور ان کی تقریر کو پُر اثر بناسکے۔
اِس ضرورت کو پورا کرنے کیلیے ایک ایسا طبقہ سامنے آیا جو خد کو "”Sophist””کہتے تھے۔
لفظ Sophist یونانی زبان کے لفظ Sophia سے نکلا ہے جس کا مطلب علم،دانائی کے ہے۔
سوفسٹ اُس انسان کو کہا جاتا تھا جو علم اور دانائی رکھتا تھا۔اُسے wiseman بھی کہا جاتا تھا ۔
سوفسٹ بنیادی طور پر ٹیچرز تھے۔ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے اور مختلف لوگوں کو معاوضہ کے بناپر پڑھاتے تھے۔
اُس زمانے میں کوئی اسکول، کالج ، اور یونیورسٹی نہیں ہوا کرتے تھے لہذا ایک قسم کی Private tutions ہوا کرتی تھی۔
سوفسٹ پورے یونان میں سفر کرتے تھے اسلئے وہ ہر جگہ کے مختلف کلچر ، روایات اور رسم و رواج سے بخوبی واقف تھے۔ سوفسٹ اپنا فرض یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے تمام مختلف کلچر ، روایت ، رسم رواج اور علم سیکھ کر اپنے شاگردوں کو اُن تمام نقطہ نظر سے بخوبی واقف کروانا تھا تاکہ اِسکے بدلے انہیں اچھا معاوضہ مل سکے۔
سوفسٹ کوئی سچائی کی تلاش میں نہیں نکل رہے تھے بلکہ ان کا ذریعہ معاش یہی تھاکہ وہ سفر کرکے تمام قسم کے مختلف علوم سے واقف ہو جائیں اور پڑھانے کے بدلے انہیں اچھے معاوضے ملیں۔
سوفسٹ امیر لوگوں سے بڑے بڑے معاوضے لےکر ان کے بچوں کو ایسے ایسے گُروں کی تعلیم و تربیت دیتے جس کے ذریعے وہ بچہ زندگی میں اپنے مخالفوں سے مقابلہ کرسکے اور ان بچوں کو ہر طرح کے علم سے بخوبی واقف کروایا جاتا تھا۔
سوفسٹ جوکہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاکے پڑھاتے تھے اور ہر جگہ کے مختلف کلچر ، روایات ، اور رسم ورواج ہوتے تھے ۔اسلئے وہ اپنے شاگردوں سے یہ نہیں کہتے تھے کہ اُس شہر کے اصول و قوانین درست ہیں اور آپ کے شہر کے اصول و قوانین غلط ہیں بلکہ وہ کہتے تھے کہ
جناب ! آپ کے شہر کے اصول و قوانین یہ ہیں اور اُس شہر کے اصول و قوانین یہ ہیں ۔ اب آپ دونوں کا موازنہ خد کرلیں اور جو اصول وقوانین آپ کے ذہن کو بہتر لکتے ہیں اُن کو آپ اپنا لیں۔لہذا ہر فرد کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے جسے جو اصول وقوانین اچھے لگتے ہیں انہیں وہ اپنا لے۔

سوفسٹ بطور وکیل بھی کام کیا کرتے تھے ۔
جو شخص انہیں پیسے دیتے وہ ان کے حق میں کھڑے ہوکر ان کے مؤقف کی دفا کرتے تھے ۔
سوفسٹ جوش خطابت سے مجمع کا دل جیتنے میں ماہر تھے۔لوگوں کو اپنی خطابت کے جوہر سے حیرت میں ڈالتے ، ان کے جذبات کو تحریک دیتے ، دلائل سے کسی مخالف کیلیے مخالف ماحول پیدا کرنے میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی۔
اِس طرح وہ باطل کو حق سچ بنا کر لوگوں کے نقط نظر کو سچا ثابت کرتے تھے۔
سوفسٹ یہ دعوٰی کرتے تھے کہ وہ کسی بھی کمزور پوزیشن کو اپنے فن خطابت کے ذریعے سے پُراثر اور طاقتور بناسکتے ہیں۔

Sophist claimed to make a weaker position appear stronger by using techniques of rhetoric and debate.

بادشاہ ایسے سوفیٹ کو درباروں میں اعلٰی عہدوں پر فائز رکھتے تھے جو جنگوں سے قبل فوجوں میں جوش پڑانے کیلیے ولولہ انگیز اشعار اور خطبات دیتے تھے ۔
بادشاہ اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کیلیے ان کی خدمات بھی لیا کرتے تھے۔

پانچویں صدی قبل از مسیح میں سوفسٹ نے فلسفے کا توجہ طبعی کائنات سے ہٹا کر ایسے موضوعات کی طرف موڑ دیا جن کا تعلق فرد اور معاشرے کے ساتھ تھا۔
سوفسٹ نے طبعیات اور ریاضی کے بجائے ان علوم کو فوقیت دی جو بحث و مناظرہ میں کام آئیں اور شخصی رائے کو تقویت بخشیں۔مثلاً صرف نحو ، بلاغت ،فن خطابت وغیرہ
سوفسٹ میں بہت سارے لوگ شامل ہیں۔ ان میں کچھ نمایا کردار مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)protagoras (2)Gorgias (3)Antiphon
(4)Hippias (5)Prodicus (6)Thrasymachus
(7)Lycophron (8) Callicles (9) Cratylns

ان سوفسٹوں سے دو معروف سوفسٹ کا نام پروٹاگورس(Protagoras) اور گورگیاس(Gorgias) ہے
پروٹاگورس ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے زبان کے بنیادی قواعد مقرر کئے اور کلمہ کی تین اقسام اسم ، فعل اور حرف متعارف کروائے۔
پروٹاگورس کا ایک جملہ بہت مشہور ہے جس میں وہ کہتا ہے۔
"””””Man is the the measure of all things””””

ترجمہ: تمام چیزوں کا پیمانہ انسان خد ہے

پروٹاگورس کے جملے کی وضاحت میں گورگیاس نے کہا

"Man decides what is true and false , there is no absolute truth , there is no absolute reason.”

ترجہ: انسان یہ خد فیصلہ کرتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ، کوئی بھی چیز مکمل سچ نہیں اور کوئی بھی چیز مکمل جھوٹ نہیں ہے۔

ان دونوں کی وضاحت کچھ اِس طرح کی بنتی ہے۔

ہرچیز کو ہر شخص اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ایک چیز جو کسی کے لیے سچ ہے تو دوسرے کیلیے غلط ہوسکتا ہے۔کیونکہ ایک چیز ایک نقط نظر سے سچ اور دوسرے نقط نظر سے جھوٹ ہوسکتا ہے۔لہذا
کوئی ایسا نقط نظر ، بات اور اصول نہیں ہے جو مکمل طور پر سچ یا مکمل طور پر جھوٹ ہو۔
It’s matter of perspective.

مزید پروٹاگورس نے کہا

What is true for you , is true for you
and
What is true for me , is true for me.

ترجمہ:
جو آپ کیلیے سچ ہے وہ واقعی آپ کیلیے سچ ہے
اور
جو میرے لیے سچ ہے وہ واقعی میرے لیے سچ ہے۔

اِس سے مراد یہ تھی کہ ایک سماج میں جو اصول و قوانین اور ثقافت اچھی سمجھی جاتی ہیں ۔وہی چیزے دوسرے شہر اور سماج میں برے تصور کیے جاتے ہیں۔لہذا کوئی بھی چیز مکمل سچ اور مکمل جھوٹ نہیں ہو سکتا ہے۔

مزید پروٹاگورس نے تمام باتوں کو ایک جملے سلجھا دیا۔

"”It is equally possible to affirm or deny anything of anything”””

ترجمہ:
کسی بھی چیز کی کسی بھی پہلوں سچا یا جھوٹا ثابت کیا جاسکتا ہے۔

سوفسٹ کائنا کے رازوں کے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے ۔وہ کہتے تھے کہ کائنات کے راز پیچیدہ ہیں اور اُن کو سمجھنا انسان کے بس نہیں ہے۔ لہذا انسان اِن چیزوں کے پیچھے اپنا سر کیوں کھپائے۔
اس طرح کے نظریہ کو Skepticism کہتے ہیں۔
ایک مرتبہ پروٹاگورس سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا یونانی دیوتاں کے متعلق کیا رائے ہے۔تب اس نے کہا

"” The question is complex and life is short”””
ترجمہ: سوال بڑا پیچیدہ ہے اور زندگی بہت جھوٹی ہے۔

لہذا پروٹا گورس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سوفسٹ سقراط ہی کے دور عروج حاصل کررہے تھے ۔اسلئے یہ جاننا ضروری کہ سقراط سوفسٹ کے متعلق کیا رائے رکھتا تھا۔

سقراط سوفسٹ کے نقط نظر کا سخت مخالف تھا ۔
سقراط کہتا تھا

What is true , is true
and
what is false , is false

جو سچ ہے وہ کسی بھی حال میں سچ ہے
جو چھوٹ ہے وہ کسی بھی حال میں چھوٹ ہے۔

سچ کو جھوٹ ثابت کرنا اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا صرف اور صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہے۔
سوفسٹ سچ کو فضول میں جھوٹ ثابت کررہے ہیں اور جھوٹ کو فضول میں سچ ثابت کررہے ہیں۔ نا انہیں سچ کا پتا ہے اور نا ہی جھوٹ کا پتا ہے۔وہ سرف لفظوں کا ہیر پھیر کرنا جنتا ہیں۔
آج سقراط کی نتقید کی وجہ سے لفظ Sophistry کو برے معنوں میں سمجھا جاتا ہے۔

فلاسفر افلاطون (plato) سوفسٹ کے متعلق کہتا تھا ۔

"” The art of contradictions making, and shadow play of words””
ترجمہ:
سوفسٹ کا علم ایک تضاد پیدا کرنے کا ہنر ہے اور لفظوں کی ہیر پھیر ہے۔

افلاطون نے فلاسفر اور سوفسٹ کا فرق کچھ اِس طرح بیان کیا ہے۔
ایک سوفسٹ جھوٹ کی تعلیم اور دھوکا دیکر روزی روٹی کماتا ہے۔جبکہ فلاسفر ایک دانشور ہے جو دانش دیتا ہے اور وہ ہمیشہ سچ کی تلاش کرتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!