میرغوث بخش بزنجو دوراندیش سیاست دان تھے

Spread the love

بابائے استمان میر غوث بخش بزنجو کی33ویں برسی کے موقع پرخصوصی مضمون

میرغوث بخش بزنجو قابل ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں وہ اسلام آباد میں ملک کے لیے ایک بڑا اور اہم کردارادا کرسکتے تھے،لیکن اپنی بلوچ شناخت اور بلوچ کاز سے وابستگی کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا ۔ (معروف امریکی صحافی سلیگ ایس ہیرسن کی کتاب ”In Afganistan Shodon”سے اقتساب)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرغو ث بخش بزنجو نہ صرف یہ کہ بڑے سیاستدان تھے بلکہ وہ ایک دوراندیش مفکر اور حقیقی معنوں میں اسٹیٹ مین تھے اگران کی رہنمائی سے ریاستی معاملات کوچلایاجاتا تو آج پاکستان اس خطے کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا مگر ایسا اس لیے نہ ہوسکا کہ ہماری ریاستی مقتدرہ نے ریاست کے جنم دِن سے ہی یہ غیرمقدس عہد کیا ہوا ہے کہ وہ ریاست پر عوام کے حقِ حکمرانی کو تسلیم نہیں کرے گی، یہی وہ بنیادی وجہ ہے جسکی بنیا دپر ہر روز اور نت نئے طریقوں سے ملک کے شہریوں کو فتح کیا جاتا ہے۔
میرغوث بخش بزنجو نے ساری زندگی حکمرانوں کی ان غیرجمہوری اور غیر قانونی حرکتوں کے خلاف جدوجہد میں گزاری، انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی غیر حقیقی اور غیر جمہوری تجاویز کو نہیں مانا اور نہ ہی انتہا پسندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو عوامی خواہشات کی بنیاد پر منظم کریں نہ کہ اپنی ذاتی خواہشات پر ،جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرصاحب اعلیٰ درجے کے جمہوری اُصولوں کے پاس دار تھے، میرصاحب کہتے تھے جو لوگ عوامی تحریکوں سے خطرہ محسوس کرتے ہیں دراصل یہ وہی لوگ ہیں جو لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کی ترجمانی نہیں کرتے ، وہ کہا کرتے تھے کہ میری سیاسی جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے کے تحت نظام حکومت اس طرح کا ہو جس میں اکثریت یعنی مزدور ، کسان اورد یگر محروم طبقات کا ریاستی اختیارات میں برائے راست حصہ ہو وہ ملک کی جغرافیائی صورت حال کے مطابق ایک غیر جانبدار اور غیر وابستہ خارجہ پالیسی کے حامی تھے، وہ کہتے تھے سامراجی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی آخر کار ملک کے لیے بڑے نقصانات کا سبب بنے گی۔
میرغوث بخش بزنجو کا نام بلاشبہ ایشیاء کے بڑے اور نامور سیاست دانوں کی صف اوّل میں شمار ہوتا ہے ” وہ بلوچستان کے گورنر اور پارلیمنٹ کے رُکن بھی رہے اُنہوں نے نصف صدی پر محیط اپنے سیاسی کیریئر میں انسانی مساوات، سماجی انصاف اور امن کے لیے جدوجہدکی ۔ وہ نسل پرستی اور جارحانہ وطن پرستی کے مخالف تھے، وہ اشرافیہ کی جانب سے مزدور طبقے اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات سے روا رکھے جانے والے استحصال اور امتیازی سلوک کی تمام اقسام کے خلاف تھے”
میرغوث بخش بزنجو نے اپنے سیاسی نظریات اور اُصولوں کی سیاست کیوجہ سے اِنتہائی تکلیف دہ زندگی گزاری، اُنہوں نے اپنی طویل سیاسی زندگی کا بڑا حصہ زندانوں ، عقوبت خانوں اور قلی کیمپوں میں گزارا۔ میرغوث بخش جنہیںبجا طور پر بابائے بلوچستان کا لقب حاصل ہے کا سن پیدائش 1917ء ہے ۔اور سن 2017ء کو میرغوث بخش بزنجو سو سال کے ہوگئے ان کی انسانی تاریخ میں اپنی ایک اہمیت ہے یہ سال کراۂ ارض پر مزدوروں کی پہلی حکومت کے قیام کا سال ہے، شاید اسی وجہ سے میرصاحب ساری زندگی محنت کش طبقے کے حق حکمرانی کے لیے لڑتے رہے۔
میرصاحب کے والد کا نام سفر خان تھا ان کے آبائی گائوں کا نام ”نال” ضلع خضدار ہے۔
آپ کم سنی میں ہی والد کے سائے سے محروم ہوگئے آپ کے دادا فقیر محمد بزنجو1839ء میں محراب خان حکومت میں مکران کے گورنر تھے 45برس تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ ایک بڑی جائیداد کے مالک یتیم بچے کو جس کے وارث بااثر بھی ہوں اور طاقتور بھی ہوں بیوہ ماں نے کتنی تکلیفوں اور نامساعد حالات میں پالا ہوگا! لفظ بزنجو، بیزن سے نکلا ہے یہ نام نہیں خطاب ہے جو کسی حکمران نے میرصاَحب کے اجداد میں سے کسی سردار کو دیا تھا یہی خطاب آگے جاکر پورے قبیلے کو بزنجو کے نام سے مشہور کرگیا۔ غوث بخش بزنجو باپ کی طرف سے بزنجو قبیلے کی صمالانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور ماں کی طرف سے بلیدی ہیں۔میرصاحب کے مطابق والدہ نے قصے، کہانیوں کے ذریعے بچپن ہی میں میرے اندر بلوچیت کے جراثیم پیدا کردیئے تھے وہ اسکول کے زمانے میں فٹ بال کے کھلاڑی بنے اور فٹ بال ہی ان کا سنڈیمن سے ہوتے ہوئے علی گڑھ تک پہنچنے کا ذریعہ بنا وہاں میرصاحب فٹ بال ٹیم کے کپتان ہوگئے اور جب تک علی گڑھ میں بطور طالب علم رہے گولڈ مڈل علی گڑھ سے باہر نہ جانے دیا۔ علی گڑھ میں سیاسی ہلچل کے زمانے میں میربزنجو مسلم لیگ کے نہیں کانگریس کے حامی بنے وجہ ظاہر ہے کہ کانگریس ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی تھی پھر تجربات نے ان کے رجحان کو بائیں بازو کی طرف کردیا، چار سال علی گڑھ میں رہے اور 1938ء میں میٹرک کرنے کے بعد واپس آگئے نال میں شادی کی چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے باپ ہوئے اِسی برس کراچی کی ایک سرگرم تنظیم بلوچ لیگ میں شامل ہوگئے یہی تنظیم انہیں قلات نیشنل پارٹی میں لے گئی ۔ 1941ء میں قلات نیشنل پارٹی کو آل انڈیا پیپلزکانفرنس کا ممبر بنایا گیا اس تنظیم کے صدر شیخ عبداللہ اور نائب صدر پنڈت جواہر لال نہرو تھے میرصاحب 1937ء میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوچکے تھے۔ جب نیشنل پارٹی پر پابندی لگی تو اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہوئے جائیداد ضبط ہوئی ، آمدنی کے ذرائع سے محروم ہونے کے بعد تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکے اور مکران بدر بھی ہوئے۔ یہ احکامات دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد واپس ہوئے۔ 11اگست 1947ء کو ایک اعلامیہ کے ذریعے حکومت پاکستان نے قلات کی آزادی کو تسلیم کیا۔اِس دستاویز پر قائداعظم اور لیاقت علی خان کے دستخط موجود ہیں اِسی دستاویز کی بنیاد پر 12اگست 1947ء کو خان آف قلات نے بلوچستان کی مکمل آزادی کا اعلان کیا آزادی کے اعلان کے بعد خان قلات نے ریاست کے لیے تحریری آئین جاری کیا۔ آئین کے مطابق ریاست میں دیوان عام اور دیوان خاص کے نام سے دو ایوانوں پر مشتمل پارلیمنٹ ہونی تھی میرصاحب نے 1947ء میں قلات اسمبلی کے دیوان عام کے انتخابات میں حصہ لیا اور 52 میں سے 39 ووٹ لے کر منتخب ہوئے دو تین ماہ بعد ہی حکومت پاکستان نے ریاست پر قبضے کی کوششیں اور سازش شروع کردی ۔ 4جنوری 1948ء کو دیوان عام کا اجلاس ہوا جس میں میرغوث بخش بزنجو نے واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ ریاست قلات کا کسی بھی صورت پاکستان سے الحاق نہیں ہوسکتا۔
میرصاحب نے اپنی تاریخی تقریر میں کہا ہم پاکستان کے نظرئیے سے واقف ہوچکے ہیں وہ دوستی کے نام پر تو کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتا لیکن غلام بنانے کے لیے اس سے زیادہ خرچ کرنے کو تیار ہے۔ پھر مارچ 1948ء میں سازش کے ذریعے خاران، لسبیلہ اور مکران کا الحاق پاکستان سے کر دیا گیا ۔میرصاحب گرفتار ہو کر خضدار جیل کے سپرد ہوئے اِس طرح بلوچستان 28مارچ 1948ء کو غلام بنا دیا گیا۔ 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کردی گئی اور پھر میرصاحب نے دوستوں کے ساتھ مل کر اُستمان گل (عوام کی پارٹی) بنا ڈالی اور 1954ء میں ہی اس پارٹی کو پاکستان نیشنل پارٹی میں ضم کردیا گیا۔ 1956ء میں آئین کے اندرون یونٹ کو آئینی ضمانت فراہم کرکے پاکستانی ریاست کو باقاعدہ قوموں کا جیل خانہ بنا دیا گیا ۔ 1957ء میں پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) نیشنل عوامی پارٹی (NAP) بن گئی لفظ نیشنل کا اضافہ مولاعبدالحمید بھاشانی کے مطالبے پر ہوا اِن کی قیادت میں عوامی لیگ کا ایک دھڑا الگ ہو کر نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوا اِس طرح نیپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔ 1958ء میں قوموں کے اس جیل خانے پر جنرل ایوب خان کی قیادت میں فوج قابض ہوگئی۔ کئی دوسرے سیاسی کارکنوں کے ساتھ میرصاحب کو بھی گرفتار کرکے کوئٹہ چھائونی کی حدود میں واقعہ قلی کیمپ میں پھینک دیا گیا۔ قلی کیمپ کے قیدیوں کو ہرقسم کے خوف، تشدد اور ذلت کا شکار بنا یا جاتا تھا ٭کئی کئی گھنٹے تک دونوں اطراف میں بازو پھیلا کر کھڑے رکھنا ٭لباس کے بغیر کھلی فضائوں میں تیز اور سرد ہوائوں کا سامنا کرانا٭ چھت سے اُلٹا لٹکا کر بید مارنا٭ پیٹ کے بل لیٹانا اور سپاہیوں کو بوٹوں سمیت قیدیوں پر اُچھل کود کرانا ٭ قیدیوں کو طویل دورانیہ تک بھوکا رکھنا ٭ قلی کیمپ میں مقید قیدیوں کو دی جانے والی خوراک گرم پانی میں اُبلی ہوئی دال اور ایک آدمی کے لیے ایک چھوٹے سائز کی چپاتی یہ مینو ہفتے میں کسی بھی دِن تبدیل نہ ہوتا تھا۔
ایک سال بعد میرصاحب کو رہا کردیا گیا رہائی کے بعد میرصاحب نے نوروز خان اور اس کے ساتھیوں کے لیے قانونی مدد حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ شروع کی تو یہ بات بھی ایوبی آمریت برداشت نہ کرسکی ، رہائی کے دوہفتوں کے اندر ہی میرصاحب دوبارہ قلی کیمپ میں تھے اب انہیں قید تنہائی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مہینوں بعد میرغوث بخش بزنجو کو چھ ماہ قید، 5کوڑے یا 10ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا کر مچھ جیل بھیج دیا گیا۔ اپنی قید کی سابق مدت پوری کرنے کے بعد ابھی میرصاحب مچھ جیل سے رہاہی ہوئے تھے کہ دوبارہ گرفتار کرکے تیسری مرتبہ قلی کیمپ بھیج دیئے گئے جہاں وہ چھ ماہ تک فوج کی تحویل میں رہے اور ہرقسم کے تشدد اور توہین آمیز سلوک سے گزارہ گیا پھر کوئٹہ جیل منتقل کردیئے پھر مستونگ لے جاکر رہا کردیا گیا۔ 1962ء میں جیل سے رہائی کے بعد میرصاحب نے نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے دوسرے رہنمائوں سے مل کر ایوبی آمریت کے خلاف بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں تحریک کو منظم کرنا شروع کیا۔ حکومت نے لیاری میں ہونے والے نیپ کے جلسے کو منعقد نہ ہونے دیا نواب اکبربگٹی کو گرفتار کرلیا لیکن یہ جلسہ دو روز بعد ککری گرائونڈ لیاری میں منعقد ہوا یہ بہت بڑا جلسہ تھا اس میں کراچی اور اندرونِ سندھ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی لوگوں کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ رات 10بجے سے صبح چار بجے تک قائدین کی تقریریں سنتے رہے اگلے روز سردار عطاء اللہ مینگل کو گرفتار کرلیا گیا نیپ نے رائے عامہ کی بیداری کی تحریک مشرقی پاکستان میں بھی شروع کررکھی تھی میرصاحب اس سلسلے کو تیز کرنے کے لیے نواب خیر بخش مری کو ساتھ لیکر ڈھاکہ روانہ ہوئے۔ ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں نیپ نے بڑے بڑے حکومت مخالف جلسے کیے۔ ڈھاکہ سے واپسی پر کراچی ایئر پورٹ سے میرصاحب کو گرفتار کرلیا گیا اور ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن) کے تحت دو سال کی سزا سنا کر پہلے مچھ جیل اور پھر حیدرآباد جیل بھیج دیا جہاں نواب نوروز خان کے چھ ساتھیوں کو پھانسی ہوئی تھی اور وہ خود عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ 1964ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں میرصاحب متحدہ حزب اختلاف (COP) کی طرف سے اُمیدوار تھے لیکن ایوبی حکومت کھلی جارحیت اور قبل از ووٹنگ دھاندلی پر اُتر آئی میر صاحب کے تربت میں قیام پر پابندی لگا دی ، بی ڈی ممبرز کو رشوتیں دی گئیں خضدار ، مستونگ اور دیگر جگہوں پر پولنگ ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا گیا اس طرح میرغوث بخش بزنجو کو ایک غیر معروف شخص کے ہاتھوں الیکشن ہرادیا گیا۔
12جنوری 1965ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے خلاف متفقہ صدارتی اُمیدوار نامزد کیا تو میرغوث بخش بزنجو کو بلوچستان میں انتخابی مہم کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ میرصاحب کو انتخابات سے چند روز پہلے گرفتار کرلیا گیا ۔ جنرل ایوب نے دھاندلی سے الیکشن جیتنے کے بعد میرصاحب کو رہائی دی۔ قومی اسمبلی کی ایک نسشت محمود ہارون کی مرکزی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد خالی ہوگئی یہ نسشت کراچی اور لسبیلہ (بلوچستان ) پرمشتمل تھی اس میں 600 بی ڈی ممبر ووٹرز تھے میرصاحب کے مقابلے میں کنونشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جنرل ایوب کا حمایت یافتہ اُمیدوار خان بہادر حبیب اللہ پراچہ تھا جس کے مقابلے میں میرصاحب نے یہ الیکشن لڑا خان بہادر پراچہ سے میرغوث بخش بزنجو یہ الیکشن جیت گئے ۔
جون 1966ء کوئٹہ میں پولیس نے میرصاحب کے ہوٹل پر چھاپہ مار کر انہیں اِس جرم میں گرفتار کرلیا کہ ان کی جیب سے جو نوٹ برآمد ہوئے ان میں سے ایک نوٹ پر ون یونٹ کے خلاف نعرہ لکھا ہوا ہے ان کی گرفتاری کے 15روز بعد جیل کے اندر ہی ان کے خلاف مقدمہ شروع ہوا اور چند سماعتوں کے بعد میرغوث بزنجو کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی اور انہیں منٹگمری (ساہیوال) جیل میں بند کردیا گیا ۔ جنرل ا یوب ،میرصاحب سے حبیب اللہ پراچہ کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے کھلی بددیانتی پر اُتر آئے تھے ۔منٹگمری جیل میں میرصاحب کو جس جگہ رکھا گیا وہ جگہ ایک حقیقی عقوبت تھا حالانکہ میرصاحب اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کے منتخب رُکن تھے۔ کچھ عرصے بعد اچانک انہیں منٹگمری سے سرگودھا جیل منتقل کردیا گیا وہاں بھی انہیں قید تنہائی بھگتنی پڑی ۔ میرصاحب اپنی سوائح عمری میں لکھتے ہیں کہ ایک دِن سرگودھا کے کمشنر جیل میں آئے اور اُنہوں نے مجھے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی اس طرح بڑے عرصے بعد میں نے جیل میں اچھا کھانا کھایا وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں جس عالم میں تھا اس عالم میں گھر کے بنے کھانے کی اہمیت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اندرونی اختلافات کیوجہ سے نیشنل عوامی پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ایک دھڑے کے صدر مولانا بھاشانی تھے جبکہ دوسرے دھڑے کے صدر کے انتخاب سے متعلق مشورے کے لیے میاں محمود علی قصوری اور محمود الحق عثمانی نے سرگودھا جیل میں میر صاحب سے ملاقات کی میرصاحب کے مشورے پر پارٹی قیادت نیپ کی صدارت کے لیے خان عبدالولی خان کے نام پر متفق ہوگئی اس طرح نیپ (بھاشانی ) اور نیپ (ولی خان ) کا وجود عمل میں آیا۔ ان دِنوں ذوالفقار علی بھٹو بھی ایوب خان کے عتاب کا شکار ہو کر میانوالی جیل پہنچ چکے تھے۔ اکتوبر1968ء میں لاہور ہائی کورٹ نے میرغوث بخش بزنجو کی رہائی کا حکم جاری کیا یہ وہ دِن تھے جب ایوب مخالف تحریک زوروں پر تھی ۔ جنرل ایوب نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے گول میز کانفرنس بلانے کے لیے اپوزیشن رہنمائوں سے اپنے رابطے تیز کردیئے جیل سے رہائی کے بعد میرصاحب ڈھاکہ روانہ ہوگئے جہاں نیپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایوبی آمریت کے خلاف تحریک اور دیگر سیاسی معاملات پر بات چیت ہوئی اِن دِنوں ولی خان اور شیخ مجیب الرحمان جیل میں تھے اور نیپ نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک ان دونوں قائدین کو رہا نہ کیا گیا ، نیشنل عوامی پارٹی گول میز کانفرنس میں شرکت نہ کرے گی، جنرل ایوب نے مجبوراً اِن دونوں رہنمائوں کو رہا بھی کیا اس کے باوجود ون یونٹ کے مسئلے پر گول میز کانفرنس ناکام ہوئی۔
آمرایوب اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب نہ ہوسکا ۔25مارچ1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔
یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970ء میں ون یونٹ توڑ کر ایک آدمی ایک ووٹ کی بنیادپر عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 7دسمبر1970ء کو پورے ملک میں عام انتخابات ہوئے فوجی ٹولے کی خواہشات کے برعکس مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے دو نشستوں کے علاوہ تمام یعنی 162قومی اسمبلی کی نشستیں جیت کر 300ارکان کی دستور ساز اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرلی، مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی زیادہ سیٹیں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے حاصل کیں سندھ اور پنجاب میں پیپلزپارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ بلوچستان اورسرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اِسلام کو واضح برتری حاصل تھی۔ یحییٰ خان نے 3مارچ کو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا جبکہ بھٹو نے ایک جلسہ عام میں یہ دھمکی دی کہ جو بھی ڈھاکہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اس کے جواب میں میر صاحب نے اخباری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نیپ کے ارکان اسمبلی ڈھاکہ کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے۔ لیکن اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کرنے کے راستے تیزی سے بند ہوتے گئے ، مشرقی پاکستان میں لوگ سراپا احتجاج تھے۔ ساتھیوں کے مشورے پر میرصاحب اور ولی خان اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے ڈھاکہ چلے گئے ۔ 14مارچ 1971کو میر صاحب اور خان عبدالولی خان مجیب الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں یک طرفہ اعلان آزادی نہ کرنے کا مشورہ دیا جس کے جواب میں شیخ مجیب الرحمان جذباتی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان بن رہا تھا تو آپ کانگریس سے منسلک تھے اور میں ایک پکا مسلم لیگی جس نے قیام پاکستان کے لیے قربانیاں دیں مطلب صاف ظاہر ہے کہ مجیب الرحمان اعلان آزادی کرنے والا نہیں تھا۔ نیپ کے وفد کی درخواست پر مجیب الرحمان نے یحییٰ خان سے مذاکرات بھی کیے ۔ حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔ مجیب الرحمان نے میرصاحب اور ولی خان کو 24مارچ کی ملاقات میں بتایا کہ آپ دونوں ڈھاکہ سے چلے جائیںکیونکہ فوجی آپریشن کا فیصلہ ہوچکا ہے پھر فوجی آپریشن ہوا اور یوں ملک ٹوٹ گیا۔ بچے کچے ملک پر 20دسمبر1971ء کو بھٹو سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے،بے شمار نظریاتی اختلافات کے باوجود عبوری آئین کے سمجھوتے پر دستخط ہوئے، اس سمجھوتے میں دیگر باتوں کے علاوہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کی حکومتوں کے قیام کا حق بھی شامل تھا، 28اپریل 1972ء کومیرغوث بخش بزنجو نے بلوچستان کے گورنر کا حلف اُٹھایا۔ یکم مئی 1972ء بلوچستان میں عوام کے ووٹوں سے منتخب کردہ پہلی حکومت قائم ہوئی ۔ اِس تاریخی دِن کو مزدوروں کے عالمی دِن یکم مئی کے ساتھ منسوب کرکے خوب جشن منایا گیا ۔ بھٹو نے شاہ ایران کی ہمشیرہ اشرف پہلوی کو کوئٹہ کے دورے کی دعوت دے کر نیپ کی حکومت کو ابتداء سے ہی مشکلات میں ڈال دیا کیونکہ بلوچستان کے لوگ ایران کے بلوچوں پر شاہ کے مظالم سے ناخوش تھے۔ ایرانی شہزادی کے استقبال کے لیے پیپلز پارٹی کے تینوں صوبوں سے کارکنوں کے جھتے کوئٹہ پہنچ چکے تھے صوبہ سرحد سے خان قیوم خان کے 40مسلح غنڈوں کی کوئٹہ شہر میں ہوائی فائرنگ سے ایک رکشہ ڈرائیور محسن کانسی ہلاک اور کئی دیگر لوگ زخمی ہوئے۔ گورنر ہائوس میں شہزادی کے اعزاز میں عشائیے کے دوران لوگوں کا ایک ہجوم محسن کانسی کی لاش لیکر گورنرہائوس کے دروازے پر جمع ہوگیا ۔ گورنر بلوچستان میرغوث بزنجو نے مشتعل ہجوم سے کامیاب مذاکرات کے بعد وہاں کھڑے کھڑے آئی جی بلوچستان کو معطل کیا اور مرکزی وزیرداخلہ خان قیوم خان کو حکم دیا کہ وہ اپنے 40مسلح غنڈے ایک گھنٹے کے اندر اندر کوئٹہ پولیس کے حوالے کردیں ورنہ انہیں یعنی مرکزی وزیرداخلہ کو ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیج دیا جائے گا اور اس طرح مجبوراً قیوم خان کو اپنے 40مسلح غنڈے پولیس کی حراست میں دینے پڑے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل اور گورنر میرغوث بخش بزنجو کی حکومت نے کئی عوام دوست اقدامات کیے نواب خیربخش مری میرصاحب کے گورنر بن جانے کے بعد نیپ بلوچستان کے صدر منتخب ہوئے انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف قرارداد پیش کی جس کی تائید سردار عطاء اللہ مینگل نے کی جو اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئی سرداری نظام کا معاملہ برطانوی دور سے مرکزی حکومت کے اختیارات کے تحت رہا ہے اس لیے اس قرارداد کو جلد منظوری کے لیے پرزور سفارش کے ساتھ مرکزی حکومت کو پیش کر دیا گیا تاہم وفاقی حکومت نے اِسے سردخانے میں ڈال دیااور یہ قرارداد کبھی منظور نہ کی جاسکی۔ بھٹو کو نیپ اور جے یو آئی کی حکومتیں جلدازجلد ختم کرنے کی جلدی تھی انہوں نے متعدد عوام دُشمن اقدامات کیے بلوچستان حکومت کو غیرمقبول بنانے کے لیے سرکاری سرپرستی میں امن و امان کے مسائل پیدا کیے اور جنوری 1973ء کو عراقی سفارت خانے سے روسی ہتھیار پکڑے جانے کا ڈرامہ بنا کر حکومت بلوچستان کے خلاف اقدامات کیے گئے۔
15فروری 1973ء میرغوث بخش بزنجو کو گورنربلوچستان کی حیثیت سے صدر بھٹو نے برطرف کردیا ۔ میرصاحب جب برطرف گورنر کی حیثیت سے اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر پوری صوبائی کابینہ موجود تھی جہاں سے وہ ایک بڑے جلوس کے ہمراہ جناح روڈ پہنچے جہاں پہلے سے ہی ایک بڑے احتجاجی جلسہ عام کا اہتمام تھا وہاں پر میرصاحب نے لوگوں کو مشتعل نہ ہونے کی نصیحت کی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جب اس بڑے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے اس وقت بلوچستان حکومت کی برطرفی اور نواب اکبر خان بگٹی کے گورنر بلوچستان تعیناتی کی اطلاع آئی اس طرح بلوچستان میں واضح اور دو ٹوک اکثریت رکھنے والی حکومت کو 9 ماہ کے مختصر عرصے میں غیرجمہوری طریقے سے برطرف کردیا گیا جب لوگوں نے اپنی حکومت کی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا تو حکمرانوں نے اسے ریاست کے خلاف بغاوت کا نام دیا۔ صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی قیادت میں قائم نیپ اور جے یو آئی کی حکومت بلوچستان میں غیر جمہوری اقدام کے خلاف بطور احتجاج مستعفی ہوگئی۔
بلوچستان میں جام غلام قادر کی سربراہی میں ایک جعلی حکومت بنا دی گئی ، حالانکہ 1970ء کے انتخابات میں بلوچستان سے پیپلزپارٹی کا ایک ممبر بھی نہیں جیتا تھا پھر 5جولائی 1977ء تک بھٹو حکومت نے بلوچستان میں عوام پر مظالم کے وہ پہاڑ توڑے جو علیحدہ ایک تاریخ ہے۔ اِن مظالم کے باوجود نیشنل عوامی پارٹی نے آئین بنانے کے سلسلے میں پیپلزپارٹی سے تعاون جاری رکھا دُنیا کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ موقع پرست اور بے اُصول سیاست دان شاید ہی کوئی اور ہوا ہو۔ نئے پاکستان کا آئین 14اگست 1973ء کو متفقہ طور پر پاس ہوا اور اس کے فوراً بعد ہی بھٹو نے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو ایمرجنسی کے تحت معطل کردیا اور آئین کی منظوری کے اگلے دِن یعنی 15اگست 1973ء میرغوث بخش بزنجو کو ایم این اے ہاسٹل اِسلام آباد سے گرفتار کرلیا غالباً اِسی دِن کوئٹہ سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری کو بھی گرفتار کیا گیا یعنی بھٹو کی آئینی حکومت کا پہلا ہی دِن آمروں سے زیادہ آمرانہ تھا۔
میرصاحب اور ان کے ساتھی عرصے سے جیلوں میں تھے ایک دفعہ بھٹو نے بی ایم کٹی ( جو کہ نیپ کے رہنما اور گورنری کے زمانے میں میرصاحب کے سیکریٹری تھے) کو میانوالی جیل میں میرصاحب کے پاس خیرسگالی کے طور پر بھیجا ۔میرصاحب نے بی ایم کٹی کے ذریعے بھٹو کو یہ پیغام بھجوایا کہ ہم سے خیرسگالی کی بات کرنے سے پہلے امریکن سامراج سے چھٹکارے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ 8فروری سرحد میں پیپلزپارٹی کے رہنما حیات محمد خان شیرپائو پشاور میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے اس کا الزام حکومت نے ولی خان کی فیملی پر لگایا اور اسکی پاداشت نیشنل عوامی پارٹی(NAP) پر پابندی لگا دی اور نیپ کے لیڈروں کو پابند سلاسل کردیا گیا۔ نیپ کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لیڈر پہلے ہی جیلوں میں تھے ان کے خلاف بدنام زمانہ حیدرآباد سازش کیس چلایا گیا۔ نومبر1976ء بھٹو صاحب حیدرآباد آئے اور انہوں نے بی ایم کٹی کے ذریعے میرصاحب سے سرکٹ ہائوس حیدرآباد میں خفیہ ملاقات کی درخواست کی جسے ایک بار پھر میرصاحب نے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگربھٹو قیدیوں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو وہ خود جیل تشریف لائیں اور اگر وہ جیل نہیں آسکتے ہیں تو حیدرآباد ٹریبونل کو ختم کریں ہمارے ساتھیوں کو رہا کریں تو پھر ہم ہرجگہ بات کرنے کو تیار ہیں
آخرکار بھٹو نے 7 اور 10مارچ کو ملک میں عام انتخابات کا اعلان کردیا پیپلزپارٹی کے مقابلے میں 9 سیاسی جماعتوں کے اتحاد (پاکستان قومی اتحاد) نے مقابلے کا اعلان کیا ان انتخابات میں پیپلزپارٹی نے 200میں سے 155سیٹیں حاصل کیں جبکہ قومی اتحاد کو 36نشستیں ملیں۔ قومی اتحاد نے الیکشن میں دھاندلی کے نام پر ملک میں تحریک شروع کی جس کیوجہ سے حالات بھٹو حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے۔
اس پریشان کن صورت حال میں بھٹو نے ایک دفعہ پھر بی ایم کٹی کو جیل میں میرصاحب سے ملاقات کے لیے بھیجا اور مشورہ طلب کیا کہ قومی اتحاد کی تحریک پر حکومت کو کیا کرنا چاہیئے۔ میرغوث بخش بزنجو کا مشورہ تھا کہ بھٹو صاحب اگر آپ نے قومی اتحادکے ساتھ سیاسی مذاکرات نہ کیے تو وزیراعظم ہائوس پر آپکے تحفظ کے لیے تنی ہوئی بندوقیں اپنا رُخ آپ کی طرف کرلیں گی وقت آپ کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ بھٹو اپنی متکبرانہ شخصیت اور اپنے نالائق ترین مشیروں کی وجہ سے ٹھیک وقت پر فیصلہ نہ کرسکے اس طرح وہ 5جولائی 1977ء کو اپنے چیلے جنرل ضیاء کے ہاتھوں اپنا اقتدار گنوا بیٹھے اور پھر 4اپریل 1979ء زندگی سے بھی محروم کردیئے گئے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے لیڈر کی جان بچانے کے لیے کچھ نہ کرسکی البتہ کارکنوں نے بے شمار اور ناقابل فراموش قربانیاں دی تھیں۔
جنرل ضیاء نے جیل میں قید نیپ کے رہنمائوں کو ضمانت پر رہائی کی پیشکش کی جسے ولی خان اور سرحد کے دوسرے لیڈروں نے قبول کرلیا اور وہ دسمبر1977ء کو رہا کردیئے گئے لیکن میرغوث بخش بزنجو اور دوسرے بلوچ رہنمائوں کا مطالبہ تھا حیدرآباد ٹریبونل کو ختم کرکے مقدمات واپس لیے جائیں اور انہیں غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے اور آخر کار حکومت کوٹریبونل توڑ کر میر صاحب اور اِن کے ساتھیوں کو غیرمشروط طور پر رہا کرنا پڑا ۔میرصاحب کچھ عرصہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی(NDP) میں بھی شامل رہے ۔وہ افغان انقلاب کے سخت حمایتی تھے لیکن این ڈی پی کی لیڈرشپ افغان انقلاب کی مخالف تھی اور فوجی حکومت کی حمایت بھی کرتھی تھی جبکہ سردار شیرباز مزاری کا رویہ بھی غیر جمہوری تھا جسکی وجہ سے این ڈی پی تقسیم ہوئی اور میرغوث بخش بزنجو کی قیادت میں پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) کے نام سے نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا فوجی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتحاد تحریک بحالی جمہوریت (MRD) میںپی این پی نے شمولیت اختیار کی اور 1982ء سے ضیاء آمریت کے خاتمے تک میرصاحب اس جمہوری جدوجہد کے میرکارواں رہے۔ میرصاحب نے پی این پی کو منظم کرنے کے لیے سرحد (خیرپختونخوا)کا دورہ کیا پشاور ، چارسدہ، صوابی ، مالاکنڈ ، ہشت نگر، لنڈی کوتل اور ہری پور میں پرہجوم عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ ہری پورمیں ایوب خان کے صاحبزادے اختر ایوب نے اپنے گھر کے وسیع لان پر میرصاحب کے اعزاز میں بڑا جلسہ عام منعقد کیا اور میرصاحب کی سیاسی جدوجہد کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ اختر ایوب نے کہا میرے والد نے میرصاحب کو قلی کیمپ میں بطور قیدی بھیجا تھا اور میں آج اس گھر میں میرصاحب کو قابل احترام مہمان کی حیثیت سے خوش آمدید کہتا ہوں اور اپنی خاندانی پگڑی میرصاحب کے سر پر سجانے کا اعزاز حاصل کرتا ہوں۔
میرغوث بخش بزنجو محض سیاست دان ہی نہ تھے وہ ایک بلند پایہ سیاسی مدبر بھی تھے وہ اپنے سیاسی تجزیہ کی بنیاد پر مستقبل میں پیش آنے والی صورت حال کی درست پیشن گوئی کرتے تھے 1980ء کی دہائی میں جب جنرل ضیاء کی حکومت نے پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں ملوث کردیا تو یہ میرصاحب ہی تھے جنہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا ۔ یاد رکھو جن بندوقوں کا رُخ آج تم نے کابل کی طرف کیا ہوا ہے کل اسلام آباد ان کی زد میں ہوگا، وہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں پناہ کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور اب یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے ، وہ حق بات کسی بھی جگہ کہنے کے لیے تیار رہتے تھے جام ساقی کے خلاف فوجی عدالت میں چلنے والے مقدمے میں جب انہیں گواہ کے طور پر بلایا گیا تو میرصاحب نے فوجی عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈکراتے ہوئے کہا میں جام ساقی کو 1968ء سے جانتا ہوں میں نے اُسے کبھی تخریب کاری یا ملک دشمن سرگرمیوں میں شریک ہوتے نہیں دیکھا انہوں نے کہا سیاست دانوں پر ملک دشمنی اور غداری کے الزامات لگانا افسوس ناک ہے، فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے ذمہ دار وہ مہم جُو جرنیل ہیں جو ذاتی اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے فوج کو عوام کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں نظریہ پاکستان کے بارے میںبیان دیتے ہوئے میرصاحب نے کہا نظریات انسانوں کے ہوتے ہیں ملکوں کے نہیں۔ میرصاحب سیاسی اُصولوں کی اس حد تک پاس داری کرتے تھے کہ جب1988ء کے انتخابات میں انہیں قومی اسمبلی کے دو حلقوں تربت اورخضدار سے شکست ہوئی تو اس پر انتخابی غداریاں دائر کرنے اور دھاندلی کے الزامات لگانے کے بجائے میرصاحب نے اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے کہا جن نوجوانوں نے میری مخالفت کی ہے ، بنیادی طور پر وہی نوجوان میری سیاست کے وارث ہیں ، میرصاحب آخر دم تک افغان انقلاب کے حامی رہے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ اسی وجہ سے میرصاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔
جولائی 1989ء کو یہ خبر ملک بھر میں عام ہوگئی کہ میرغوث بزنجو کو کینسر کا مرض لاحق ہوگیا ہے میرصاحب علاج کے لیے لندن بھی گئے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دیا وہ واپس پاکستان آگئے ۔ کراچی کے ایک ہسپتال میں زندگی کے آخری دِنوں میں انہوں نے پارٹی کارکنوں، پارٹی رہنمائو، دیگر جماعتوں کے رہنمائوں اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں خوب بات چیت اور نصیحتیں کیں اپنے انتقال سے دو دِن قبل 9اگست 1989ء مڈ ایسٹ ہسپتال کراچی میں پارٹی کے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرغوث بخش بزنجو نے وصیت کرتے ہوئے کہا۔ میرا جنازہ ہوائوں کے دوش پر نہ لے جانا میری ساری زندگی پابرہنہ، سربرہنہ لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے گزری ہے۔ میری میت بھی ان ہی راستوں سے گزرنی چاہئے جن پر میرے لوگ چلتے ہیں۔ وہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہی سہیں ان میں گڑھے اور کٹائو بھی ہیں مگر وہ میری دھرتی پر غاصب حکمرانوں کی بے انصافیوں کے لگائے زخم ہیں جب ان پر بیمار جھٹکے سہتے ہوئے کراہتے ہیں ، درد سے نیم جان عورتیں ان سڑکوں پر سفر کرسکتی ہیں تو میرے بے جان بدن کا اس سفر کی مشقت سے کیا بگڑے گا۔ میرا آخری سفر اپنے ناداروں کے ہجوم ان کے پسینے کی خوشبو ان کی محبتوں اور بے قراریوں سے محروم کیوں رہے۔ میری میت سب سے پہلے مستی ہائوس لے جائی جائے اور وہاں سے نال (آبائی گائوں)۔
11اگست 1989ء صبح کے وقت میرصاحب نے زندگی کا آخری سانس لیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی میرصاحب کی نازک حالت کی خبر سن کر ہسپتال پہنچ چکے تھے میرصاحب کے انتقال کے بعد وہ آئی سی یو سے باہر آئے اور یہ تعزیتی کلمات ادا کیے۔دوستو وہ شخص جو بے شمار لوگوں کی تقلید کا ذریعہ تھا وہ ایسا برگد کا درخت تھا جس کے سائے تلے ہم سب لوگ بیٹھ کر سیاست کی اے بی سی سیکھا کرتے تھے وہ آج ہم سے جدا ہوگیا۔
بابائے اُستمان(میرغوث بخش بزنجو) کو 12اگست 1989ء کو انکے آبائی گائوں میںان کی عظیم الشان لائبری کے قریب دفن کیا گیا میرصاحب کو دُنیا سے گئے 28برس ہوچکے ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے 72برسوں میں 25سال قید و بند کی صعوبتوں میں گزارے لیکن اپنے اُصولوں پر سودے بازی نہیں کی اپنے عوام سے بے وفائی نہیں کی۔
بیرسٹر اعتزاز احسن میرصاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ میرغوث بخش بزنجو روشن فکر، عوامی سیاست ،پسماندہ ، مقہور و مظلوم طبقات اور اقوام کی جدوجہد کے اِنتہائی قابل احترام رہنما تھے۔ ممتاز دانشور راحت ملک کہتے ہیں تاریخ اور سماج کی حرکت و تغیر کا سائینٹفک علم، عصری، سیاسی، معاشی ، تقاضوں، نظریات اور معروضی حقائق ، مستقبل کے ممکنات کے مابین مربوط و مضبوط رشتہ قائم کرنے میں بنیادی رہنمائی کرتا ہے ، جسے عصری آگہی، بالیدگی اور سیاسی بصیرت کہتے ہیں، بابابزنجو کی بصیرت افروز مدبرانہ شخصیت اور عملی سیاست اس کی روشن مثال تھی۔ ممتاز مارکسی دانشور اور سیاسی رہنما مختار باچا میرصاحب کے بارے میں کہتے ہیں۔ قومی افتخار و وقار کی سربلندی اور قومی بقاء کے لیے دُنیا بھر میں جاری جدوجہد نیز پاکستان میں جمہوریت کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے لیے میرغوث بخش بزنجو کی شخصیت، اُفکار اور جدوجہد مشعل راہ ہے ، میربزنجو برصغیرکے ممتاز اور منفرد سیاسی مدبر تھے۔ یوسف مستی خان، جنہیں میرصاحب کا ابوحریرہ بھی کہا جاتا ہے نے جیل میں اسیری کے دوران میرصاحب سے متعلق مجھے بہت سی باتیں بتائیں، مستی خان کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں میرصاحب سے بڑا سیاست دان اور عظیم الشان انسان نہیں دیکھا۔ سردار عطاء اللہ مینگل کہتے تھے۔ میں تو سیاست کے بغیر زندہ رہ سکتا ہوں لیکن غوثی سیاست کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
عزیز بگٹی کہتے ہیں ، چاہے نواب بگٹی ہوں یا نواب مری، سردار مینگل ہوں یا امان گچکی وہ چاہے جس کشتی کے سوار بنے ہوں لیکن ان پر میرغوث بخش بزنجو کی چھاپ کسی نہ کسی حوالے سے ضرور نظر آئے گی۔
گنگو فسکی کے مطابق وہ لوگ جنہیں میرغوث بخش بزنجو سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ اس غیرمعمولی شخصیت کو یاد کرتے رہیں گے، جو فراخ دِل، شریف النفس، بااُصول اور انسانیت دوست تھے۔
نوٹ:۔ اس مضمون کی تیاری میں، میرصاحب کی سوانح عمری(مقصدحیات) بی ایم کٹی کی سوانح عمری ( خود اختیار کردہ جلاوطنی) اور ڈاکٹر شاہ محمد مری کی کتاب عشاق کے قافلے (8)سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!