غلط فہمی میں ٹوٹا بھروسہ

Spread the love

تحریر:ارم ممتاز

کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک چھوٹے سے محلے میں رومانہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ رہتی تھی۔رومانہ کے والد مسجد کے امام تھے۔بھائی کمپنی میں کام کرتا تھا۔اور رومانہ خود محلے کے ایک اسکول میں پڑھاتی تھی۔رومانہ کی والدہ کا انتقال رومانہ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔سارا محلہ اس گھرانے کی عزت کرتا۔۔گھر کے پاس ہی رومانہ کے چچا کا گھر تھاجس میں اس کے چچا چچی اور ان کا بیٹا ساحل بیٹی نوشین رہتی تھی۔
ساحل شروع سے ہی رومانہ کو پسند کرتا تھااور رومانہ کے لئے رشتہ بھی بھجوایا تھامگر رومانہ کے والد نے رشتے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ ساحل بری صحبت کا عادی تھا ساحل کی ان بری صحبت کی وجہ سے اس کے گھر والوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔دوسری طرف رومانہ اور اس کے گھر والے اپنی زندگی خوشی خوشی بسر کر رہے تھے۔ساحل کو رومانہ کے والد کا کیا گیا انکار بلکل برداشت نہ تھا مگر وہ کچھ نہ کر سکتا تھا۔۔وہ رومانہ سے ہر ممکن کوشش کرتا کے وہ بات کرے مگر اس کی کوشش ناکام ہوتی۔ان کی عزت اور والد کا انکار نے ساحل کے اندر انتقام لینے کی آگ پیدا کر دی کیونکہ ساحل کو ہار برداشت نہ تھی۔تب جا کر اس نے منصوبہ بنایا کے محلے میں بنی ان کی عزت کو ختم کر دے گا۔رومانہ اور اس کے گھر والوں کے درمیان ایسے حالات اور غلط فہمیاں پیدا کرے گا جس سے ان کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔
ساحل اچھے سے جانتا تھا کے رومانہ اس سے بات نہیں کرتی مگر پھر بھی دوسرےنمبر سے رومانہ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر کوشش ناکام رہی کیونکہ رومانہ ایک خدار باپ کی خدار بیٹی تھی۔اپنی تمام کوششوں کو ناکام دیکھتے ساحل کو بہت غصہ آرہا تھا۔اپنے دوست کے ساتھ مل کر اس نے ایک اور منصوبہ بنایا۔گھر پہنچ کر اس نے اپنی بہن سے کہا۔کافی دن ہو گئے ہیں تم رومانہ سے نہیں ملی۔بھائی کی بات سننے کے بعد کہتی ہے۔ہاں بھائی کافی دن ہو گئے ہیں ہم نہیں ملے ایک کام کرتی ہو کل اسے گھر پر دعوت پر بلاتی ہوں۔
اگلے دن رومانہ شام کو نوشین کے بلانےپر وہ اس کے گھر جاتی ہے گھر پہنچ کر اپنے چچا چچی اور نوشن سے ملتی ہے۔ساحل کے نظر نہ انے پر رومانہ کو معلوم ہوتا ہے کے وہ اپنے دوست کے ساتھ باہر گیا ہے۔یہ سننے کے بعد مطمئین ہو جاتی ہے۔اور نوشن کے ساتھ کمرے میں چلی جاتی ہے۔تھوڑی دیر میں ساحل گھر کے پیچھلے دروازے سے آتا ہے۔اس کے انے سے سارا گھر بےخبر ہوتا ہے۔کیونکہ یہ سب ساحل کے منصوبے کا حصہ ہوتا ہے۔رومانہ اور نوشین کافی دیر تک باتیں کرتے ہیں۔پھر نوشین چائے بنانے جاتی ہے۔ساحل اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چپکے سے رومانہ کی تصاویر اور ویڈو بنا لیتا ہے۔رات ہونے والی ہوتی ہے۔رومانہ اپنےگھر چلی جاتی ہے۔دوسری طرف ساحل ان تصاویر اور ویڈو میں ایڈیٹنگ کر کے رومانہ کے نام سے فیک آئی ڈی بنا کر سب وائرل کر دیتا ہے۔جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر رومانہ کے چرچے ہونے لگتے ہیں۔رومانہ اور اس کے گھر والے بےخبر ہوتے ہیں۔روز کے معمول کی طرح سب اپنے کام پر جاتے ہیں۔یہ بات محلے میں بھی پھیل جاتی ہے۔رومانہ کے چچا گھر اتے ہیں۔اور اس بات کا زکر وہ رومانہ کے والد سے کرتے ہیں۔یہ بات سن کر رومانہ کے والد دنگ رہ جاتے ہیں۔مگر یقین نہیں کرتے۔کیونکہ انھیں اپنی بیٹی پر اعتماد ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر پھیلی بات جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔
رومانہ کی تصاویر اس کے بھائی تک پہنچتی ہے۔وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔اور گھرجاتا ہے۔اپنے والد سے بات بھی کرتا ہے۔تصاویر بھی دکھاتا ہے۔یہ سب دیکھ کر رومانہ کے والد کو گہرا صدمہ پہنچتا ہے۔رومانہ اسکول سے واپسی پر محلے کے لوگوں کا عجیب روایہ دیکھتی ہے۔وہ جلدی اپنے گھر کی طرف بڑھتی ہے۔گھر پہنچنے پر اسے گھر کا ماحول عجیب سا نظر اتا ہے۔رومانہ ان باتوں سے ابھی تک بےخبر ہوتی ہے۔وہ اپنے والد سے بات کرتی ہے۔مگر والد چپ رہتے ہیں۔اتنے میں رومانہ کا بھائی اس پر برس پڑتا ہے۔اور وہ تصاویر رومانہ کو دیکھاتا ہے۔رومانہ سب دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔اتنے میں اس کے والد یہ کہتے ہیں آج تم نے میری عزت مان سب مٹی میں ملا دیا۔میرے برسوں کی بنائی عزت ایک جھٹکے میں ختم ہو گئی۔تم نے میرا بھروسہ توڑ ریا۔یہ سن کر رومانہ رو کر کہتی ہے بابا اپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے مجھے نہیں پتا یہ سب کس نے کیا ہے میری کوئی غلطی نہیں ہے۔سارا محلہ جمع ہو جاتا ہے۔
آپس میں بات کر کے رومانہ کے بارے میں بہت برا بھلا کہتے ہیں۔رومانہ اور اس کے گھر میں ماتم سا چھا جاتا ہے۔رات گزرنے کے بعد والد اور بھائی گھر سے باہر جاتے ہیں۔تو انہیں طرح طرح کی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کل تک جو لوگ عزت سے بات کرتے تھے آج وہ لوگ تو کر کے بات کرنے لگے۔یہ سب دیکھ کر ساحل بہت خوش تھا۔کیونکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا تھا۔محلے میں ان کا رہنا دوبھر ہو گیا تھا وہ یہ سب دیکھ کر یہاں سے دور کسی محلے میں رہنے کا بندوبست کرتے ہیں۔مگر ایسی باتیں کہا چھپتی ہیں۔اس محلے میں بھی یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھلتی ہے۔یہاں بھی لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کرنی شروع کر دی۔رومانہ اور اس کے گھر والے لا علم تھے کے اس سب کے پیچھے ساحل کا ہاتھ ہے۔لوگوں کی باتیں سن کر رومانہ کا بھائی رومانہ پر پھر سے برس پڑتا ہے۔اس کی وجہ سے بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔وہ غصے میں بولتا ہے جب تک رومانہ گھر رہے گی ایسا ہوتا رہے گا۔رومانہ یہاں سے چلی جاو۔
رومانہ رو رو کر کہتی ہےبھائی میں بےقصور ہوں۔مجھے گھر سے نہ نکالے میں کہا جاوں گی۔وہ اپنے والد کے پاوں پکڑتی ہے۔مگر اتنی شرمندگی کے باعث وہ ایک نہیں سنتے اور رومانہ کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔یہ سب دیکھ رومانہ چپ سی ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس بےگناہی ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔وہ کئی گھنٹے گھر کے دروازے کے باہر گزار دیتی ہے۔اس آس میں کے غصہ ختم ہونے کے بعد اس کے والد بھائی اس کو گھر بلا لے گے۔مگر دروازہ نہیں کھلتا بار بار دستک دینے پر بھی۔ٹوٹی ہوئی رومانہ چل دیتی ہے وہ نہیں جانتی وہ کہا جاے گی۔جسے دنیا جہاں کی کوئی خبر نہیں رہتی مانو اس کی کل کائنات ختم ہو گئی ہو۔
چلتے چلتے رومانہ ایک گاڑی سے ٹکراتی ہے اور گر کر بےہوش ہو جاتی ہے۔گاڑی سے ایک لڑکی اور اس کی ماں اترتے ہیں۔وہ لڑکی اور کوئی نہیں اس کی دوست دعا ہوتی ہے۔وہ رومانہ کو پہچان لیتی ہے۔اور رومانہ کو ہسپتال لے جاتی ہے۔رومانہ کی حالت کافی خراب ہوتی ہے۔ایک دن تک رومانہ کو ہوش نہیں آتا۔دعا اور اس کی ماں بہت پریشان ہوتے ہیں۔دعا رومانہ کے گھر والوں کو بھی اطلاع نہیں دے سکتی تھی کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کے رومانہ کہاں رہتی تھی۔اللہ کے کرم سے ایک دن بعد رومانہ کو ہوش آتا ہے۔دعا بہت خوش ہوتی ہے۔وہ رومانہ سے بات کرتی ہےاور گھر لے جانے کا بولتی ہے۔اس بات پر رومانہ زاروقطار روتی ہے۔یہ سب دیکھ کر دعا بہت پریشان ہو جاتی ہے۔اور اس سے رونے کی وجہ پوچھتی ہے۔رومانہ اپنے ساتھ ہوا سارا حادثہ دعا کو بتاتی ہے۔دعا اور اس کی ماں کو بہت افسوس ہوتا ہے۔یہ سننے کے بعد وہ رومانہ کو اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں۔رومانہ کا بہت خیال رکھتے ہیں۔کچھ دن گزرنے کے بعد رومانہ گھر سے جانے کا فیصلہ کرتی ہے کہ آخر کب تک وہ ان پر بوجھ بنی رہی گی۔
دعا اور اس کی ماں روک لیتے ہیں۔اسے سہارا دیتے ہیں کے رومانہ ان کے ساتھ ہی رہے گی ان کی بیٹی بہن بن کر۔دعا رومانہ سے کہتی ہے ک تم میرے اسکول میں جاب کرو تمہارا دل بھی بہلا رے گا نہیں تو اکیلے بیٹھے تمہاری پرانی یادیں تازہ رہے گی تم دوبارہ بیمار پڑ جاو گی۔رومانہ مان جاتی ہے۔دعا اپنے پرنسپل سے بات کر کے رومانہ کو نوکری دلواتی ہے۔
(کچھ مہینے گزرنے کے بعد)
رومانہ بہت ٹوٹ چکی ہوتی ہے۔اس کی مسکان ناجانے کہا کھو جاتی ہے۔دوسری طرف ساحل جس نے رومانہ کی زندگی برباد کر دی تھی وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہوتا ہے۔ساحل کی شادی ہو چکی ہوتی ہے۔وہ اپنی زندگی پرسکون طریقے سے بسر کر رہا ہوتا ہے۔اتنے میں دعا رومانہ کو بتاتی ہے کے اس کے بھائ کی شادی نوشین سے ہو رہی ہے۔رومانہ روتی یے مگر بےبس ہوتی ہے وہ جا نہیں سکتی۔مانو رومانہ اپنے گھر والوں کے لئے مر سی گئی ہو۔اگلی صبح رومانہ اور دعا اسکول جاتے ہیں۔اس دن اسکول کے پرنسپل کا بیٹا عمر اسکول ویزٹ پر آتا ہے۔عمر بہت گھمنڈی ہوتا ہے اس کو لوگوں کا احساس نہیں ہوتا۔وہ لوگوں کی دلآزاری کرنے سے بھی نہیں روکتا۔اس دن رومانہ سے چائے انجانے میں عمر کے کپڑوں پر گر جاتی ہے۔وہ رومانہ کو سب کے سامنےے بہت برا بھلا کہا رومانہ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں وہ بنا کچھ کہے معافی مانگ کر چلی جاتی ہے۔عمر گھر آتا ہے اس کے ذہن سے بات نہیں جاتی کے میرے اتنا بار کہنے پر بھی اس نے مجھے کچھ نہیں کہا مجھ سے معافی مانگ کر انکھو میں آنسو لے کر چلی گئی۔اس دن پہلی بار عمر کو اتنا برا لگتا ہے۔۔کہ اس نے کیسے اسے اتنا برا بھلا کہا۔
عمر رومانہ کے بارے میں جاننے کا فیصلہ کرتا ہے۔اگلے روز وہ رومانہ سے بات کرتا ہے اور اس کے بارے میں پو چھتا ہے۔مگر رومانہ یہ کہہ کر بات کو ٹال دیتی ہے کے اس کی پرسنل لائف کے بارے میں جاننے کا کوئی حق نہیں۔یہ بول کر وہ وہاں سے چلی جاتی ہے۔
پھر عمر رومانہ کی دوست دعا سے بات کرتا ہےمگر عمر کو دعا کچھ نہیں بتاتی۔عمر کہتا ہے کے وہ رومانہ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔عمر کے بار بار اصرار پر دعا رومانہ کے بارے میں سب بتاتی ہے کہ کیسے وہ اس حال تک پہنچی۔یہ سب سننے کے بعد وہ رومانہ کے محلے پہنچا۔جہاں ساحل اپنے دوست کے ساتھ بیٹھ کر رومانہ پر تبصرہ کر رہا تھا۔کہ کیسے اس نے ان سے انتقام لیا۔عمر خاموشی سے باتیں سنتا ہے۔تھوڑی دیر بعدساحل گھر جاتا ہے۔اور عمر اس کے دوست کے پاس آکر کچھ پیسے دے کر سب معلوم کرتا ہے۔کہ کیسے رومانہ اس حال میں پہنچی کس طرح ساحل نے غلط فہمی پیدا کر کے سب ختم کر دیا تھا۔یہ سن کر عمر ساحل سے ملتا ہے۔اور رومانہ کے بارے میں بات کرتا ہے کے کیسے اس کے بدلے کی آگ نے ایک ہنستے کھلتے گھر کو اجڑ کر رکھ دیا۔اسے احساس دلاتا ہے ک اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔یہ سن کر ساحل کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔وہ فورا اپنے چچا کے پاس جاتا ہے۔اور اسے سب کچھ بتاتا ہے کے رومانہ کی کو غلطی نہیں تھی یہ سب میں نے کیا تھا میں بہت شرمندہ ہو مجھے معاف کر دیں۔یہ سننے کے بعد رومانہ کے والد اور بھائی کو بہت افسوس ہوتا ہے کے انھوں نے اپنی بیٹی پر بھروسہ نہ کر کے لوگوں کی باتوں پر کیا۔
ساحل سارے محلے کے سامنے اپنی غلطی کا اطراف کرتا ہے۔عمر کو کہتے ہے کہ وہ انھیں رومانہ کے پاس لے جائے۔عمر سب کو رومانہ کے پاس دعا کے گھر لے جاتا ہے۔رومانہ وہاں اپنے گھر والوں کو دیکھ کر بہت حیران ہوتی ہے۔رومانہ کے والد رومانہ کو گلے لگاتے ہیں۔اور کہتے ہیں بیٹی مجھے معاف کر دو مجھے سب پتہ چل گیا ہے میں نے تم پر یقین نہ کر کے لوگوں کی بات پر کیا۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ساحل بھی رومانہ سے اپنے کئے کی معافی مانگتا ہے۔رومانہ رحم دل ہوتی ہے۔اور وہ ساحل کو معاف کر دیتی ہے۔رومانہ عمر کا شکر ادا کرتی ہے۔کیونکہ آج اگر اس کی زندگی میں خوشی کا پل صرف عمر کی وجہ سے اتا ہے۔اس کا کھویا ہوا مان عزت آج عمر کی وجہ سے واپس ملتا ہے۔۔رومانہ واپس اپنے گھر چلی جاتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!