زندگی کے رنگ

Spread the love

(رومیزا کی کہانی)

تحریر: ارم ممتاز

دیکھا جائے تو زندگی کے رنگ میں کئی رنگ آتے ہیں۔زندگی کے رنگ سے مراد وہ رنگ نہیں جو ہمیں بظاہر نظر آئے لال گلابی ہرا اس سے مراد زندگی میں بہت اتار چڑھاو آتے ہیں۔۔خوشی غم سکون بےچینی غصہ صبر یقین ٹھوکر کہنے کو تو یہ سارے الفاظ ہیں۔ مگر سب یہ آپکی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہی رنگینیاں اور زندگی کی اتار چڑھاو رومیزا کی زندگی میں آئے اور کئی نشیب و فراز سے آشنا کیا۔
رومیزا اور اس کے گھر والے تیاریوں میں مصروف تھے ان کا گھر چھوٹا مگر اپنے دامن میں ڈھیر ساری خوشیاں سمیٹے ہوئے تھا۔
ایک طرف رومیزا کے ماموں کی شادی تھی تو دوسری طرف اس کے میٹرک کا رزلٹ بھی آنے والا تھا۔ تیاریاں مکمل ہونے کے بعد سب گاوں کے لئے روانہ ہوے۔12 گھنٹے سفر کرنے کے بعد رومیزا اس کے گھر والے اپنی منزل کو پہنچے۔ رومیزا اور اس کی بہن اشال کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیونکہ ان کے اکلوتے مامو کی شادی تھی۔
گھر پہنچ کر سب سے ملے رات سے ہی فنکشن شروع ہو گئے۔ شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ہر طرف خوشیاں تھی۔ان خوشیوں کو دوبالا کرنے ایک اور خوشی ائی۔رومیزا امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گئ۔سب گھر والے بہت خوش تھے کچھ دن وہاں رہنے کے بعد واپس گھر آنے کی تیاری ہوئی۔بل آخر رومیزا اور اس کے گھر والے آپنے گھر آ پہنچے۔ رات گزرنے کے بعد صبح کا آغاز ہوا۔گھر میں خوشیاں ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے حالات مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے اکثر تنگ رہتے تھے۔جس کی وجہ سے اکثر گھر میں بےسکونی ہو جاتی تھی۔
رومیزا کے گھر میں صرف ان کے والد کمانے والا تھا جو کے مزدوری کر کے اپنے گھر کے اخراجات پوری کرتے تھے۔گھر میں خرچ کو لے کر ان کی والد اور والدہ میں اکثر نوک جھوک ہو جاتی تھی۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے رومیزا نے نوکری کرنے کا فیصلہ کیا۔گھر والوں سے بات چیت کرنے کے بعد نوکری کرنے کی اجازت لے لی اور اگلے دن وہ اپنے چھوٹے بھائی کے اسکول انٹرویو کے لئے گئی۔بات چیت کرنے کے بعد رومیزا کو اسکول میں نوکری مل گئی۔رومیزا بہت خوش تھی۔کیونکہ اسے ٹیچر بننے کا پہلے سے ہی شوق تھا۔نئی صبح کا آغاز ہوا۔رومیزا نے ناشتہ کیا وہ اس کا چھوٹا بھائی تیار ہونے کے بعد اسکول کے لئے روانہ ہوے۔پہلا دن اسکول میں سب سے ملنے اور اسکول کے اصول جاننے میں گزر گیا۔یوں تو سب بہت اچھا تھا مگر وہاں رومیزا کی ماریہ بہت اچھی دوست بنی وہ ہمیشہ رومیزا کی یر مشکل میں مدد کرتی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال گزر گئے۔سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔۔رومیزا نے اپنی اگے کی تعلیم بھی جاری رکھی تھی۔۔مون سون کا موسم شروع ہوا اس موسم میں سب لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔مگر رومیزا اور اس کے گھر والوں کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔گھر کافی حد تک ٹوٹ چکا تھا۔ چھت سے بارش کا پانی بہتا تھا۔جس کی وجہ سے کمرے میں رکھا سارا سامان بھیگ جاتا اور ان کو کافی مشکلات پیش آتی۔
ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گھر کے لئے کچھ کرنا چاہا مگر آج کے دور میں کون کس کی اتنی مدد کرتا ہے۔خیر کچھ وقت گزرنے کے بعد رومیزا نے اپنے اسکول کے پرنسپل سے ان حالات کے بارے میں بات کرنے کا سوچا کیونکہ وہ جانتی تھی۔اگلے سال پھر سے ان کو انہی حالات کا سامنہ کرنا پڑے گا کیو نہ کسی سے مدد لے لی جائے۔۔پرنسپل بھلے انسان تھے وہ ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتے تھے۔۔رومیزا نے جب اپنے مسائل پرنسپل کے سامنے رکھے تو انھوں نے ان کی مدد کی ہامی بھر لی۔۔ان کی دیکھا دیکھی میں کئی لوگوں نے مدد کا ہاتھ بڑھایا اور غیب سے اللہ کی طرف سے مدد ملتی گئی۔۔سب سے بڑا یقین رب کی ذات پر ہونا چائیے کیونکہ اس کے کن کے بغیر کوئی چیز ممکن نہیں۔۔مشکلوں کے بعد آسانی بھی آئی۔
ٹوٹا ہوا گھر ایک خوبصورت گھر بن کر تیار ہوا۔۔رومیزا اور اس کے گھر والے بہت خوش ہوئے اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی برے وقت میں مدد کی۔
زندگی بہت حسین ہے اس زندگی میں ہمارا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑتا ہے۔ کئی لوگ اپکی زندگی میں رکاوٹ بنتے ہیں تو کئی لوگ مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔۔زندگی کو جینا یا نہ جینا حسین بننا یا نہ بننا انسان کے خود کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔
یا تو انسان اپنی مشکلوں میں الجھا رہے۔۔یا پھر ان مشکلوں سے ڈٹ کے مقابلہ کرے۔۔انسان مشکلوں سے تب نکلتا ہے۔ جب وہ لوگوں کی منفی سوچ کو نظر انداز کرنا شروع کرتا ہے۔۔زندگی بہت حسین ہے۔۔خدارا اپنی زندگی کو کسی مشکل میں ڈال کر یہ لوگوں کی منفی باتیں سن کر خراب نہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!