سائنس، منطق اور خدا

Spread the love

تحریر غلام مصطفٰے (جی۔ایم)

آپ سائنس کی بنیاد پر اب تک بنی ہوئی جتنی بھی تھیوریز ہیں۔انہیں اُٹھا کر بغور مطالعہ کریں۔
آپ کو اُن سے پیچیدہ اصولوں کے آسان قواعد ملیں گے اور اُن آسان قواعد کے ذریعے سے ہمیں مزید پیچیدہ نظاموں کے شواہد ملتے ہیں۔
اِن تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر ،یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سائنس کے ذریعے سے ہم پیچیدہ چیزوں کو آسان بناتے ہیں اور ان آسان قواعدوں کے ذریعے ہم نئے پیچیدہ نظاموں کو تلاش کرکے، آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یعنی
سائنس ہمیں پیچیدہ چیزوں کو آسان بنا کر تو دے سکتا ہے
لیکن
کسی unlimited چیز کی limitations نہیں بتا سکتا ہے۔مثلاً
What is last digit of Natural number.
(by counting)
قدرتی اعداد کا آخری عدد کیا ہوگا
(کنتی کے ذریعے سے)

میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہ سکتا ہو کہ۔۔۔
اس دنیا میں موجود کوئی بھی سائنسدان یا آنے والے دور میں کوئی سائنسدان اِس سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے گا۔البتہ وہ کسی قابل تعریف حد تک تو پہنچ سکتا ہے لیکن اختتام تک کبھی نہیں۔
اِس کی سب سے بڑی مثال پائی ”pie ”π ہے ۔
جس کی آخر( digit )عدد معلوم کرنے کیلیے بہت سارے سائنسدانوں نے کوشش کی اور مشینوں کا بھی سہارا لیا گیا لیکن سب کے سب ناکام ہوۓ ۔

اِس بات سے یہ پتا چلتا ہے جو (infinite) لامتنائی ہے اٌسے (finite) متناہی میں نہیں لایا جاسکتا ہے۔

یہ کائنات بہت ساری لامتناہیوں سے بھری پڑی ہے اور اِس میں بے شمار چیزے (limitless ) لامحود ہیں۔جن کے (limitations) حدود کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں۔

ان تمام باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان ہر دور میں (یعنی مستقبل کے ادوار میں) کسی نا کسی محدودیت کاشکار رہے گا ۔وہ کبھی بھی لامحدودیت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔مثلاً
پہلے کے انسان اڑ نے سے محروم تھے اور آج کے انسان روشنی کے رفتار میں اڑنے سے محروم ہیں۔
اسی طرح انسان ہمیشہ ایک نئے حد تک تو پہنچ سکتے ہیں لیکن وہ لامحدود تک کبھی نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

ان تمام منطق کو مد نظر رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ

اِس کائنات میں خدا کا وجود ہے
توشاید وہ درست ہوسکتا ہے ۔کیونکہ انسان ہمیشہ محدودیت میں رہتا ہے اور اُسے کبھی بھی مکمل طور پر لامحدودیت تک کا علم حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔اس بناپر ہم کہ سکتے ہیں کہ
خدا کو ماننے والا فائدے میں ہو سکتا ہے بانست اُس شخص کے جو خدا کے وجود سے انکار کرتا ہے۔

اِن تمام منطق کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں ۔
کسی بھی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ خدا کے وجود سے انکار کرے کیونکہ وہ اِنسان کس جواز پر خدا کے وجود سے انکار کرسکتا ہے جبکہ اُس کا علم محدود ، سوچ محدود ، شعور محدود، مشاہدہ محدود، غروفکر محدود ، اُس کا ماضی ،حال اور مستقبل محدود ہے اور وہ ایسے کائنات میں رہ رہا ہو جو لامحدودیت سے بھرا پڑا ہوا اور اُس میں علم بھی لامحدود ہے۔

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ ایک محدود انسان لامحدود علم رکھنے کا دعوٰی کیسے کر سکتا ہے؟۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!