ہم (بلوچ) سب "فراری” ہیں

Spread the love

تحریر: سنگت بلال مینگل

قارئین اور ماہرین دونوں ہی معاف کر دیں کیوں کہ ایک نسل کی درد بیان کرتے وقت تحریر کے رخ كا انداز نہیں ہوتا آخر کہاں سے شروع کی جائے کہاں پر ختم کی جائے درجان پرکانی سے شروع کی جائے?
یا ڈاکٹر یاسین بلوچ پر ختم کی جائے?
یہ فہد جان جیسے ابھرتے ستارے کی بات کی جائے ?
خیر ۔۔۔!!!
اس دن مملکت خداداد میں 27 فروری کو ہندوستانی جہاز مار گرانے پر لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے میں بھی اپنے آپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا
اور فراری میں ہم اس قدر مدہوش ہوگا تھا کہ مجھے درد سے چیختے خاندانوں کی آواز سنائے نہیں دے رہا تھا جب اس رنگینی دنیا سے جب میرے ہوش و حواس بحال ہونا شروع ہو گئے تو ایک خبر میرے منتظر تھا جو میرے چچا زاد بھائی میرا دوست ہمارے ہمدرد شہید فہد جان کا تھا جو کچھ ہی دیر پہلے قاتل روڈ N25 ایک روڈ حادثے میں شہید ہو گئے تھے کاش کہ یہ خبر سنانے والے کو خدا زبان ہی نہ دیتا اسی غم اور پریشانی کی حالت میں اچانک یاد آیا کہ آج ہی کے دن کچھ سال پہلے ہمارے دوسرے چچازاد بھائی بیبرگ جان اور اس کے دوست ستار جان کو شہید کر دیا گیا تھا اسی سوچ میں گم میں اپنا وجود بھول گیا تھا کہ میں زندہ ہوں کہ نہیں اچانک دل میں خیال آیا کہ ہم ایسے خطے سے تعلق رکھتے ہیں جو جوان ہوتے مرنے کے لیے ہم جوان ہوتے ہے اپنے بھائیوں کے لاشوں کو اٹھانے کے لئےاور ہم جوان ہوتے ہیں بم دھماکوں کے بعد اپنے بھائیوں کے ٹکڑوں کو جمع کرنے کے لئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!