قابل توجہ کمیونٹی

Spread the love

تحریر:نصیب اللہ اچکزئی

کوئی ہے جو ان کے مسائل پرسی کر سکے؟ کیا کوئی ان کو انسان کے قابل سمجھ کر قابل احترام شہری کا رتبہ دے سکتا ھے؟ کیا حکومت، خاندان، سماجی تنظیمں اور معاشرہ اسکے حقوق کا تحفظ کر کے اسے قابل احترام اور کارآمد شہری بنا سکتے ہیں؟
کچھ ہی سال پہلے انہیں سپریم کورٹ کے حکم پر شناختی کارڈ بنانے کا حق ملا۔ غربت، صنفی تعصب، ریپ کلچر اور بنیادی حقوق سے محرومی نے ان کی حیثیت ادنی درجے کے انسان کے، کی ہے۔ بیروزگاری، ذہنی تناؤ ، نا انصافی، تشدد ، معاشرتی بے حسی، حقارت، اور لوگوں کے معاندانہ رویوں نے ان کی زندگی کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق اس کی 74 فیصد آبادی مختلف ذہنی مسائل کا شکار ہے۔ تشدد کے شکار اس کمیونٹی پر صرف خیبر پختون خوا میں 2018 میں 479 حملے ہوے۔ جبکہ 2015 میں صرف خیبر پختون خوا میں 69 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔ اسکے علاوہ 500 ریپ کیسز اسی صوبے میں درج ہوے۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی ملک میں کل تعداد 10418 ہے۔ ان میں پنجاب میں 6208، سندھ میں 2527 ، خیبر پشتونخوا میں 903، بلوچستان میں 109، فاٹا میں 27، اور اسلام اباد میں ان کی تعداد 133 ہیں ۔ کیا وفاق اور صوبے اپنے وسائل سے اتنی معمولی تعداد والی کمیونٹی کو نوکری فراہم کر کے, انہیں بھکاری اور دوسرے ناموزوں کاموں اور پیشوں سے روک کر انہیں پاے دار اور ذمہ دار شہری بنانے میں کردار ادا نہیں کر سکتی؟ کیا سینکڑوں کی تعداد میں موجود این جی اوز ان کی پیٹ کا روگ ختم نہیں کر سکتی؟
اسلام اور آئین پاکستان دونوں صنفی تعصب اور تفریق کے خلاف ھے۔ دونوں میں انسانی اور بشری حقوق کی حفاظت کی گارنٹی دی گی ہے۔ کیا بحیثیت مسلمان اور قوم کے، ھم نے اس مظلوم اور محروم طبقے کی انسانی اور بشری حقوق کو احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے؟ کیا اس پسے ہوے طبقے کے لئے زمانے کی دھتکار کبھی ختم ہو سکے گی؟
دیر اید درست اید۔ شکریہ سپریم کورٹ کا۔ جس نے 71 سال بعد ان کو شناخت دی۔ ان کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا۔ انہیں جائیداد اور وراثت میں شریک بنایا اور حکومت کو حکم دیا کہ اس طبقے کو پاکستان بیت المال اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی توسط سے معاوضے دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت صحت کی سہولیات اور تعلیم دے۔
اگرچہ 2017 میں حکومت وقت نے ٹرانس جنڈر پرسنز بل پاس کیا ہے۔ جس میں اب خواجہ سراؤں کو ڈرائیونگ لائسنس بنانے، بنک اکاونٹ کھولنے، بنکوں سے قرضوں کی فراھمی کی سہولت دینے، ان کے لیے محفوظ گھروں کی تعمیر، پبلک مقامات، ہسپتالوں، اور تعلیمی اداروں میں ان کو ہراساں کرنے کی ممانعت جیسے قابل تعریف اقدامات شامل ھے۔ لیکن یہ صرف ھوا کا جھونکا ھے۔ اب بھی منزل بھت دور ہے۔ جان کی امان پاؤ۔ بالادست طبقے کو اگر فرصت ملے۔تو ان مظلوموں کی قانونی اور بشری حقوق کی حفاظت کے لئے اپنا تھوڑا سا قیمتی وقت وقف کرے۔
خواجہ سراؤں کی زندگی میں بھتری لانا ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک قومی ، مذہبی اور انسانی فریضہ ہے۔ حکومت، این ،جی ، اوز اور معاشرہ ، سب کو اس کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے اجتماعی طور پر اپنا حصہ ڈالنا ھوگا۔ میڈیا کو اس کار خیر میں صف اول کا سفیر بننا وقت کی اھم ترین ضرورت ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحثیت قوم ہمیں ان کو اپنانا ہوگا۔ سب سے زیادہ زمہ داری والدین اور خاندان کی ہے۔ کیونکہ ان کو خواجہ سراہ کا لقب سب سے پہلے گھر ھی سے ملتا یے۔ گھر ہی سے ٹھوکریں کھانے کا آغاز ھوتا ھے۔ اور سب سے پہلے گھر ہی میں اسے جھٹلایا جاتا ہے۔ دوسری طرف گھر ہی ان کو بھترین زندگی فراھم کرنے کا ذریعہ ھوتی ھے۔ لہذا لازمی امر ہے کہ خاندان میں ان کی عزت نفس کےلئے مثبت اقدامات اٹھاے جاے۔ جو ان کو معاشرے کا مفید شھری بنا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!