"سنگت ء ثانی” الیاس بلوچ

Spread the love

                               
تحریر:اسراربلوچ 

                                                                                              
مطالعات, مشاہدات, اور تجربات, سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتی ہے کہ سامراجی قوتیں اپنے قبضہ گیرانہ عزائم کو وسعت دینے کے لیے لامحدود ظاہری و باطنی آلہ کا استعمال کرتے ہیں. یہ قوتیں جن افراد, قبیلے یا ان سے بڑھ کر کسی قوم پر بزور شمشیر مسلط کر دہے جا تے ہیں ۔
سب سے پہلے یہ ان کے زیر اثر کے تاریخ,ثقافت, نفسیات, سماجی اور معاشرہ و معیشت کے اوپر تجزیہ کر کے پر انہی پیمانے کا استعمال کرتے ہیں. مثال کے طور پر اگر کسی قوم کے درمیان قبائل ازم کے اثرات زیادہ ہیں یعنی وہاں لوگ مختلف قبائل میں تقسیم در تقسیم ہیں. یہ انہیں مزید مختلف زئی پرستی میں دھکیل کر اور بھی کئی گناہ پسماندگی کی طرف لے جاتے ہیں. اگر کسی قوم کے نوجوان نسل سیاست سے نا بلد سیا سی چاپلوسی, احساس بالا ترہی, جذبات سے لیس جذباتی تقریر اور این جی اوز نما سیا سی پارٹیوں کے شوقین ہیں انہیں پر یشر گروپ میں فرنٹ لائن میں کھڑا آسانی سے لابی کے صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہیں.
لیکن استعماریت چاہیے جتنا ہی پاور میں کیوں نہ ہو ان اقوام کے سامنے ناکام راہ جاتی ہیں جن کے سوچ ,فکر, عمل اور منزل ایک ہو یعنی ان کے ارادے بھی پکا ہو تاریخ میں ایسے کئں نہیں ملتی کہ جن اقوام کے درمیان تحقیق اور تخلیق کے کلچر ہو اور وہ کسی طاقت کے زیر اثر ہو.
اس کے  برعکس, پسماندگی, بے بسی, لاچاری ان سب سے بڑھ کر غلامی کے توپیں ان اقوام کی مقدر جو تخلیق و تحقیق سے نا واقف اور اپنے تاریخ و ثقافت سے بالکل تعلق نہیں رکھتےہو.
درحقیقت, "سنگت ء ثانی "الیاس بلوچ اس خاک میں آنکھیں کھولی, چلنا سیکھا,مطالعے کو اپنایا,شعور علم و ادب کو اپنایا جس خاک کا اپنا ہی ایک سرخ تاریخ ہیں. کہ ان کے تاریخ بھی ایسی رہی کہ اپنوں نے صرف اس کو جواز بنا کر اس کے شناخت  پاوں کے ایک زخم سے کیا کہ بچپن میں اس کے موٹرسائیکل سے اکسیڈنٹ ہوا تھا. کیونکہ زندان نے جسم پر کسی ایسے نشان بھی نہیں چھوڑا تھا کہ تسلی بخش شناخت کیا جائے. تاریخ کے خود دورستی رہتی ہیں کہ اس سر زمین کہ اپنا ہی الگ مرتبہ قائم ہیں. لیکن دور حاضر میں خوف ہراس لالچ نے کا رقبہ اتنا وسیع ہو رہاہے کہ سننے اور سننا نے والا کسی بھی صورت یہ گوارہ کرتا کہ کچھ سنایا جائے.
"سنگت ثانی”کو خوب علم تھا کہ بغیر تخلیق و تحقیق  اپنانے سے کوئی اس مشن کو آگے بڑھا نہیں سکتا. یہ جوش,جزبہ, جذباتی, یا کسی این جی اوز نما پارٹی سے خودکو جوڑ کر حاصل نہیں کیاجا سکتا بلکہ اس میں سب  سے پہلے انسان کا اپنا شعوری فیصلہ ہیں کہ کس تنظیم یا ادارہ سے جُڑ کر اپنی زمہ داری اور فرض کو سمجھنےکے ساتھ ساتھ اپنا سمت کو با قاعدگی سے ایک صفحہ میں لاکر ہمہ گیر روان کریں.
ان سب تصورات کو عملیاتی طور پر سمجھ کر سنگت نے تا حیات جارہی رکھا تھا. جس کی واضح مثال یہ ہیں کہ سنگت رحلت سے چند روز قبل بساک کے پلیٹ سے "کتاب مہم” تحریک میں ایک ذمہ دار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا.
 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!