تجسس، نیک نیتی؛ تسلسل اور مزاحمت زندگی کے تقاضے اور کامیابی کی شرائط ہیں

Spread the love

تحریر: نعیم قذافی

ایک آدمی علم کا بے تحاشا گرویدہ تھا جس کو علم کا پیاسا آپ کہہ سکتے تھے۔ مختلف ذرائع اور طریقے سے جتنا وہ علم حاصل کرتا، اس کے حصولِ علم کی پیاس اور خلش میں اتنی ہی شدت اور وسعت بپا ہوتی۔ اچانک ایک دن اس کے ذہن میں عجیب و غریب کچھ خیالات ابھر کر سوالات کی صورت میں کلبلانے لگے۔ بعد ازاں، جوابات کی تجسس اور تعاقب نے اسے بے چینی کی کیفیت سے دوچار کر دیا۔ دن کے آخری پہر رات کی تاریکی میں وہ گھر کے چوکٹ سے دفتعاً باہر نکلتا۔ تاہم، صبر سے کام لینا اسے مناسب لگا۔ اس کی آنکھیں سحر ہونے پر جمی ہوئی تھیں کہ اچانک اسے بہت گہری نیند آ گئی اور وہ خوابوں کی دنیا میں کھو گیا۔ رات نے کروٹ بدلی۔ جب اس کی آنکھیں دوبارہ کھلی تو اس نے اپنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی کو اوپر کیا اور اپنی آنکھوں کو اس سے خوب ملتے ہوتے ہوئے صاف کیا۔ بعد میں خود سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ واقعی سحر ہو گئی ہے۔ پھر دفتعاً اسے گزری ہوئی شب کی بے چینی کا عالم یاد آ جاتا ہے کہ کل شب اسے شدت سے سحر ہونے کا انتظار تھا۔ اب جب سورج کی زمین پر کرنیں نمودار ہوئے تو یکایک وہ اپنے ذہن کے کلبلاتے سوالات کے جوابات پانے کی جستجو میں اپنے گھر سے نکل پڑا۔ گھر سے دور تقریبا تین سے پانچ میل کا اس نے راستہ طے کیا۔ راستے میں جس جس سے ملتے، سوالات کے جواز طلب کرتے۔ مگر جوابات اس کے طلب کے عین برعکس نکلے۔ نیز وہ الجھن میں پڑ گیا۔ وہ آدمی اُٹھ کھڑا ہوا اور وہاں سے خالی ہاتھ روانہ ہوا ڈگمگاتے اور کبھی گنگناتے ہوئے طویل راستہ طے کرنے کے بعد کسی بستی میں داخل ہوا۔ ایک انجان اور اجنبی شخص ایسا وہ خود کو محسوس کررہا تھا۔

بہر حال! انہوں نے پیش قدمی جاری رکھا، قدم سے قدم ملاتے ہوئے، اپنی دنیا میں گم صم اور اتنا پُرامید کہ اس کی امیدیں عقیدے کی روپ دھارنے لگے۔ مزید براں یہ کہ وہ جوابات کے حصول کی غرض میں آگے آگے چل رہا تھا کہ ایک عمر رسید نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ مسافر کی خوب خاطر تواضع کیا۔ شب وہیں بسر کیا۔ اسی بابت جس کے ہاں انہوں نے شب گزاری سے جوابات کی حسرت ظاہر کی۔ جوابات ملنے کے باوجود بھی وہ بے تحاشا غیر مطمئن اور پہلے سے کئی گنا مضطرب و مدغم ہو گئے، چونکہ سوالات وہی رہ گئے تھے جیسے کہ ایک معصوم بے حس و لاچار بچے کی آنکھوں سے معاونت کی سماں جھلکتی ہو، پر وہ آدمی کہاں سے لائے جو حسرت بھری آنکھوں کا حال بیان کر دے۔
اس نے زندگی میں پندرہ سال علم کی روح جاننے کے لئے سفر در سفر کیا، کئی لوگوں سے ملا، کئی شاطروں سے ملا، عام و خاص سب سے ملا مگر ان کی طرف سے وہ اطمینان سے پرے دکھائی دیتا تھا۔ اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہا اور ایک دن اتفاقاً اس کی ملاقات ایک عالم فاضل سے ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے بزرگ سے خوب گپ شپ کی۔ جب بزرگ نے ان سے آنے کی وجہ دریافت کی تو تاثر اور جواب یہی نکلا کہ سوالات نے اسے بزرگ تک لے آیا۔ وجہ دریافت کرنے کے بعد اس شخص نے بزرگ سے باری باری اپنے سوال پوچھنا شروع کر دیا۔ بابے ان سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ پُتر! میں تمہیں سوالات کے جوابات دینے کی بجائے دو چار باتیں کہوں گا جو جوابات بھی ہیں ھ بھی۔ "بیٹا! پہلے انسان کی نیت کا واضح ہونا ضروری ہے جیسے کہ تیری ہے، چنانچہ آپ کی نیک نیتی آپ کا سب سے بڑا سرمایہ رہا ہے جو تیری راہ و سفر میں ایک طاقت رہی ہے۔ کیونکہ صحیح نیت رکھنے والے اپنی منزل سے کبھی نہیں بھٹکتے۔ اللہ اور نیک ملائکے ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بیٹا! مسلسل سفر کرتے رہنا، مختلف سیانوں سے ملنا ان کی رائے جاننا اور کڑی وقت اور حالات سے گزرنے کے سبب تُو نے جو تجربے حاصل کئے ہیں، انہی میں تیرا جواز پوشیدہ ہیں۔ بیٹا! یاد رکھنا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کوئی بھی شئے جاننے سے پہلے انسان سے بلواسطہ اس شئے کی روح کے متعلق رائے سمیٹ لیا کر پھر ان کو اپنے تجربات کی کسوٹی پر مختلف طریقے سے پرکھنا۔ اس طرح انسان کو اس کی روح کا صحیح سراغ ہاتھ لگ جاتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!