ریحان و شے کے بعد اب خالد۔۔۔نہ جانے پھر کون !

Spread the love

تحریر:اسرار بلوچ

                                             
یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیس ویں صدی میں دوسرے شعبوں کے ساتھ میڈیکل سائنس بھی کافی ترقی کررہی ہے۔ آج سے کچھ دہائی پہلے انسانی بقا کو جن خطرات کا سب سے ذیادہ سامنا تھا میڈیکل سا ئنس انتہائی منظم طریقے سے ان پھر قا بو پا رہا ہے.
مہاہرین کے لیے کینسر تو کوئی نئی بات نہیں ان کے سامنےگردے کی پیوند کاری بھی ایک معمولی سی چیز رہ گیا ہیں. وہ اس سے بڑھ کر انسانی زندگی کو مزید بہتر بنانے کےلیے ہما گیر کو ششیں کر رہیں ہیں.آنے والے وقتوں میڈیکل سائنس میں مزید انقلاب لاکر سائنس انسانی برین کے پیوندکاری کے مختلف ممالک میں ریسرچ کر رہی ہے۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ پتھر کے زمانے میں یا اس سے پہلے جب انسانی وبا یا کوئی اور آفات انسانوں پر حملہ آور ہو جاتا تو اس صورت میں صرف موت کے آنے کے علاوہ کوئی اور راستہ کے انتظار کرنا پڑتا تھاگو کہ آج وہ دور بے شک نہیں ہے لیکن اس کے نشانات اور اثرات ضرور ہے. مثال کے طور پر  ملیریا, پولیو اور ان سب کے بڑھ کر کینسر کے مختلف لہروں سے یہ کہنا غلط ثابت نہیں ہو گا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں آج بھی دور قدیم کے ظر عمل موجودہیں.
ساوتھ ایشیا کے جنکشن میں واقع اپنے ہزاروں سالہ پرانی تاریخ سے ایک اس دھرتی کے باسی دوسرے حالات کے ساتھ کینسر جیسے مہلک مرض سے کہی  برسوں سے لڑ رہے ہیں .
نہ جانے یہ واقعات, حادثات سانحات اور قدرتی آفات کے سلسلہ کب تک جارہی رہے گا نہ جانے یہ بے بسی کی باتیں اور کتنے نسل تک جارہی رہے گی. جیسے شوکت کینسر اینڈ ریسرچ سینٹر کے گیٹ پر مامور سیکورٹی اہلکار سے ہاتھ جوڑ کر کہیں گے,سر جی ہمیں اندر جانے کی اجازت دے کیونکہ ہمارے دوست خالد یہاں ایڈمٹ ہیں ۔۔۔۔نہیں ! جہان سے آہے ہو واپس چلے جاو. ہم کوہٹہ سے آہے ہیں. کوہٹہ کہاں ہیں ? سر جی وہ گوادر کے نام سنا ہوگا وہاں ہے.اچھا گوادر, لیکن,اندر جانے کا کسی بھی صورت اجازت نہیں ہیں.آج اگر ریاست مدینہ کے شفا خانہ کا یہ حال ہیں, تو ذرا سوچیں دوسرے اداروں میں کس قسم کے اذیت کا سامنا پڑرھا ہوگا.
نہ جانے ہمارے نوجوان نسل, بوڑھی ماہیں یوں جھولی پھیلا کر گلی, محلہ اور بازاروں میں ہاتھ جوڑ کر ایپل کرینگے کہ خالد پرانی کو براہوئی زبان کے شاعر جو کہ کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑ رہے ہیں. جسکا تعلق لوہر مڈل کلاس یعنی غریب گھرانے سے ہیں.جن کہ علاج کے لیے تقریبا ساٹھ لاکھ درکار ہیں.اچھا,اتنا بڑھا رقم ,بہت مشکل ہیں جمع ہو سکے.یہ ساٹھ لاکھ درکار حقیقت ہمیں جسے مڈل کلاس کے ایک آمد فرد کیلئے بڑ ھی رقم ہیں. لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسے فرد ضرور ہیں  جن کے ایک آمدنی ساٹھ سے کہی گنا زیادہ بھی ہوں گیں.
نہ جانے ہمارے انسانی فلاحی ادارے جو خالص اس لیے متعارف کیا گیا ہے, کہ کسی حاجت مند کے ضرورت میں بر وقت کام آہے ,کب عملی طور پر خدمات انجام دیں گے. ان کے سب سے پہلی شرائط ذرا ملاحظہ فرمائیں. مریض چاہے جہاں بھی ہو اور جس حال میں اسے سے ہی اپرول لینے کوہٹہ آنا ضروری ہیں.نہ جانے ہمارے منتخب نمائندے بالخصوص سی ایم صاحب بھی سوشل میڈیا کے سہارا لے کر صرف نوٹس لینے تک محدود رہیں گی.  تیں سال میں تقریبا ہیں سو کے قریب سانحات کا نو ٹس لے چکے ہیں. لیکن آج تک  ان میں سے ایک بھی رپورٹ منظرعام پر نہیں آیا ہے.
مختصریہ کہ ۔۔۔ جیساکہ خالد پرکانی کے ساتھ چندہ مہم میں ایک شخص واضع الفاظ میں کہہ رہا تھا آج خالد کو اس موذی مرض لاحق ہے ,کل ہمیں بھی ہو سکتاہے. حقیقتا آج صرف ایک فرد  نہیں بلکہ پہلے ریحان اور شے مرید بھی اس موذی مرض سے ہار چکے ہیں.  وقت کی پکار بھی یہی ہے کہ ھم سب اس موذی مرض کے مزید پہلاو کے خلاف متحد ہو کر  کینسر ہسپتال کے قائم کرنے کے لیے آواز اٹھائیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!