ہماراماحول ہم سب کی ذمہ داریاں

Spread the love


تحریر: کاشف بلوچ


کہاوت ہے کہ صحت مند جسم ، صحت مند ذہن پیدا کرتا ہے اور صحت مند ذہن سے ہی صحت مند قوم پیدا ہوتی ہے اور صحت مند قوم ہی ،سماجی ،معاشی و سیاسی انقلابات پیدا کرسکتی ہے، تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جسمانی، فکری طور پہ بیمار قوم نے بلندی،ترقی حاصل کی ہو یا عظمت و عروج پر پہنچ سکی ہو لہٰذا صحت مند جسم بنانے اور صحت مند قوم بننے کے لئے صاف ستھرا ماحول اور صاف ستھری فضا درکار ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں تہذیب یافتہ معاشروں میں اور غیر تہذیب یافتہ معاشروں میں ایک بنیادی فرق جو پہلی نظر میں سمجھ میں آتا ہے وہ ’’صفائی‘‘ اور ’’گندگی‘‘ کا ہے۔
جو قوم اپنے گلی کوچوں، سڑکوں، پارکوں، اداروں اور پورے ماحول کو ہمہ وقت صاف ستھرا رکھتی ہے اس سے اس کے تہذیب یافتہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں تعفن زدہ ماحول اور گندگی پھیلانے اور اس میں زندگی بسر کرنے والی قوم کو کبھی بھی تہذیب یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔
لیکن بد قسمتی سے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس وقت ہمارا شمار مؤخر الذکر قوم میں ہوتا ہے، ہمارے شہر، سڑکیں، گلیاں، محلے، پارک چیخ چیخ کے ہمارے غیر تہذیب یافتہ ہونے کا مژدہ سنا رہے ہیں، بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ لوگ تعفن زدہ ماحول میں رہنے کے اس قدرعادی ہو چکے ہیں کہ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کے بچے گندگی میں رہتے ہیں اور گندے ماحول میں کھیلتے ہیں، خود صبح و شام وہ اس گندی فضا میں سانس لیتے ہیں اور بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

گردو پیش میں گندگی پھیلانے کے بعد لوگ اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے اگر گلی میں وائرس اور بیکٹیریاپیدا ہو رہے پھیل رہے ہیں تو وہ ہوا کے ذریعہ ہر جگہ پہنچیں گے، لہذا وہ بند کمروں میں بھی صحت کے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔اور اگر صاف پانی گندی نالی کی وجہ سے مضر صحت ہو رہا ہے تو وہ اس سے بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتے۔ کھلی اور گندی نالیوں کی وجہ سے صاف پینے کاپانی کا آلودہ ہونا معمول کی بات ہے، کیونکہ صاف پانی کی لائنیں جب گندے نالے سے گذاری جاتی ہیں تو ان میں ذرا سی لیکیج ہونے کی وجہ سے گندا پانی پینے کےصاف پانی کے ساتھ مل جاتا ہے، اس سے لاکھوں زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، لوگ گندا پانی پیتے ہیں اور ہسپتالوں میں لائنیں لگ جاتی ہیں۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کے پاس باقاعدہ کوئی نکاسی آب (سینی ٹیشن پلان) موجود ہے اور نہ ہی صاف پانی کی لائنوں کی دیکھ بھال کا مناسب انتظام اور تربیت یافتہ سٹاف موجو د ہے،، اور نہ ہی کمیونٹی کے لوگ اس مسئلے کو اہم سمجھتے ہیں۔
ہمارے سوسائٹی کا مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے اپنے گھر سے کچرا نکال کر گلی میں پھینک دیا جاتا ہے، ایک طرف تو نالیاں کھلی ہیں ، مین ہول کھلے ہوتے اوپر سے اس طرح کوڑا بے ترتیبی سے پھینکنے کے نتیجے میں نالیاں اور گٹر بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں لہذا یہ صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال سینکڑوں بچوں، اور بالغوں کو ہسپتالوں میں پہنچا رہی ہے۔ ہم نے اپنے ارد گرد خود ہی بیماریوں کے ذرائع اکٹھے کر رکھے ہیں۔
بڑوں کا مزاج بچے بھی اپنا رہے ہیں، لہذا ان کو بھی عادت نہیں کہ کچرے کو کس طرح ٹھکانے لگانا ہے، جب اس مسئلے کو حل کرنے کی بات ہوتی ہے تو لوگ حکومتی اداروں کو کوستے ہیں اور حکومتی ادارے وسائل کی کمی اور لوگوں کی بے احتیاطی کا رونا روتے ہیں، عملی طور پہ کوئی بھی کام ہوتا نظر نہیں آتا، صرف زبانی جمع خرچ ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے ادویات کے چھڑکاؤ کا بندو بست کریں تاکہ مچھروں کو بھگایا جا سکے، حالانکہ گندگی کے ڈھیر اگر موجود ہوں گے ، صفائی کا بندو بست نہیں ہو گا تو چھڑکاؤ سے یا کسی بھی اور احتیاطی تدابیر سے کبھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔کیا ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر چپ سادھ لیں اور اسی طرح گندگی کو بڑھاتے رہیں؟ تو یقیناًً ہر سال ہماری بیماریوں میں اور اموات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
اسی سلسلے میں ہیلپ فار ہیومن آرگنا ئزیشن نے گزشتہ سات سالوں لیو ان گرین مہم چلا رہی ہے جس میں اس آرگنائزیشن کے ممبران مختلف شہروں کی مخلتف شاہراؤں کے کناروں، یونیورسٹیوں، کالجوں، پارکوں میں صفائی ایکٹیویٹیز ، آگاہی اور شجر کاری کی اہمیت کے متلعق ایکٹیویٹی بھی کرتے آ رہے ہیں۔

حدیث ہے کہ”صفائی نصف ایمان ہے ہمیں صفائی کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔”

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!