کریمہ بلوچ کو انصاف دو

Spread the love

تحریر:سہیل بلوچ

کچھ عرصہ قبل کوئٹہ سے کراچی سفر کے دوران پیش انے والے واقعے کو کھبی بھی نہیں بھول سکتا۔ جہاں مسافروں کے بیس میں سوار مسلح ڈاکوؤں نے قلات اور سوراب مضافات میں گاڈی میں سوار تمام مسافروں کو یرغمال بناکر بآاسانی نقدی اور قیمتی ایشیا لوٹتے چند ایک کی انتہائی کمزور مزاحمت بھی بندوق کے خوف سے آس نہ آسکی ہر طرف خوف ہی خوف تاری تھی۔
باوجود اس کے کہ خوف اور بزدلی کی آڑ اپنی تاریخی روایات کو قربان نہیں کرنا کسی بھی نامناسب عمل اور غیر اخلاقی حرکت پر ذہنی طور پر زندگی اور موت کے انتہائی کم فاصلے کو قریب سے دیکھنے کو ملا ۔
اسی تذبذب میں ڈاکوؤں کی سرغنہ بھیانک اور خوفناک چہرہ بنا کر دوسروں کے نسبت بڑی بندوق تھامے اپنی لوکل زبان میں اونچی آواز میں اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں کی سیٹوں سے دور ان کے ساتھ بیٹھے مردوں کی بھی موبائل اور نقدی محفوظ رہیں۔
جس پر باقی سفر موبائل اور نقدی لوٹنے کے بجائے اس تعجب اور حیرت میں گزری کہ اخلاق اور اخلاقی روایات سے ہاری ان ڈاکوؤں میں یہ اخلاقی و روایتی اقدار کی پاسداری کا عمل پیدا کہا سے ہوا انھیں اس بات کی ترغیب و تربیت کس نے دی کہ جنگ و امن شروبد سمیت کسی بھی عمل میں ہمارے معاشرے میں عورتوں بزرگوں اور بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ان کی عزت وقار کو مقدم رکھا جائیگا۔
انھیں اس بات پر آمادہ کس نے کیا کہ عورتوں کی دوپٹے کا لاج رکھنا معاشی ضرورت سے زیادہ ضروری ہوتا ہے ۔
انھیں اس بات کی سمجھ کہا سے آئی کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی مقام اور حثیت کی اعلی مثالیں موجود ہیں کہ ہمارے ہاں عورتوں کی عزت اور اس کی دوپٹے کی لاج کے خاطر لوگ اپنے پیاروں کی خون تک معاف کردیتے ہیں ۔
چوری اور ڈاکہ زنی جیسے غیر اخلاقی غیر انسانی حرکتوں میں ملوث ان وحشی درندگی کا شکار افراد جن کی کوئی دین ایمان نہ ہو یہ تاریخ کے کن اوراق میں پڑھی یا ان تک یہ عمل کیسی منتقل ہوچکی ہیں۔
کہ دنیا کےلیے جاہلیت ہمارے لیے تاریخی سنہرا باب کی حثیت سے رہتی دنیا تک زندہ رہنے والا عمل جو ایک بھاوٹ عورت کے لئے آدھی نسل قربان کرنے روایات زندہ ہیں ۔
لیکن اب غیر ممالک میں ہمارا بلوچ بچا نہیں ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!