طلبا تنظیموں میں موجود غیر اعلانیہ "پولٹ بیوروز”.

Spread the love

تحریر: شکور بلوچ

1920 سے شروع ہونیوالی جدید بلوچ سیاست میں بلوچ نوجوانوں خصوصاْ بلوچ طلباء تنظیموں کا انتہائی اہم کردار رہا ہے. میر عبدالعزیز کرد کے "ینگ بلوچ” سے 67 مختلف طلبا تنظیموں کے الحاق سے وجود میں آنے والی بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن تک اور پھر بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی 53 سالہ جدوجہد چاہے وہ پر امن جمہوری ادوار ہو یا مسلحہ مزاحمت کے، بلوچ قومی تحریک میں اپنا ایک الگ تاریخ رکھتی ہے. بی ایس او نے تمام تر مشکلات، ریاستی دباؤ، مارا ماری، اور آپسی دھڑے بندی اور اختلافات کو نہ صرف بطورِ ایک طلبا تنظیم اپنی ذمہ داریاں پوری کی بلکہ مختلف ادوار میں ماس پارٹیز کا خلا پر کرکے اپنی بساط سے بڑھ کر وزن اٹھائی، ایسا بھاری پتھر کہ بی ایس او کا ایک دھڑا اس پتھر کے وزن تلے دب گیا. بی ایس او اور اس کے مختلف دھڑوں کے علاوہ دیگر بلوچ طلبہ تنظیم و کمیٹیاں بھی مختلف ادوار میں بنتی رہی اور اپنے حصے کا کام کرتی رہی.

جیسا کے ہم سب جانتے ہیں کہ بلوچ طلبا تنظیمیں اور خصوصاً بی ایس او روز اول سے آپسی اختلافات اور دھڑے بندیوں کا شکار رہا ہے. آپسی اختلافات ایک طرح سے شعور کی نشانی بھی ہے یقیناً جب لوگوں میں شعور کا مادہ ہوگا تبھی وہ ایک دوسرے سے اختلاف رکھے گیں۔
حالیہ دور میں بلوچ طلبا تنظیمیں اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور یہ تضادات نظریاتی سے زیادہ ذاتی مفادات کی وجہ سے ہیں. میرا ماننا ہے کہ نظریاتی تضادات چاہے جتنے زیادہ ہو ان کا نقصان نہیں فائدہ ہی ہوتا ہے.

ایک زمانے میں کمیونسٹ انٹرنیشنل پارٹی کے مختلف ملکوں میں تین سے چار افراد پر مشتمل اعلانیہ "پولٹ بیورو” ہوا کرتاتھا جو پارٹی کے فیصلے کرتے اور آنے والے وقت کے لئے پالیسیز مرتب کرتے ان پولٹس کو ماسکو سے ہدایات ملتے اور وہ وقت و حالات کو دیکھ کر فیصلے کرتے اور پھر ان فیصلوں کو پارٹی کے اداروں سے منظور کرواتے حالیہ دور میں بلوچ طلبا تنظیموں میں بھی غیر اعلانیہ پولٹ بیوروز موجود ہیں جو چند ایک افراد پر مشتمل ہیں تنظیم کے فیصلے اور پالیسیز یہی چند ایک افراد طے کرتے ہیں۔
بعض اوقات انہیں "ماسکو” سے ہدایات ملتے ہیں (ماسکو سے مراد جہاں سے بھی جس طلبا تنظیم کو ہدایات ملتی ہیں) وہ ان ہدایات پہ عمل کرتے ہوئے تنظیم کے اداروں سے ان فیصلوں کو منظور کرواتے ہیں چاہے وہ فیصلے تنظیم کے حق میں ہو یا نہ ہو.

ضروری نہیں کہ ایک طلبا تنظیم میں ایک ہی پولٹ بیورو ہو بلکہ ایک ہی تنظیم میں مختلف دھڑوں کے مختلف پولٹ بیورو ہوتے ہیں جو فیصلے کرتے ہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ پولٹ بیورو مرکزی سطح پہ ہو یہ بیوروز مرکزی سطح سے لیکر نیچے تک ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے بساط کے مطابق تنظیم کے اداروں پہ قبضہ کیا ہوتا ہے اور فیصلے کرتے یا پھر انہیں مسترد کرتے ہیں.

طلبا تنظیموں میں موجود حقیقی جمہوری کارکنوں کو اپنے ارد گرد موجود غیر اعلانیہ "پولٹ بیوروز” کی شناخت کر کے ان کے خلاف جمہوری طریقے سے مزاحمت کرکے تنظیموں اور ان کے اداروں کو اپنے فیصلوں میں خود کفیل بنانا چاہیے. جب تک طلبا اپنے فیصلے خود نہیں کر پائے گے تن تک ان کا ایک طاقت بن کر ابھرنا محض ایک خواب ہی ہوگا.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!