خود کی تلاش

Spread the love

تحریر: سکندر غوری

آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں!
قارئین !
آج کے دور میں زندگی پہلے کی نسبت بہت مصروف ہوچکی ہے جس کے سبب انسان اپنے اردگرد ماحول اور معاشرے سے بے خبر ہے ساتھ ہی اپنی ذات سے بھی بے خبر ہوچکا ہے۔
یعنی کہ انسان خود کو پہچاننے سے قاصر ہوتا جارہا ہے ۔اور معاشرے و ماحول سے بے خبر ہوکر خواہشوں کے دلدل میں دھنستا جارہا ہے اور بھول چکا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے خواہشوں کا بوجھ انسان کو دبائے رکھتا ہے اور خواہشوں کا تصور اپنوں سے تعلق ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
البتہ خود کی صلاحتیوں کو اگر انسان تلاش کرنا شروع کردے تو تبدیلی ممکن ہے۔
آج کے دور میں ہرشخص پروان چڑھنا چاہتا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ خود کو بدلا جائے اور ذاتِ اقدس نے جو وقت مقرر کیا ہے اس انتظار کیا جائے لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں مقررہ وقت کا انتظار کرتے کرتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں بلکہ اپنی کامیابی کے مقرر وقت تک جدوجہد کرنی چاہیے اور خود کی پہچان کرنی چاہئے جو کہ تھوڑا مشکل کام ہے۔
ہر انسان کو اپنی تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ قدرت نے انسان کو سب سے بڑی نعمت زندگی بخشی ہے اس کے بعد عقل و فہم عطاء کیا ہے ویسے تو قدرت کے نعمتوں کا کوئی شمار نہیں اور ان نعمتوں کے لئے جتنا بھی شکر کیا جائےکم ہے انسان کے پاس قدرت کی دی ہوئی ان گنت نعمتیں ہیں جن کا سمجھ پانا انسانی عقل سے بالاتر ہے ۔
اکثر ہم نادانی کرتے ہوئے قدرت کی دی گئی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں اور کوئی ن کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں جو کہ اپنے مقصد کے لئے کی گئی جدوجہد پر پانی پھیرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
قدرت نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی تحفہ بخشاء ہے جسے انسان اپنی منزل تک پہنچ سکتا یے ہر انسان میں ایک نہ ایک ہنر لازمی ہوتا ہے جس سے قدرتی تحفہ یقنی (God Gift) کہا جاتا ہے بس وہ ہنر چھپا ہوا ہوتا ہے اور اپنے پوشیدہ ہنر اور صلاحیت کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کچھ لوگ بہت پہلے ہی اپنی پوشیدہ صلاحیتوں تلاش کرکے مزید نکھار لیتے ہیں۔
اور کچھ لوگ ذرہ دیر سے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو خود میں تلاش کرتے ہیں بعض لوگ خواہشوں کے پہاڑ پر چڑھنے کا شوق رکھتے ہیں جو ابتداء میں ہی ناکام ہوجاتے ہیں اور انہیں مایوسی ماردیتی ہے خواہشات اور حالات کی جنگ میں جب مایوسی بھی حملہ آوار ہوتی ہے تو انسان غلطی کر بیٹھتا ہے جو ناکامی کا سبب بنتی ہے اور یہ ناکامی ایک بار پھر مایوسی بن کر انسان کی راہ میں روڑے اٹکاتی رہتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ مایوسی کا سبب تلاش کرے۔
اور حالت کی جنگ کے دوران یہ تصور کرلیجے کہ مایوسی کی جنگ آپ جیت چکے ہیں۔
ہر شخص کی ذندگی میں کچھ لمحات ایسے گزرے ہوتے ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتے رہتے ہیں ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی کہ ماضی کے سفاک لمحات کو ساتھ لیکر جیتے ہیں اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہم یہ غلطی نہیں مانتے ہیں یااسے سدھارنے کی کوشش نہیں کرتے
قارئیں۔۔۔!!
آپ خود ہی اپنے آس پاس نظر ڈالیں آپ کو کئی مثالیں دیکھنے کو ملیں گی کہ "کامیابی وہی حاصل کرتے ہیں جن میں ماضی بھول کر آگے بڑھنے کا حوصلہ ہوتا ہے آپ بھی یہ ہمت اور حوصلہ خود میں تلاش کریں اور نہ بھولیں اگر اچھا وقت گزرگیا تو برا وقت بھی جلد گزرے گا”۔
کائینات کی ہر شئے وقت کی قید میں ہے کچھ تبدیل کیا جاسکتا ہے سوائے وقت کے کہ ہماری زندگی وقت کی قید میں ہوتی ہے یہی بات ہم سمجھنے میں دیر کردیتے ہیں کہ وقت ہماری ذندگی میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
ذاتِ اقدس نے وقت میں ایسی قوت رکھی ہے جسے کوئی نہیں سمجھ سکا ہے۔
ہمیں وقت کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے مقرر وقت کا انتظار کرنا چاہیے اپنی غلطی مان لینی چاہیے اور اگر غلطی نہیں پتا تو اسے تلاش کریں غلطی کا احساس ہوتے ہی اسے سدھارنے کی کوشش کریں ۔
اپنی خود کی تلاش کیجیے ۔
ذاتِ اقدس پر بھروسہ رکھئے اپنی کمیوں کی طرف رحجان کریں جو آپ کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے ان کی وجوہات تلاش کریں انسان اگر دوسروں کی کوتاہیوں کو ڈھونڈنا چھوڑ کر خود کی کوتاہی کو تلاش کرنا شروع کردے تو دنیاوی ذندگی آسان ہوجائے گی اور آخرت بھی آسان ہوجائیگی ہر انسان کو خود کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!