بلوچستان کا تاج محل

Spread the love

تحریر:ابوعکراش

انسانی زندگی کا کارواں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے شروع ہوا اور نہ معلوم کب تک چلتا رہے، بالآخر اس چلتے قافلے کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور زمین کو تمام مخلوق کے بوجھ سے آزاد کردیا جائے گا ۔ اس گزرتے انسانی کارواں میں کئی مدّوجزر ، نشیب و فراز آئے کہیں اس نے انتہاء ِ عروج دیکھا تو کہیں ایسا زوال کہ اسے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل دکھائی دیا۔

اس عروج و زوال کی داستانوں سے مورخین نے کتابوں کے ڈھیر لگا دیے ، اور اُن اسباب کی بھی نشاندہی کی جن کی بدولت اقوامِ عالم نے یا تو عروج پایا یا زوال دیکھا۔ اِس گزرتی انسانی زندگی کے باقی رہ جانے والے نقش ہمارے لئے سامانِ عبرت بھی ہیں اور باعثِ فرحت بھی۔ کہیں بوسیدہ عمارتیں اپنی بے یارومددگاری پہ نوحہ کُناں ہیں تو کہیں باقی بچے نشانات اپنی موجودگی پر شادیانے بجا رہے ہیں۔

کچھ ایسے ہیں مقامات ہمارے بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے اندر لازوال داستانیں سموئے ہوئے ہیں جن میں ایک خاص مقام موتی گہرام کے مقبرے کو حاصل ہے جسے "بلوچستان کا تاج محل” بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ سچی محبت کی غیر فانی حقیقت اپنے سینے میں محفوظ کیے ہوئے ہے۔محبت کی یہ کہانی خان پور (پرانا جھل مگسی) سے شروع ہوتی ہے جو کبھی گنجان آباد شہر گزرا ہوگا جس کی گواہی منہدم مکانات اور گری پڑی قلعے کی موٹی چوڑی فصیل ببانگ دہل دے رہی ہے۔

میں وہاں کھڑا خیالات کی دنیا میں گم تھا اور قلعے کےباہر دیکھ کر سوچتا کہ یہاں بھی چہل پہل ہوگی کہیں سے قافلے آکر یہاں رکتے ہوں گے اورکبھی اناج سے لدے قافلے یہاں سے نکل رہے ہوں گے۔ اور کبھی قلعے کی دیواروں کے اطراف بنے مورچوں کو دیکھ کر خیال گزرتا کہ ان مورچوں میں بیٹھ کر صاحبِ قلعہ کی حفاظت کی جاتی ہوگی اور وہ ان ہی کی وجہ سے چین کی نیند سوتا ہوگا۔اور کبھی میری نظریں قلعے کے وسط میں پکی اینٹوں سے تعمیر شدہ محل کی باقی ماندہ دیواروں کو دیکھتیں اور خیال گزرتا کہ شاید یہی وہ جگہ ہوگی جہاں بیٹھ کر گہرام نے اپنی بیوی موتی سے عہد و پیمان کئے ہوں گے۔

اور میں وہاں حیران و پریشان کھڑا کبھی ان دونوں کے قصے کو ذہن میں لاتا۔کہا جاتا ہے کہ موتی اور گہرام کی آپس میں بے انتہا محبت تھی اور یہ اپنی محبت کو رہتی دنیا تک پہنچانا چاہتے تھے جس کی بنیاد بے آگرہ میں بنے تاج محل کی طرز کا ایک مقبرہ تعمیر کروانے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ موتی مالدار تھیں اس کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہ تھی اسی وجہ سے ملک کے طول و عرض سے فنِ تعمیر کے ماہرین کو بلوایا گیا اور اپنے شہر خان پور سے کچھ ہی فاصلے پر چٹیل میدان میں اینٹوں کے بَٹھے لگواکر مقبرے کی تعمیر شروع کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عالیشان محل نما مقبرہ تیار ہوگیا۔

مقبرہ تیار ہونے کے بعد میاں بیوی نے یہ طے کیا کہ اپنی تمام تر دولت اسی مقبرے میں دبا دی جائے گی۔ اس کے بعد ہم دونوں میں سے جو پہلے انتقال کرے گا اُسے اسی مقبرے میں دفنا دیا جائے گا اور بعد میں مرنے والا بھی یہی وصیت کرے گا کہ مجھے بھی اسی مقبرے میں دفن کیا جائے۔ بالآخر وہ دن بھی آپہنچا کہ دونوں یہ دنیا چھوڑ چلے۔ ان کو تمام تر مال ودولت سمیت اسی مقبرے میں سپردِ خاک کر دیا گیا اور یہ مقبرہ ان دونوں کو تاحال اپنے اندر لیے قائم و دائم ہے۔ مگر اس کی حالت دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب خستہ ہوچکی ہے ، داخلی دروازے کے اوپر لگے منقش پتھر گر رہے ہیں اور شمالی جانب بنے تہہ خانے منہدم ہو چکے ہیں۔دروازے سے مقبرے تک بنی سیڑھیاں زمین بوس ہو کر رہ گئی ہیں ۔مقبرے کے گرد خودزائدہ درخت اگ آئے ہیں۔حالانکہ یہ مقبرہ فنِ تعمیر کا شاہکار ہے، اور کسی بھی طرح تاج محل سے کم نہیں اس کے اندر بنے نقش و نگار دیکھنے والوں کو تاحال حیران کیے دیتے ہیں۔

جہاں اس مقبرے کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت وقت پر لاگو ہوتی ہے وہیں ہمیں بھی احساس ہونا ضروری ہے کہ ہم اپنے تئیں اس کی حفاظت کرتے رہیں ۔ جہاں گزرتی حکومتوں نے اپنی آنکھیں بند کئے رکھیں اسے فقط حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ، اُدھر دولت کے متلاشیوں نے بھی اپنی کدالوں کا رخ اسی جانب موڑ دیا ، یہاں تک کہ قبروں کو بھی کھود ڈالا۔ اب قریب ہے کہ یہ محبت کی علامت زمین پے آ گرے اور ہم رفتہ رفتہ سب کچھ بھول بیٹھیں۔

میری حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ان مقامات کی حفاظت کی جائے اور اس کی حالت کو بہتر بنایا جائے جس سے ایک تو لوگ یہاں آئیں گے اور علاقے کی ترقی ہوگی۔ دوسرا یہ مقامات ہمیں اپنا ماضی یاد دلاتے رہیں گے اور ہم ان سے عبرت پکڑ کر اپنی زندگی کی سمت متعین کرسکیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!