کیا بلوچ ہونا جرم ہے؟

Spread the love

تحریر:اورنگ زیب نادر

جب قلم کو اٹھایا اور موضوع کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو ذہن میں آیا لکھوں تو کیا لکھوں ؟ کیونکہ بلوچستان ایک جنگ زدہ صوبہ کی کیفیت پیش کررہاہے۔ہر طرف ظلم ،بربریت ۔ ناانصافی اور نہ جانے کیا کیا۔رب العزت نے ہمیں ایک ایسے صوبے سے نوازا ہے جو قدرتی معدنیات سے مالامال ہے لیکن بدقسمتی سے نام نہاد حکمرانوں کی وجہ سے عوام اجیرن اورکسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔کس واقعہ کس سانحہ اور کس ظلم کی بات کروں اور کس سے فریاد کروں۔۔۔!!!
پچلھے دنوں بلوچستان کے علاقے مچھ میں ایک ایسا درد ناک واقعہ رونما ہوا جس کو سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ان کا قصور کیا تھا اور ان کا جرم کیا تھا؟ہمارے بچوں اور بھائیوں کو کیوں مارا گیا لواحقین کی فریاد۔ان مزدوروں کا جرم کیا تھا ؟ یہ ہے کہ یہ بلوچستان کے باسی تھے…؟یہ بیجارے دو وقت کی روٹی کے لئے مزدوروں کررہےتھے کہ اپنے گھروں کو چلا سکیں۔لواحقین کا کہنا ہے اب ہمارے گھروں میں مرد باقی نہ رہے۔ کئی دنوں سے منفی 7 سنٹی گریڈ سردی میں میتوں کو لے کر دھرنا دیا۔
اور ملک کے سربراہِ کے انتظار میں ہے۔۔۔حکومت کے اراکین حسب معمول کی طرح آکر تسلی دے کر چلےجاتےہیں کیا ہم بھیڑ بکری اورچوپائےہیں جب چاہےہمیں مارا جاتاہے۔۔۔۔؟
سال 2020 کے اختتام پر بلوچستان کو تحفہ سے نوازا گیا جو کریمہ بلوچ کی صورت میں تھی۔آخر بلوچ جائیں تو کہاں جائیں۔۔؟ہم دنیا کے کسی کونے میں محفوظ نہیں "کیوں۔۔؟کچھ عرصہ قبل سویڈن میں ایک بلوچ منصف اور جرنلسٹ ساجد حسین کو شہید کردیاہے۔بلوچوں کے ہیرو کو چن چن کر مارا جارہاہے۔۔
اسی طرح چند ماہ قبل تربت میں ایک طالب علم کو بلاوجہ شہید کردیا گیا جو اپنے والدین کے ہمراہ باغات میں ان کا ہاتھ بٹھا رہےتھے وہاں جاکر والدین کے سامنے ان کے سینے پر گولیوں کی بارش کردی۔ان کا جرم کیاتھا کہ وہ بلوچ تھا اور بلوچوں کا نام روشن کرنا چاہتاتھا۔

"ہم جینا چاہتے ہیں ہمیں چین سے جینا دیا جائے”
رضا مورانوی نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔

"یوں ہی ظالم کا رہا راج اگر اب کے برس
غیرممکن ہے رہے دوش پہ سر اب کے برس
جسم بوئیں گے ستم گار اناجوں کی جگہ
اور فصلوں کی طرح کاٹیں گے سر اب کے برس
ذہن سے کام لو اور موڑ دو طوفان کا رخ
ورنہ آنسو میں ہی بہہ جائیں گے گھر اب کے برس
جانے کس وقت اجل آپ کو لینے آ جائے
ساتھ ہی رکھیے گا سامان سفر اب کے برس
نخل حسرت کو نہ اشکوں کی نمی دو ورنہ
اور مہکے گا گل زخم جگر اب کے برس
اب نہ گھبراؤ کہ مٹنے کو ہے ظالم کا وجود
خون مظلوم دکھائے گا اثر اب کے برس”

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!