اک شخص سارے شہر کو ویران گر گیا !!!

Spread the love

تحریر:جی ایم مستوٸی

29 دسمبر کی صبح ہوتے ہی فیس بک کے ذریعے اس منحوس خبر کا پتہ چلا کہ ہم سب سے پیار کرنے والے شفیق انسان، ماہر تعلیم، بہترین معلم سچے کھرے، بہادر اور بے باک صحافی صوفی محمد ابراھیم کھوسہ ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ جدائی دیکر بچھڑ گئے!!!
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے نصیر آباد میں پھیل گئ۔اور ان کے چاہنے والوں پر بجلی بن کر گری ۔اس دل دھلا دینے والی خبر نے سب دوستوں ساتھیوں کے چہروں پر دکھ افسوس اور ملال کے آثار نمایاں کر دئے تھے۔سب ایک دوسرے سے مل کر کہہ رہے تھے کہ آہ! ہم صوفی صاحب کو نہیں بچا سکے۔ اسے ابھی نہیں جانا تھا ۔ابھی اسے بہت کام کرنا تھا۔اسے اپنے کافی ادھورے کام مکمل کرنے تھے۔
29 مارچ 1958 کو چتن پٹی جعفرآباد کے گاٶں محمد رحیم کھوسو میں جنم لینے والے صوفی محمد ابراھیم کھوسہ نے پرائمری کی تعلم اپنے گاٶں، میٹرک سبی اور گریجویشن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج استا محمد میں کلرک بھرتی ہو گئے۔ مگر وہ نوکری ان کے مزاج کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے مستعفی ہو کر ڈیرہ مراد جمالی پہنچ کر صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہو گئے۔ اور اپنی اہلیت اور قابلیت کے بل بوتے پر بہت جلد پریس کلب کے یکے بعد دیگر 7 مرتبہ صدر کے عہدے پر فائض رہے۔ مگر دل چونکہ تعلیم کی طرف مائل تھا ۔ اس لئےالہدی اسکول سے اپنے تعلیمی سفر کی شروعات کی مگر اپنی حق گوئی اور صاف گوئی طبیعت کیوجہ سے الہدی چھوڑ کر غزالی کے نام سے اپنا اسکول قائم کر دیا ۔ ان کا تعلیمی میدان میں سب سے بڑا کارنامہ نصیر آباد میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو یکجا کرکے ان کے پہلے صدر اور بعد میں ڈویژنل صدر بنے جو تادم مرگ وہ اسی عہدے پر رہے۔وہ پرائیوٹ اداروس کے مسائل کو حل کرنے اور سرکار کی سرپرستی دلوانے کے لئے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہے۔ صوفی صاحب کی پوری زندگی جدوجہد کی علامت تھی۔انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سودیبازی نہیں کی۔اپنی صاف گوئی اور سچائی پر ڈٹے رہے۔وہ دروخ گوئی اور منافقت سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس لئے ان کے دوست کم، دشمن زیادہ تھے۔مگر ان کےدشمن بھی ان کی سچائی اور حق گوئی کے معترف تھے۔
مگر اسے زندگی نے مزید مہلت نہ دی۔اس زندہ دل انسان کے دل ہی نے وفا نہ کی۔صوفی صاحب کافی عرصہ سے دل کے عارضہ میں مبتلا ہو گئےتھے مگر پچھلے سال نومبر میں اچانک دل کی تکلیف کے بڑھ جانے پر ہسپتال لے جایاگیا اور ٹیسٹ کروائے گئے تو پتا چلا کہ دل سکڑ کر 35 فیصد ہو گیا ہے۔ اور پھر گھٹتا ہی چلا گیا ۔ 25,15بلا آخر دھڑکنا ہی بند کر دیا۔ موت سے تو کسی کو انکار نہیں ۔ وہ تو سب کو آنی ہے مگر وسائل کی کمی ، علاج معالجہ میں سستی کی وجہ سے وقت سے پہلے آجانے کا سبب بنے تو دکھ درد رنج والم میں اضافہ فطری عمل بن جاتا ہے۔
صوفی صاحب کا علاج ممکن تھا اگر وسائل کی فراوانی ہوتی اور ہمارے نصیر آباد ریجن میں کوئی اچھا ہسپتال ہوتا تو ہم صوفی محمد ابراھیم کھوسہ کے ساتھ ساتھ کئی اہم انسانی جانوں کو بے وقت موت سے بچا سکتے تھے۔مگر ہم لوگ اس ریوڑ کی مانند ہیں جو چپ چاپ اپنے چرواہے کے اشارے پر چلتا رہتا ہے۔ مجال ہے جو ہم اپنی اس عادت سے ٹس سے مس ہوۓ ہوں۔بلکل اسی خاموش ریوڑ کی طرح ہم ان اندھے بہرے گونگے ان پڑھ جاہل نا اہل اور سلیکٹیٹڈ حکمرانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔
ہر بار الیکشن میں انہیں ووٹ دیکر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ۔ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے وہ عیاشیاں کرتے ہیں ہمارے وسائل سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔اپنے مال ملکیت میں اضافہ کرتے ہیں ۔اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاتے ہیں اپنا علاج مہنگے ہسپتالوں سے یا بیرون ملک کرواتے ہیں ۔ ان کے کتے بھی گوشت کھاتے ہیں ۔مگر ہمارے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ پینے کے لئے صاف پانی نہیں ملتا ۔ ہسپتالوں میں پیراسٹامول گولی تک نہیں ملتی ۔ تعلیمی سال کے اختتام تک درسی کتب کے ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ گندگی سے پھیلنے والی بیماریوں جیساکہ ملیریا، ٹائیفائیڈ، ہیضہ، خارش ، کالا یرقان دل اورگردے کی بیماریوں کیساتھ ساتھ وبائی موذی امراض نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ مگر مجال ہے جو ان کے کانوں پر کوئی جوں رینگی ہو۔جو کبھی کوئی ڈھنگ کا ہسپتال یا کوئی اچھا تعلیمی ادارہ یا کوئی لائبریری بنانے کی زحمت گوارا کی ہو یا پھر کوئی تفریحی مقام بنایا ہو۔کوئی کھیل کا میدان ، کوئی پارک، کوئی میوزیم، کوئی چڑیا گھر ، کوئی سڑک بنائی ہو۔ ہمیں اپنے حوصلے کی بھی داد دینے ہوگی۔
کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی اسی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں۔بس کرو یار بس ! میرے خیال میں بہت ہو گیا۔اب اور کتنا برداشت کروگے۔کونسے مسیحا کا انتظار کر رہے ہو ؟ وہ آئیگااور آپ کے مسائل حل کر دیگا۔ہمیں اپنے لوگوں کےلئے اپنی آنیوالی نسلوں کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

مندرجہ ذیل چند تجاویز کو زیر غور لا کر ہم آنے والے وقت کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ اور خوشحال بنا سکتے ہیں ۔
1.ہمیں اپنے روایتی طرز زندگی کو بدلنے کے لئے اپنے علائقوں کےان نام نہاد نوابوں،سرداروں، میروں ، وڈیروں ،پیروں اور پھر ان کے گماشتوں ٹکریوں، نائبوں ، کمداروں، رئیسوں اور خلیفوں سے(جو بہت تھوڑے اور اقلیت میں ہیں اور ہم جو بہت زیادہ ہیں اور اکثریت میں ہیں) جان چھڑانا کر ان سے قطع تعلق ہونا پڑیگا۔
2۔ آئندہ کسی بھی الیکشن میں ان کو ووٹ نہ دینے کا عزم کرنا ہوگا۔
3۔ ان سے سوشل بائیکاٹ کرکے ان کی کسی شادی و غمی میں نہیں جانا ہوگا۔جیسے وہ نہیں آتے۔

4۔اور پھر ہمیں ہر آنی والی الیکشن میں اپنے ہی کسی اچھے علم دوست، ادیب، شاعر دانشور، صحافی ، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، سیاسی ورکر کو ان کے مقابل کھڑا کر کے جتواکر ان کی جگہ ایوانوں میں بھجوائیں گےتو آپ کے اچھے ہسپتال بھی بن جائیں گے تو بہترین تعلیمی اداروں کا قیام بھی ممکن ہو پائیگا۔پھر نہ موت ہم سے کوئی صوفی صاحب جیسی ہمہ جہت شخصیت وقت سے پھلے چھین سکتی ہے اور نہ ہی کوئی میر معتبر نواب سردار ہمارے بچوں سے ان کا خوشحال مستقبل۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!