بلوچ عورت کے ساتھ ظلم    

Spread the love

  تحریر:جان گل کھیتران بلوچ


میں آج ان مظلوم بلوچ عورتوں کو انصاف کے لئے بات کرنے چلا ہوں ہمارے بلوچستان میں اب ہماری عورتوں کو شہید جا رہا ہے جیسا کہ 26مئ کی رات کو ڈنک تربت میں پیش  آنے والا واقعہ نے پورے بلوچستان میں ایک درد ناک واقعہ تھا جس میں برمش کی والدہ کو شہید کردیا گیا اور معصوم پھول کی کلی کو شدید زخمی کیا گیا جس کے لئے پورے بلوچستان میں مختلف شہروں علاقوں میں بڑی تعداد میں عوام نے برمش کو انصاف دلانے کے لئے  احتجاجی ریلیاں نکالی گئ تھی جس میں ان کو انصاف نہ مل سکا وہ ابھی بھی پورا بلوچستان انصاف کے تکاظوں پے بیٹھا ہوا ہے   اس کے بعد ضلع کیچ کے علاقے دازن تحصیل تمپ میں   ڈکیتوں نے رات کو گھر میں گس کر  کمسن بچوں کے سامنے ان کی والدہ کو چاکوں مار کر کلثوم بلوچ کو شہید کردیا گیا ہے یہ اس طرح کے درد ناک واقعے ہم بیان کر کر تھک گائے ہیں ہم اپنی فریاد کن کے پاس لے جائے دل کرتا ہے زمین کو کہوں منہ کھول میں اندر جاتا ہوں میرے سے یہ درد برداشت نہیں ہو رہے ہیں برمش کا واقعہ ہوا اس پے انصاف نہیں ملا اب پھر کلثوم کو شہید کیا گیا  اس طرح بلوچ قوم عورتوں پے ظلم دیکھتی آ رہی ہے اور اس طرح اب بلوچ لیڈر بانک کریمہ بلوچ جو بی ایس او کی چیئرمین بھی راہ چکی ہے جو اپنی زندگی کی بقاء کی خاطر کینیڈا چلی گیا افسوس وہ درندوں سے نہیں بچ کسی آخر درندوں کے ہاتھوں سے بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے جو ہمیشہ انصاف کی بات کرتی تھی حق پے بات کرتی تھی اس کا جرم یہ تھی کہ کسی معصوم کی آواز بنتی تھی ظلم کو ڈٹ کے ظلم کہتی تھی دل میں کسی کا خوف نہیں رکھتی تھی جس کی وجہ سے آج اس کی آواز کو ہمیشہ کے لئے دفنایا گیا ہے یہ بلوچ قوم کے لئے بہت ہی درد بھی داستان ہے جو ہم کبھی معاف نہیں کریں گے اور یہ سب یاد رکھا جا رہا ہے آخر یہ کب تک کرو گے آج تم طاقت ور ہو ہمیشہ طاقت نہیں رہتی۔
یہ بلوچ قوم میں خوف ڈالا جاتا ہے یہ یاد رکھیں تمہارے ظلموں سے اب بلوچستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے ایک کریمہ کے بعد کئی لیڈر پیدا ہوں گی آپ کے گلے میں پکڑیں گی وقت کا انتظار ہے وقت آئے گا ہم آئیں گے حساب لینے ایک ایک خون کے کترے کا حساب لیا جائے گا کریمہ بلوچ پے کبھی چپ نہیں رہا جائے گا کریمہ نے یہی سکھایا مزاحمت زندگی ہے وہ ہمیشہ مزاحمت کرتی رہی مزاحمت اسی نے کرنا سکھائ ہے اور اس کی مزاحمت کبھی نہیں ختم ہونے دیں گے کریمہ بلوچستان کے چوٹیوں میں گھٹائو میں میں میں زندہ ہے کریمہ اب صرف تربت میں نہیں کریمہ اب بارکھان میں کریمہ اب ڈیرہ غازی خان میں کریمہ اب بلوچستان کے ذرے ذرے میں موجود ہے ہر پھر سے ہر ٹہنی سے کریمہ کی آواز آئے گی یاد رکھو یہ جنگ مردوں کی ہے عورتوں کی نہیں اس میں بچے عورتیں بے قصور ہیں اس کو اپنی جنگ میں نہیں لایا جائے بلوچ قوم نے ہمیشہ عورت کی عزت کی ہمیشہ عورت کی حفاظت کی ہے آج بلوچ قوم کی عورتوں کے ساتھ یہ ظلم ناقابل برداشت ہے۔
مزاحمت مزاحمت۔
انقلاب آئے گا انقلاب آئے گا انقلاب آئے گا
آج تم کرو جو کرنا ہے کل ہمارا وقت آئے گا۔
وہ سکون سے کمروں میں پڑھے تھے۔
ہم انصاف کے لئے  سڑکوں کھڑے تھے۔
انہوں نے بہت ظلم کئے ہیں۔۔
ہم نے بہت درد سہائے ہیں۔
تم ظلم کرتے رہو گے۔
ہم نکلتے رہیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!