صحافی کیا کرے ؟

Spread the love

تحریر حسین بخش سولنگی

ایک لڑکی کو ایک لڑکے سے محبت ہوگئی وہ اسکی کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستی تھی مگر لڑکا اسے گھاس تک ڈالنے کو تیار نہیں تھا لڑکی کی بارہا کوششوں کے باوجود لڑکا اسے قبول ناکرنے کی ٹھان چُکا تھا پھر اس لڑکی نے اسکے قریبی دوست احباب یہاں تک کے گھر والوں کی بھی منتیں کی لڑکی کو لڑکے سے محبت جنون کی حد تک تھی اور وہ اسے راضی کرنےکے لیے جان تک دینے کو تیار تھی اس دوران کافی عرصہ گزر گیا لڑکی کی باربار منت سماجت پر ایک دن اس لڑکے کو اس پر رحم آہی گیا اس نے سوچا کے اب اسکی محبت قبول کرلے اور اسے اپنا ہمسفر بنالے موقع پا کر ایک روز لڑکی نے روایتی انداز میں محبت کا اظہار کیا اور لڑکے نے شرائط و ضوابط کے بعد اسکی محبت قبول کرلی دونوں نے کچھ عرصہ افیئر چلایا اور پھر شادی کرکے ہنسی خوشی رہنے لگ گئے نصیرآباد میں صحافیوں کے آئے روز نت نئے اسکینڈلز کے پیچھے بھی اسہی طرح کے معاملات ہیں جو کبھی کبھی سامنے آبھی جائیں تو عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے حال ہی میں نصیرآباد کے سینئر صحافی ایوب کھوسہ کا واقعہ آپ سب کے سامنے ہے انکی وائس کال ریکارڈنگ وائرل ہونے سے قبل نصیرآباد میں ترقیاتی کاموں میں کرپشن کے خلاف انکی بھرپور مہم جاری تھی مقامی ٹھیکداروں کےناک میں دم کردینےوالے صحافی ایوب کھوسو نے دلیرانہ اور جرت مندانہ فیصلے کیے اور ٹھیکے داروں کے تمام کالے کرتوت عوام اور حکام کے سامنے لانے کی سرتوڑ کوشش کرتا رہا اس دوران ایوب کھوسہ سے میری سینکڑوں ملاقاتیں ہوئیں ہر ملاقات میں ان سے ترقیاتی کاموں میں کرپشن کے اشو پر جاری انکی مہم کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہتی تھی وہ بتاتے تھے کے ٹھیکدار اور کچھ نا کریں بس جو منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے انہیں مکمل کرلیں مجھے اور کچھ نہیں چاہیے، انکی ایک اہم مہم ایک جانب انہیں عوامی حلقوں میں پزیرائی دلوارہی تھی تو دوسری جانب ٹھیکہ دار اسکے رسمی دشمن بنے ہوئے تھے اکثر ایسا ہوتا ہے کے جب بھی کوئی معاملہ تشویش پکڑ لیتا ہے تو چھوٹی سے چھوٹی غلط فہمی اسے ضد کی طرف لے جاتی ہے ٹھیکہ دار انکی بارہا منتیں سماجتیں کرتے رہے مگر وہ اپنے مشن کو روکنے کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار ناتھے انکے لیے اہم یے تھا کے ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں میں شفافیت آئے اور بہتر عمارتوں کی تعمیر ہو تاکے ضلع ترقی کے منازل تے کرے مگر ایک انسان سب کے ساتھ لڑسکتا ہے مگر اپنے آپ سے کب تک؟ ایوب کھوسہ کی ٹھیکہ داروں کے خلاف انکے ناقص کاموں پر جنگ جاری تھی اور وہاں ٹھیکہداروں کی منتیں سماجتیں بھی عروج پر تھیں ایسے میں ایوب کھوسہ نے ٹھیکہ داروں کو ٹرخانے کے لیے ہر ہربہ اپنایا اور کئی ایک حد تک کامیاب بھی ہوتا رہا لیکن ٹھیکہہ دار یے جان چُکے تھے کے ایوب ہربار ٹرخا دیتا ہے مگر خاموش نہیں رہتا زرائع کے مطابق ایوب کھوسہ کی جارہانہ صحافت کے خلاف مشترقہ طور پر ٹھیکہ داروں نے پلان بنایا اور ایوب کھوسہ کو جال بچاکر پھنسانے کی کوشش کی گئی اس بار ایوب کھوسہ کا مکمل اعتماد حاصل کرنے کے لیے ٹھیکہ داروں نے انکے قریبی دوست اور مقامی ٹھیکہ دار کو چُنا اور سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت انکی وائس کال کی ریکارڈنگ بناڈالی ایوب کھوسہ نے اگر پیسوں کے عوض خبریں لگانا بند کرنی ہوتیں تو وہ کب کا لیکر چپ کر بیٹھ چُکا ہوتا لیکن اسنے اس فون کال پر بھی حصب معمول ٹھیکہ داروں کو ٹرخانے کی کوشش کی جس میں پیسوں کا زکر بار بار ہوا وائس کال کی ریکارڈنگ وائرل ہوئی اورایک فیسبک اکاونٹ سے اپلوڈ کرادی گئی یوں ایوب کھوسہ کے ترقیاتی کاموں میں بدعنوانی کے خلاف جاری مشن کو بڑا جھٹکا لگا اور انکی ساری محنت و پزیرائی ایک وائرل کال ریکارڈنگ لے ڈوبی ٹھیکہ داروں نے ایوب کھوسہ کے خلاف شدید مہم چلانے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے اور اپنے کالے کرتوت چھپانے کے لیے بڑے بڑے اعلانات کرناشروع کردیے ڈھنڈورا پیٹا گیا اور پھرایک دم خاموشی چھاگئی مقامی صحافی ایوب کھوسہ نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی کے وہ کسی صورت بھی اپنے عہدکے برخلاف ناہو مگر منتیں سماجتیں جب ایک لڑکے سے محبت قبول کراسکتی ہیں تو ایوب کھوسہ ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی پر خاموش کیوں نہیں رہ سکتا بحرحال نصیرآباد میں صحافت سے وابسطہ افراد کو چاہیے کے کسی بھی عوامی مسائل کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے ایک دوسرت پر انحصار ناکریں کب تک ہم ایوب کھوسہ جیسے صحافیوں کے آسرے پر ٹھیکہ داروں کے خلاف نا بولیں گے اور لکھیں نا لکھیں گے ؟کب تک یوں ہی ترقیاتی منصوبے کاغذاتی کاروائی میں تو مکمل ہوتے رہیں گے مگر حقیقت میں نامکمل کے نامکمل رہیں گے نصیرآباد میں عوامی آواز کو حکام تک پہنچانے کے لیے ایک اہم صحافی اتحاد کی اشد ضرورت ہے وگرنا ایک ایک ایوب کھوسہ تو ہردفعہ جنم لیتا آیا ہے جو کبھی منتوں سماجتوں پے خاموش ہوجاتا ہے تو کبھی وائس کال وائرل ہونے پر۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!