دس دسمبر عالمی یوم انسانی حقوق

Spread the love

تحریر: عامر نذیر بلوچ
(یونٹ سیکرٹری بی ایس او لوامز یونٹ)

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب دنیا میں کروڑوں انسانی جانوں کو محض مفادات کی آڑ میں بیدردی سے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا تب اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم نے انسانی جانوں کی حفاظت اور آئندہ دنیا میں جنگ بندی کیلئے دس دسمبر 1948 کو فرانس میں تاریخ ساز انسانی حقوق کے دستور کی منظور دی اور 1950 سے مکمل طور پر عالمی انسانی حقوق کی دستور نافذ العمل ہوا۔ چار سو سے زائد زبانوں میں عالمی انسانی حقوق کی دستور کا ترجمہ کیا گیا ہے۔
‏چونکہ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال دس دسمبر کے دن انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد سماج میں انسانی حقوق کے شعور کو اجاگر کرنا اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کا عہد کرنا۔
کراء ارض پہ رہنے والے تمام انسان خوا جس کا تعلق دنیا میں جہاں سے بھی ہو کسی بھی رنگ، نسل، قوم اور زبان سے تعلق رکھتا ہو عالمی طور پر انکے لیئے حقوق دستوری شکل میں مختص ہیں۔ ہر انسان مختلف ذمہ داریوں کا اپنی صلاحیتوں سے مظاہرہ کرتا ہے جیسے صاحب اقتدار اور صاحب اختیار کی زمہ داریاں عام عوام کی ذمہ داریوں سے مختلف ہیں عالمی انسانی دستور کے مطابق ہر انسان تعلیم، صحت، روزگار اور آزادی اظہار رائے کے علاوہ دیگر بنیادی حقوق جو مستقل طور پر انسانی حقوق کو تحفظ کرتی ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں انسانی باہمی احترام کو یقینی بنایا وہ اقوام ترقی کی سفر میں کامیابی سے آگے بڑھتے ہوئے آسمان کی بلندیوں پر پہنچی ہے جبکہ سویت یونین، ہٹلر کی نازی ازم اور دیگر طاقتور ریاستوں کا زوال کی بنیادی وجہ ہی مسلسل انسانی حقوق کی پامالی ہے اسی وجہ سے دنیا کہ ہر مذہب نے ایک دوسرے کا احترام اور خدمت انسانیت کا درس دیا ہے۔
یو این رائٹس کا اولین تقاضہ ہے کہ تمام اقوام اپنے ممالک کے کمزور طبقات خصوصا خواتین اور مذہبی اقلیتی حقوق کا سہارا بنیں اور انہیں سماج میں اعلی مقام دلانے میں بھرپور کردار ادا کرنے کا زور دیا ہے محکوم طبقات کے ساتھ امتیازی رویوں اور دیگر قوانین جو تقسیم کو دوام بخشتے ہیں ان مسائل کے خاتمے کو یقینی بنانا لازم ہے۔ اب اگر اس دستور کا تعمل سے جائزہ لیں تو پچھلے ستر سالوں سے یہ دن عالمی سطح پر منایا تو جاتا ہے لیکن ان اقدامات سے دنیا میں بہت کم تبدیلی دیکھنے کو ملا ہے جنگ عظیم دوئم کے بعد جنگوں میں مسلسل کمی آئی لیکن مثبت نتائج دنیا کی چند حصوں تک ہی محدود رہا۔ آج کے جدید دور میں جنگ کیلئے حالات تو قدرے مختلف ہیں پہلے ہتھیار اور طاقت کا بےدریغ استعمال ہوتا تھا آج جنگ ہتھیاروں کے بجائے معاشیات تک پہنچا ہے جو ضرور شور سے جاری ہے۔
محکوم و مظلوم طبقات ہمیشہ ان بنیادی حقوق سے محروم رہے ہیں ایسا لگتا ہیکہ یہ حقوق دنیا کے چند ہی حصوں تک نافذ العمل ہے باقی دنیا میں جیسے بلوچستان، کشمیر، فلسطین، کردستان و دیگر اقوام جو پچھلے سینکڑوں سالوں سے اپنی حق خودارادیت اور قومی خودمختاری حاصل کرنے میں جنگ کی حالات سے گزر رہے ہیں جانوں کا نظرانہ دیا جارہا ہے لیکن مجال ہیکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ سمیت کوئی تنظیم آواز بلند کرے اور ان مسائل کا مستقل حل تلاش کرے۔ دنیا میں محکوم و مظلوم اقوام ہی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ اقلیت کو ہمیشہ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کائنات میں انسانی جان سے زیادہ حرمت والی کوئی چیز نہیں مگر افسوس آج ہمارے معاشرے میں انسانی خون کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی قتل و غارت گری سے خوف کا لہر شروع ہوا ہے۔
آج کا دن ہمیں یہ درس دیتا ہیکہ مہاتمہ گاندھی، نیلسن منڈیلا، باچا خان، عبدالستار ایدھی جیسے انسانوں کو اچھے لفظوں میں یاد رکھتا ہے جو قومی حقوق اور خدمت انسانیت کیلئے اپنی پوری زندگی عدم تشدد کے راستے میں قربان کرتی ہے اور تاریخ کے صفوں میں سنہری الفاظ میں محفوظ ہوتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!